شعر و شاعری

غزل

Spread the love

منصورہ من

بدن کی قید میں ہے روح اور گھٹن سی ہے

ادھورے خواب ہیں انکھوں میں اک چبھن  سی ہے

خوشی کے زائقے چکھنے سے ہے گریز مجھے

غموں میں ڈوب  کے رہنے  کی اک لگن سی ہے

کبھی ہے  درد کے صحرا کبھی غمِ  دریا

یہ راہ عشق ازل سے  زرا  کٹھن سی ہے

نہ کوئی فکرِ زمانہ نہ فکرِ ہستی ہے

کشن کی چاہ میں رادھا ابھی مگن سی ہے

خموش چپ سا ہے اتش فشاں پہاڑ مگر

جلا کہ راکھ نہ کر دے  دبی اگن  سی ہے

تمام گرہیں وہ جاتے ہوے تو کھول گیا

بدن پہ کیوں میرے اب تک مگر شکن سی ہے

میں آنکھ  موند لوں اُٹھوں نہ پھر قیامت تک

مرے وجود میں برسوں کی اک تھکن سی ہے

یہ وحشتوں کی کہانی اداس افسانے

غزل سرا ہے  جو لڑکی ہماری منؔ سی ہے

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *