نظم
کنیز بتول
یارب تیرے ہی فضل کا ہے آسرا مجھے
ورنہ تو من سے خاک ہو آ ئی صدا مجھے
تو ہے کریم وقادر و مطلق میرے
خدا
کرنی ہے بارگاہ میں تیری التجا
مجھے
ذادِسفر نہیں ہے اور وہ بھی دور
ہیں
کیسے سہوں جدا ئی کو تو ہی بتا
مجھے
اس دلربا کا سن کے چلی جو گھر سے میں
راستے میں دیکھتی آ ئی ہے کرب و بلا مجھے
جن سے وصال یار کا پیارے ھو معجزہ
کر وہ عطا جناب سےلفظ ء دعا مجھے
بے کل ھو ں بے قرار ہوں آزار ہجر
ہے
دیدار ان کا بخش کے دے دے شفا مجھے
سنتی ھو ں ان کو ہاتھوں سے تو نے
بنایا ہے
تجھ کو انہی کا واسطہ ان سے ملا مجھے
یعقوبی آنسو رکھتی ہو ں میں دل کی عین میں
تو اپنے فضل سے میرا یوسف ملا مجھے

