پہلا قدم!
تحریر: اچھی آپا
گود میں ننھے کاشف کو ڈالے وہ اس سے کھیلتے لاڈ کرتے ہوئے نجانے کس تصور سے پہلے تو اسکی آنکھیں بھیگ گئیں
اس نے ہر چند اپنے تصور سے اس خیال کو جھٹکنے کی کوشش کی لیکن یہ تصور کسی غیر کا تھوڑی تھا
ننھا کاشف بھی ہنستے ہوئے اسکی خاموشی پہ ہاتھ ہلانے اور ہنسنا چھوڑ اسکے سینے سے لگ گیا تھا
اسکی بھیگی آنکھیں جل تھل ہونے لگیں؛
پھر برداشت جواب دے گئی راحیل اسکا شوہر بہت خیال رکھنے والا ہمت بندھانےوالا تھا یہ ان دونوں کی پسند کی شادی تھی وہ جاب پہ جاچکا تھا اور وہ گھر سمیٹتے سمیٹتے کاشف کے جاگنے کے بعد ماما ماما کی آواز پہ دوڑی آئی اور اسے اٹھا کر فیڈ کرواکر اس سے کھیلنے لگ گئی تھی
پر یہ رم جھم آنکھوں کا ساون بھادوں اب سیلابی ریلا بن چکا تھا
اتنی بڑی قیمت چکانی پڑے گی اسے اپنے سکون اور آرام کے لیے اس آسودگی اور محبت کی خواہش نے اس سے بہت کچھ چھین لیا تھا جس میں رشتوں کے ساتھ ساتھ قلبی سکون بھی تھا اطمینان ہوتے ہوئے بھی بے سکون ، خاوند کا پیار ہوتے ہوئے بھی کسی کمی کا شدید احساس جو روح کو بے چین کر دیتا اسکے منہ پر ننھے ہاتھوں سے کاشف زور زور سے مار رہا تھا پر اسکے آنسو ہچکیوں سے چیخوں میں کب بدل گئے اسے پتہ بھی نہ چلا
یہ بے بسی بے اختیاری اب اسکی طبعیت کا حصہ بن چکی تھی راحیل گھر سے نکلتا تو وہ دن میں ایک بار اس صورت حال سے ضرور گذرتی
حالانکہ شادی کے ابتدائی چھ ماہ اس نے نہ مڑ کے دیکھا نہ ہی بہت سوچا
تب بھی اس کے دل میں ان رشتوں کی تڑپ تو تھی جن کو وہ اپنی خوشی کی خاطر چھوڑ آئی تھی
اسے لگتا تھا اس نے ٹھیک کیا ہے ایسی صورت حال میں اسکو یہی کرنا چاہیے تھا
بیٹی بن کر سوچا تو بھائی مجرم نظر آیا جس نے اسکی ایک نہ سنی اور بار بار اپنے پہ ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کیا لیکن وہ اسے سمجھوتے پہ ہی مجبور کرتا
اور پھر سے اس بھٹی میں جلنے کے لیے کبھی خود چھوڑ جاتا کبھی اسے کوئی لینے آجاتا تو بھیج دیا جاتا،
اسے ماں کے گھر کی جنت سے اس دوزخ کا سفر بہت مشکل لگتا حالانکہ دو ننھی جانیں اب اسکے وجود کا حصہ بن چکی تھیں لیکن لاڈوں پلی نازوں میں بڑھی کو انکی کم اپنی خوشیوں کی فکرزیادہ تھی اسے اپنی ذات پہ ہونے والے ظلم چبھتے تھے جلتی پر تیل کا کام ہمسائیوں کے اوپر والے پورشن میں ایک خوبرو نوجوان کرائے دار کی حوصلہ افزائی نے کردیا
وہ کبھی کبھار اوپر سے گھر میں ہونے والی لڑائیوں کو دیکھتا اور اسکے خاوند کی عدالت سے ملنے والی چھوٹی بڑی سزا پہ ترس آتا
وہ انگور کی بیل کے پیچھے تھوڑا جھک کر نجانے کیوں انکے صحن میں تامل جھانک کرنے لگ گیا اور اسے اس لڑکی سے ہمدردی ہوگئی کیسے سارا دن کولہو کا بیل بنی کام میں جاتی رہتی یہ ترس کب عشق بن گیا کیسےبات چیت میں اشارے کنائے بے تکلفی میں ڈھل گئے پتہ ہی نہ چلا
اور وہ دوزخ میں رہتے ہوئے بھی اچانک سے ہواؤں میں اڑنے لگی تھی اکثر بننے سنورنے لگی تھی
خاوند کی عدالت میں نندوں اور ساس کی الزام تراشی اور ملنے والی سزا بھی نہ دکھتی
بچوں سے بھی طبعیت بھرنے لگی کیسی ماں تھی جسے بچے بھی اپنی معصومیت اور نزاکت میں نندوں جیسے چالباز اور خاوند جیسے جابر نظر آنے لگے تھے
یہ دل کی خواہش نفس کی ترکیب شیطان کے وسوسے سے ملے تو شرافت اور حیا کے لبادے نظروں سے اترے اور اترتے چلے گئے اسے پتہ بھی نہ چلا وہ کب سے بےلباس ہوچکی تھی
عشق کی خوشبو پھیل کر جرم بن چکی تھی اور اسکی سزا میں اسے زنداں میں بند کردیا گیا تھا اور اسکے میکے بھی اطلاع کردی گئی تھی وہ بھی شرم سر سے جھکا کر رہ گئے
چھت پہ کھڑا ہیرو زیرو ہوگیا اچانک اس بدنامی کے ڈر کر کدھر گیا کوئی پتہ نہ تھا
ساس اور نندوں نے گھر کے کاموں کے لیے اسکی آزادی کی درخواست جمع کرانے لگیں
بھلا نوکر بند ہو جائے تو گذارہ کب ہوتا ہے سو کنیز کو دھمکیاں دے کر رہا کردیا گیا
لیکن پھر اسے ایک پیغام ملا پیغام کیا آزادی کا پروانہ ہی لگا ہیرو نے اسے ایک ہرزہ بھیجا تھا کاغذ کا دوسرے مرحلے کی اسکی سہیلی آئی تو چپکے سے اسکے ہاتھ پکڑا گئی اس نے ادھر نظر دوڑا کر دوپٹے کے نیچے سے پکڑ لیا
کمرے میں جاکر دیکھا پڑھا اور پرزے واش کردئیے احتیاط لازم تھی لیکن یہ سب وہ کیسے کر پائے گی
وہ سوچ میں پڑ گئی بچوں کو دیکھا اپنے بازو پہ پڑے نیل دیکھے جو صبح ہی خاوند نے اپنی محبت کے ثبوت کے طور پہ اسے دئیے تھے
اپنے سے محبت کرنے والی معصوم بچوں کی اپنی خوشی کے لیے بلی دے گئی
کہتے ہیں نا کہ،، بندریا کے پاؤں جلتے تو اس نے اپنےبچے پیروں تلے لے لئیے،۔
سحری وقت سب گہری نیند میں تھے اور وہ بیرونی دروازے پہ کھڑی ایک بیگ پکڑے دروازہ کھول کر چند سیکنڈ کے لیے سوچتی رہی
ایک قدم باہر کو اٹھا پھر واپس رکھا یہ پہلا قدم دوسرے کی پیروی پہ مجبور کرتا ہے
پہلا قدم نہ اٹھتا تو آج شاید ان بچوں کے پاس ہوتی یہ ضمیر کی خلش اسے یوں روز بلک بلک کر رونے اور اپنا رونا دوسرے خاوند سے چھپانے پہ مجبور نہ ہوتی
اور بہن بھائیوں سے علیحدہ دکھ سکھ میں اکیلی
بوڑھا باپ ہارٹ اٹیک سے نہ جاتا
لیکن جب نفس شیطان کے بہکاوے میں آجاتا ہے تو
دل کے لیے میں فیصلے پکے ہوجاتے ہیں اور
قدم تو اٹھتے ہی ہیں سو پہلا قدم دہلیز کے پار رکھا پھر دوسرا بھی اٹھ گیا آہستہ سے دروازے بند کیا پیچھے مڑ کر نہ دیکھا
پیچھے مڑ کر دیکھنے والے پتھر ہو جاتے ہیں
نیکی کی خوشبو پھیلتی ہے تو بدی کی بو سونگھنے والے بھی بہت ہوتے ہیں
سو اسکے اس اٹھتے قدموں کی برائی کو چسکے لے کر سسرال کی عورتوں نے بیان کیا اور سات شہروں نے سنا
مرد خود جو بھی کرے وہ شریعت کے سو جواز پیش کردے گا لیکن عورت کی غلطی یا مجبوری پہ کیا گیا فیصلہ اسے غیرت مند بننے اور دکھانے پہ زور وشور سے مجبور کرتا ہے اور یہ سب کرنے پہ اکسانے والی وہی ناں اور بہنیں ہوتی ہیں جو کسی کی بیٹی پہ ہوتے ظلم نہ صرف چپ۔چاپ دیکھتی رہتی ہیں بلکہ جلتی پر گاہے بگاہے تیل ڈال کر شعلوں پہ ہاتھ سینکتی
چسکے لگاتی نظر آتی ہیں سو اسکا خاوند جو پہلے ہی اپنی شکست پہ تلملا رہا تھا ان عورتوں کے بہکاوے نے اور شہ دی اور اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ کچہری پہنچ طلاق کے پیپر تیار کروا کر بھیج دئیے اندھا کیا چاہے دو آنکھیں اور برڈ کی آسانی سہیلی نے فون پہ سب بتا کر آسانی کردی وہ خلع کا دعویٰ کرنے کو سوچ کر بھی سہمے ہوئے تھے ڈر رہے تھے
اب سب آسان ہوگیا دونوں نے مقامی مولوی سے فون پر سہیلی سے تصدیق کروا کرعدت کے مکمل ہوتے ہی نکاح پڑھوا لیا
لیکن آج وہ ہزاروں خوشیوں میں بھی دکھی ، دل برداشتہ ضمیر کی خلش کے کوڑے کھاتی
اس پہلی نگاہ اور پھر اٹھنے والے پہلے قدم پہ پچھتا رہی تھی
من کی بے کلی چین نہ لینے دیتی تھی رہ رہ کر بچے یاد آتے
ننھے بچے کی آمد نے اسے بتایا
کہ اسکی جنت تو اسکے بچے تھے اور وہ اپنی تھوڑی سے خوشی کے لیے وہ جنت ان درندوں کے پاس چھوڑ آئی تھی جن کے ظلم سے وہ خود تنگ تھی تو وہ کیسے ؟ وہ تو چھوٹے چھوٹے معصوم بچے تھے جو کھانا کھانے کے لیے بھی انکے رحم و کرم پہ ہو گئے تھے
ہاں کیسے ؟ یہ سب اس وقت اسے سب بہت اچھا لگ رہا تھا س حال میں ہونگے ؟
ان پہ بھی وہی ظلم وہ بھی ویسے ہی اسکی طرح نوکر بن چکے ہونگے
اب ممتا نے سر اٹھا لیا تھا ننھے کاشف کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی وہ اپنے دل و دماغ کی اس تبدیلی پہ حیران ہونے لگی تھی
اس وقت یہ دل و دماغ عشق کی رنگینی کے قبضے میں تھے
لیکن اب وہ ممتا کے قتل اور ممتا کو داغ دار کرنے والی کو خلش اور کسک کی سزا دے رہے تھے
اور وہ بھگت رہی تھی ایسا کب تک چلے گا دو چاربار برقعہ پہن کر گھر تک گئی تھوڑی دیر گلی میں ہولے ہولے ایک چکر لگایا پر بچوں کو نہ دیکھ سکی واپس آگئی
نہ چاہتے ہوئے بھی واپس آنا پڑا
وہ دہلیز جس کو پار کر گئی تھی وہ اب اسے دوبارہ قبول نہیں کر سکے گی
اب اسی خلش میں جینا ہے شاید کبھی زندگی میں کہیں بھیڑ میں ان سے ملنا ہو جائے ان سے انکو دیکھنے کو گلے لگانے مچلنا پھر کشمکش میں اکثر بازار میں دیر تک پھرنا سزا ہی تو ہے آزادی کی سزا
بے حسی کے فیصلے کی سزا
پر اٹھے قدم واپس نہیں جاسکتے
اے کاش وہ دہلیز پارنہ کرتی
سب سہ لیتی کچھ اور
شاید سب ٹھیک ہوجاتا لیکن اسکے پاس اس ، شاید، کا نہ جواب نہ انجام نظر آرہا تھا
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


