متفرق

کباب میں ہڈی

تحریر: روبینہ خان کاکڑ

تمام طالبات کے چہروں پر تجسس و حیرت کے تاثرات کی چمک عیاں تھی۔ انگلیاں دبا کر خود کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہے تھے، تو کچھ خود کو جگانے میں، کچھ خود کو حالات کے لیے تیار کرنے میں۔ دل کی کیفیت کا حال کچھ یوں تھا کہ سب کے جذبات ایک ہی سمت رواں تھے۔ جب جذبات ایک سمت رواں ہوں تو خاموشی میں جذبات کی سنسناہٹ تیز ہونے لگتی ہے۔ اسے امید تھی کہ وہ پاس ہو گئی ہو گی۔ جنہیں اپنے فیل ہونے کا یقین تھا وہ بے فکر تھے اور ہنسی مذاق میں مصروف، شاید انہیں اتنی جلدی نہ تھی پاس ہو کر کچھ کرنے کی یا یہ جو کرنے والا جواز تھا وہ ان کے لیے ہو رہا تھا۔ کسی کے کپڑوں کا مذاق، کسی کے بالوں پر بات۔ امیروں کے گھروں سے آئی خوبصورت چہروں والی لڑکیاں، ان کے عالی شان لباس، فیل ہونا بھی ان پر خوب جچ رہا تھا۔ اور جنہوں نے محنت کی، انہیں اپنے فہرست میں آنے کا یقین تھا انہیں بھی خوف تھا، شاید سب سے دردناک خوف، کہ کہیں فہرست میں اس کا نام نہیں ہو گا، جیسے دیکھنا بس سے باہر ہو اور پھر درد خود اپنی ذات کو دے۔ کچھ ہاتھوں سے منہ ڈھانپے دعائیں مانگ رہے تھے، جیسے خدا کے سامنے کھڑے ہوں۔ اور اتنے دل و جان سے مانگ رہے تھے کہ سب کچھ بدل جائے، ان کے یقین کا درجہ یقین سے بھی بالاتر، جنہیں ابھی پرچوں سے لے کر نتیجے کے کاغذات تک کے بدلاؤ کے خواہشمند تھے۔

روشنا کو یقین تھا نہ وہ فیل ہو گی، اور نہ ہی فہرست میں آئے گی۔ وہ درمیان میں لٹکی رہی تھی، بچپن سے لے کر آج تک نہ وہ کسی کے حسد کا شکار ہوئی، نہ عقیدت مندوں میں، نہ لاپروا محفل کی شان میں ضم ہو سکی۔ ہال کے بیچوں بیچ وہ کچھ اور طالبات کو دیکھنے لگی۔ درمیان بھی عجیب ہے، اس کے اور اسٹیج کے درمیان کئی عقل و دانش والے لوگ بیٹھے تھے۔ وہ کیسے ہٹا سکتی تھی انہیں، ہٹانا ہی مشکل تھا، ان تک پہنچنے کے لیے یا تو پورے نظام کو بدلنا یا اپنے آپ کو پیروں تلے روندنا شرط تھی۔ پھر بھی کیا وہ پیچھے چھوڑ سکتی تھی؟ یہ حسد تھا یا رشک؟ رشک اور حسد کے درمیان کا جذبہ کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ کبھی ایک ہو سکتے ہیں؟ اور اپنے اس درمیان سے جہاں وہ تھی، وہ کیسے خود پیچھے قطار میں شامل ہو جاتی؟ پھر تو اپنی ہی خصلتوں پر پردہ ڈالنے جیسا ہوتا، جو وہ ہے وہی نہ رہتی۔ یہ راستہ سمجھنا روشنا کے ذہن سے بالاتر تھا۔ اگر وہ ان دانشوروں کی تعداد کو سامنے سے ہٹا دیتی، تو بہت سے لوگ پیچھے رہ جاتے۔ وہ کیوں چھوڑتی انہیں پیچھے؟ ایک کاغذ پر لکھے اسٹیج کے چند الفاظ کے لیے؟ کیا وہ انعام اسے انسانوں سے نفرت پر مجبور کر رہا تھا؟ جبکہ تالیوں کی ضرورت تو یہی انسان ہی پوری کرتے ہیں نا؟ روشنا انہی سوچوں میں گم تھی۔ مبارک بادوں کی دبی دبی آوازیں، لوگوں کے قہقہے، وہ سب سنتی جا رہی تھی۔ اگرچہ وہ درمیان میں ہی تھی، پھر بھی کئی سوال اس کے ذہن میں اٹھنے لگے۔ اور کئی سوالوں کے جوابات نہ پا کر، نا امیدیاں سمیٹ کر، اٹھنے کی ہمت کی۔ جیسے ہی اٹھی، بے اختیار آنسوؤں کی ایک دھار اس کی آنکھوں سے بہہ کر رخسار تر کرنے لگی۔ ہال سے نکل کر وہ کہیں دور جا کر درخت کے سائے میں بیٹھ گئی۔

‎گیٹ سے ایک گاڑی اندر داخل ہوئی جس کی ساخت و چمک نے ایک لمحے کے لیے اسے اپنی دلکشی میں قید کر لیا، ایک لمحے کے لیے تو وہ ساکت و ساکن کھڑی رہی۔ گاڑی بھی کس قدر غرور سے اندر آئی تھی۔ جان! چیزوں میں بھی غرور ہوتا ہے، ہوتا ہے شاید اپنی قیمت و نایابی کا۔ کیا جانداروں سے یہ غرور ان میں منتقل ہو جاتا ہے؟ خوبصورت کالے بالوں والی لڑکی، کالا لباس، کالے بال، ہوا میں لہراتے ہوئے ہر چیز سے بے نیاز، یہ زمین بھی جیسے خود کو خوش نصیب کہہ رہی ہو۔ ہر خوبصورتی اس کے سامنے جھک رہی تھی۔ میرے بال تو کبھی ایسے نہیں لہرائے۔ کیا غریبوں کے بالوں میں لہرانے کی خاصیت نہیں ہوتی؟ کپڑوں پر ایک تکدان نما پرانے زمانے کی ریت والی گھڑی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ آخر تکدان ہی بنا لیتی ان کی بھی۔

‎کیا زندگی ہے، برہنہ تصویر بنا کر ٹرینڈ کا نام دے لو تو خوشی خود پہن لے، اور ہم اسی شے کو پانے کے لیے کل اثاثہ تک گنوا دیتے ہیں۔ کٹھ پتلیاں اور ہم تماشائی، اگر تماشائی اسی ریس میں شامل ہونا چاہے تو نظام اسے قبول ہرگز نہ کرے، میدان میں آنے کے لیے وہ ذرائع ہونے چاہیے جو معاشرے کے معیار پر پورا اترے۔ قمیض پر بنی گھڑی سنہرے رنگ سے رنگی۔ وہ لڑکی جا چکی مگر وہ گھڑی، ایک گھڑی وقت کا کیسے پتہ دے سکتی ہے؟ ایک مصنوع شے، قدرت کا کیسے پتہ دے سکتی؟ قدرت کو بالاتر ہونا چاہیے تھا یا بڑوں کی بڑائی حقیروں سے ہوتی ہے؟

‎اور گھڑی میں ریت ڈالنے کا مقصد؟ کیا مٹی میں وقت کے تعیین کی وہ خاصیت نہیں؟ پانی ہوتا تو؟ نہیں، پھر درمیانی تنگ نالی کو اور تنگ ہونا پڑتا۔ سوچتے روشنا ایک دم سے چونک گئی۔ تکدان میں ریت نہیں بلکہ ریت کی اہمیت اس درمیان کی بدولت تھی۔ اگر درمیان نہ ہوتا تو؟ اوپر کی اونچائی، نیچے کی گہرائی، کا تعین درمیان سے ہی تو ہوتا ہے۔ روشنا کی سوچ اس تکدان کو مہرہ بنا کر اسے تسلی دینے چلی تھی، کتنی اہم تھی یہ گھڑی۔ اس کی اہمیت سے انکار بھی تو نہیں کیا جا سکتا۔ کیا دن اور رات کے ہونے میں اس کا کوئی کمال تھا؟ عمر کا بھی تو پتہ ہم اسی سے ہی لگا رہے تھے۔ کیا عمر کو دنوں یا سالوں سے پتہ لگانا غیر سائنسی نہیں؟ پتہ تو تب لگتا جب ہماری سانسیں گنی جاتیں۔

‎تحریک اگر درمیان میں اٹھے گی، نظام کے رخ کا پتہ چلانا ممکن نہ ہو گا۔ اگر یہی درمیانی حصہ بغاوت کر دے، بڑا ہونے کا، تو کیا ریت اس ترتیب سے گرے گی؟ نظام کو تبدیل کرنے یا بگاڑنے میں درمیان کا ہی تو کردار تھا۔ اگر درمیان میں میں نہ ہوتی تو نہ کوئی قہقہے لگاتا اور نہ کوئی پاس آنے کی دعا کرتا۔ کپڑے جھاڑ کر وہ اٹھ گئی۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *