راکھ
تحریر: قددسیہ عالم
وہ ایک سیاہ رات تھی ،آسمان جیسے کسی نے سیاہی میں ڈبو کر زمین پر الٹ دیا تھا۔یا پھر اس کے مقدر کی سیاہی تھی جو چار سو پھیلی ہوئی تھی ۔بڑی سی چادر میں لپٹااس کا سسکتا وجود گھر سے نکلا، تاحد نظر تاریکی تھی دور کہیں کسی گھر سے آتی روشنی کی ایک لکیر اپنے وجود کا پتہ دے رہی تھی ،روشنی کی اسی کرن کو بیساکھی بنائے وہ زرا سا آگے کھڑی سیاہ ہونڈا اکارڈتک بڑھی اور دروازہ کھول کر اپنا لرزتا کانپتا وجود پچھلی سیٹ پر ڈھیر کر دیا۔
ڈرائیور نے آنسوؤں سے تر لال سرخ آنکھوں سے عقبی شیشے میں سرسری جھانکا اور رندھی آواز میں پوچھا چلیں ۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔دونوں کو تاکید زباں بندی تھی ۔
وہ پچھلی سیٹ پر سر نیہوڑائے اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔
غم ناقابل برداشت تھااور منانے کی اجازت نہ تھی۔
پر اس کی تو زندگی ہی غم مناتے گزر رہی تھی ۔
سال کے بارہ میں سے چھ مہینے برسیوں کے تھے، باقی کے چھ غم منانے کے انتظار میں کٹ جاتےتھے۔
ابھی بھی وہ چیخ چیخُ کر رونا چاہ رہی تھی، سینہ پیٹ کر واویلا کرنا چاہ رہی تھی ۔۔ کاش کہ اسے اجازت ہوتی۔
گلیوں گلیوں سے ہوتی ہوئی گاڑی سڑک پر آ گئی تھی۔
یہاں سے وہاں تک کے ڈیڑھ گھنٹے کےراستے کے ایک ایک انچ سے وہ واقف تھی۔
ابھی گاڑی مین بازار کے پاس سے اور ٹمبربازار کے بیچ سے گزرے گی۔ گاڑی اس دکان کے سامنے سے بھی گزرے گی جہاں سے بھائی نے لکڑی کا وہ پہلا جھولا خریدا تھا۔وہ کتنی خوش ہو رہی تھی اس رنگین پایوں والے جھولے کو دیکھتے ہوئےاور ایک پیارے سےصحتمند بچے کا تصور کرتے ہوئے۔مین بازار سے اس کی ماں نے ساری خریداری کی تھی اسے یاد ہے اس کے بیڈ پر ننھی منی چیزوں کا ڈھیر لگا تھا۔ وہ نرمی سے ہر چیز کو چھوتی اور ایک ان دیکھے ننھے بچے کا لمس ان میں ڈھونڈتی ۔ چھوٹے چھوٹے کپڑوں کا یہ ڈھیر اس نے مستقبل کے خوش آئند تصور اور دلی دعاؤں کے ساتھ سمیٹا تھا ۔
پرخوشیوں کا یہ ڈھیر راکھ کیوں ہو گیا، اس کا دل جل کر کوئلہ کیوں ہو گیاتھا۔۔
اس کی سسکیوں میں شدت آ گئی تھی،تین دن پہلے اسے اپنے بند کمرے میں بھائی کے ایکسیڈنٹ کی روح فرسا خبر ملی تھی وہ سائیں سرکار کی تین دن سے منتیں کر رہی تھی کہ ڈاکٹرامید نہیں دلا رہے مجھے جیتے جی مل لینے دیں میں کسی سے بات نہیں کروں گی اپنا راز نہیں بتاؤں گی لیکن سائیں سرکار کا ایک ہی جواب تھا توسب کھو دے گی،سامنے سے آتی کسی گاڑی کی تیز روشنی پر اس نے سر اٹھایااور اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹنے کی ناکام کوشش کی ، تین دن پہلے صبح سورج ویسے ہی طلوع ہوا تھا جیسا کہ لاکھوں سال سے ہوتا آیا ہے اس کے کمرے میں دھوپ کا سونا بکھرا تھا جالی لگی بڑی سی کھڑکی کا ایک پٹ کھلا تھا۔ قریب ہی ایک چھوٹے سائز کا فرج تھا جس میں موسمی پھل مکھن دودھ دہی بالائی پنیر پڑے تھے۔
پاس میز تھی جس پر خشک میوےاور کچھ کھانے پینے کا سامان تھا۔ سائیں سرکار کا حکم تھا بہت اچھی اور بہت زیادہ خوراک لینی ہے ، وہ یہی کچھ کر رہی تھی، جو خوشی اسے چاہئے تھی اس کے لئے تو وہ کچھ بھی کر سکتی تھی یہ تو بس کھانا پینا تھا اور آرام تھا
کھڑکی کی مخالف سمت دیوار کے ساتھ بڑا سا بیڈ تھا جس پر سارا دن اسے لیٹنے کے علاوہ کوئی کام نہ تھا ۔
صبح کے دس بجے تھے ، دس ہوتے یا بارہ اسے کیا غرض تھی سوائے کھانے پینے کے اور خوش رہنے کے اسے کوئی کام نہ تھا اور یہی سائیں سرکار کی تاکید تھی۔
دل میں خوش آئند جذبات امنڈ رہے تھے۔ اس نےکروٹ لی میز اور فرج کو دیکھا ۔ ناشتہ صبح سات بجے ہو گیا تھا ۔
اس نے اپنے پھولتے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھا کچھ محسوس کرنے کی کوشش کی اوراٹھ کر کمرے میں بالکل ہلکے قدموں چہل قدمی شروع کی ہی تھی جب سرہانے پڑا گھر کا فون بجا اور اسے بھائی کےایکسیڈنٹ کی خوفناک خبر ملی تھی اور اس نے اسی وقت سائیں سرکار سے پچھوایا کہ کیا وہ چلی جائے، نفی کے جواب کو پہلے اور دوسرے دن برداشت کیا ،سائیں سرکار نے تسلی دی تھی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا تم اپنا خیال رکھو اور اپنے مستقبل پر توجہ دو، اس کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔ اس کا ماں جایا ہسپتال میں تھا، سر کی چوٹ تھی ۔ بچنے کی امید نہ تھی ، وہ چاہتی تھی کہ بھائی کو ایک آخری بار دیکھ لے مگر اجازت نہ ملی ۔ پچھتاوے کے بچھو ڈنک مار رہے تھے اور اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر روئے کہ اس نے کیوں سائیں سرکار کی بات مانی ؟
اسی راستے پراسی جگہ تھوڑا سا ہی آگے قبرستان تھا۔قبرستان کے پاس سے گاڑی گزررہی تھی جب اسے یہ جان لیوا احساس ہوا کہ وہ کیوں سائیں سرکار کی بات ماننے پر مجبور تھی، آنسوؤں کی جھڑی لگاتار بہہ رہی تھی اس نے روتے بلبلاتےاہل قبور کے لئے سورہ فاتحہ پڑھی ۔
اس قبرستان تک وہ کئی مرتبہ گھر سے پیدل آئی تھی، یہاں تک پہنچ کر چند قدموں کے بعد وہ رکتی جیسے مزید چلنے کا یارانہ ہو۔۔
جیسے اپنے ہر اٹھتے قدم سے اس کا اپنا ہی دل مسلا جا رہا ہو اور جیسے سینے میں دل نہ ہو ایک گھاؤ ہو جو ہر حرکت کے ساتھ گہرا ہو رہا ہو۔۔
یہاں کی مٹی اسے بہت خاص لگتی ، یہاں کا زرہ زرہ اسے روزانہ کھینچ کر لے آتا، پچھلے پندرہ سالوں میں خداجانے کتنی صبحوں کا سورج اس نے یہاں طلوع ہوتے دیکھا، بلکہ نہیں اس نے کبھی نہیں دیکھا کہ کب سورج طلوع ہوا کب سوا نیزے پر آیا اور کب سر پر ؟
اکثر گھر سے کوئی آکر اسے پیار سے بہلا پھسلا کر دن کے کسی پہر لے جاتا۔۔
اس مٹی میں اس کا اپنا وجود دفن تھا ۔روزانہ قبرستان کے دروازے پر آکروہ کشمکش کا شکار ہو جاتی پہلے کس قبر پر جائے ، کہاں سے شروع کرے روز ایک امتحان ہوتا روز وہ ناکام ہوجاتی کتنی ہی دیر وہ داخلی دروازے کے پاس کھڑی دور تک پھیلی قبروں کو تکتی رہتی ۔۔صحرا کی طرح خشک آنکھوں میں وہ سناٹا ہوتا جس کی گونج
دور دور تک سنائی دیتی ،پھر وہ قبروں تک جاتی ، مٹی کی چھ ڈھیریوں سےباری باری مٹی اٹھاتی اپنی آنکھوں سے لگاتی ۔مٹھیوں میں بھرکر سینے سے لگانے کی کوشش کرتی اور خالی ہاتھوں کو دیکھ کرتڑپ کر رو پڑتی۔
یہاں اس کے خواب،تمنائیں اور آرزوئیں دفن تھیں اس کی بےشمار راتوں کی گریہ وزاری اور بے قراری دفن تھی ۔
اس کے آنسو ان قبروں کی مٹی کو گیلا کرتے رہتے ۔
ہر روز وہ اپنی امیدوں اور امنگوں کی بے وقت موت کا اوراپنے زندہ ہونے کا ماتم کرتی اور روز خود کو یہاں دفن کرتی، اور جب کوئی زبردستی گھر لےجانے آتا وہ چلی جاتی لیکن مٹی کی یہ ڈھیریاں اس کے ساتھ ہوتیں کیونکہ یہ قبریں اس کے دل میں تھیں اور اس کا دل ان قبروں میں تھا ۔۔
پہلا بچہ کیا ہوتا ہے اور اس کی خوشی کیا ہوتی ہے کوئی اس سے پوچھتا؟اور دنیا کیسے اندھیر ہوتی ہے جب وہ پہلا بچہ ماں باپ مٹی میں چھوڑ کر آتے ہیں ؟
اسے کل کی بات کی طرح یادتھا وہ اس کا پہلا بچہ تھا ابھی نو ماہ کا ہوا ہی تھا وہ ہنستا کھیلتا بچہ جھولے میں قلقاریاں مارتا تو اس کا دل خوشی سے بےقابو ہو جاتا۔اوراچانک ہی بس چار دن کی بیماری کے بعد وہ اس کی گود خالی کر گیا۔ اس کے جانے کے بعد وہ جھولا کچھ عرصہ خالی رہا وہ خالی جھولے کو جھلاتی سب اسے منع کرتے لیکن وہ اسی کے پاس زمین پر بیٹھی رہتی ۔
پھر اگلے کئی سالوں میں وہ جھولا کئی بار آباد ہوالیکن اس کی خوشیاں ہر بار ہی برباد ہوئیں ۔۔
آہستہ آہستہ اس نے جھولے کے پاس بیٹھنا چھوڑ دیا تھا کیونکہ اب وہ خالی جھولے کے پاس نہیں بلک قبرستان میں پائی جاتی تھی ، مانو وہ اس کا دوسرا گھر بن گیا تھا ۔
اسی قبرستان کے دروازے پر اسے سائیں سرکار ملے تھے ، جنہوں نے اسے اس کے غموں کو خوشیوں میں بدلنے کی ایک نوید سنائی تھی پر جس کے ساتھ ایک کڑی شرط تھی اوراس شرط کی وجہ سے اس کےگھاؤزدہ دل میں وہ زخم لگا جس نے اسے ایک زندہ لاش بنا دیا۔
اسی وقت گاڑی حویلی کے عقبی دروازے کے ساتھ جا کررک گئی۔ڈرائیور نے دروازہ کھولا اترنے میں اس کی مدد کی اور تاریکی میں ہی دروازے کی طرف بڑھے یہ راستہ ان دونوں کا جانا پہچانا تھا۔
دروازے پر ماں استقبال کو کھڑی تھی اس کا وجود سسکیوں اور آہوں سے لرز رہا تھا ۔
دونوں گلے لگ کر تڑپ کر رو دیں ۔
آنسو پونچھتے ہوئے اس نے پوچھا کسی کو بتایا تو نہیں ، کمر خمیدہ وجود نے نفی میں سر ہلایا اور ایک طرف کو اشارہ کیا، تینوں سر جھکائے اسی سمت بڑھ گئے۔
جو منظر ابھی اسے دیکھنا تھا اس کا تصور روح سلب کر رہا تھا پردیکھنا تھا کیونکہ دیکھے بناساری عمر کی ُبیقراری مقدر ہوتی۔
اور پھر یہ تو ایک فرض تھا جس کی ادائیگی ہر حالت میں ضروری تھی۔
ہر قدم منوں بھاری تھا ، دو راہداریاں طے کرنا قیامت کے سفر کی مانند تھا۔
مطلوبہ کمرے کےدروازے کے باہر وہ رکے اور آہستگی سے کوئی آہٹ کئے بنا کمرے میں داخل ہو گئے۔
کمرے کے وسط میں بان کی خوبصورت رنگین پایوں والی لمبی چوڑی چارپائی تھی، جس پر سعودیہ سے لائی گئی سبز چادر اور اس کے اوپر سعودیہ سے لایا گیا ریشمی کمبل پڑا تھا۔
چارپائی کے پاس پہنچ کر اس نے لرزتے ہاتھوں سے چہرے سے چادر سرکائی ۔کفن سرکایا اور اس کمبل کے نیچے وہ وجود تھا جسے اس حال میں دیکھتے وہ بھربھری مٹی کی مانند ڈھہ رہی تھی۔
اس چہرے کو اس نے انگلیوں سےچھوا۔ یہ اس محبت نچھاور کرنے والے کا چہرہ تھا
جس نے بچپن میں اس کے آنسو پونچھے تھے،
جو ہر مرتبہ اس کے ہر آنے والےبچے کے لئے ڈھیروں تحائف لاتا،امید کے یقین میں بدلنے کی دعائیں اس کے ساتھ مل کر کرتا، اور پھر جب ہر مرتبہ اس کی گود اجڑتی تو ان نوخیز کلیوں کوان کی آخری آرامگاہ تک چھوڑنے کے بعد وہ اس غم زدہ بہن کی دلجوئی کرتا روانہ کرتا اورہر قبر پر اس کے ساتھ کھڑا ہوتا
اور آج…
وہ خاموش تھاوہ اسی راستے کا مسافر بن گیا تھا
اس کے لب ہلے،بھائی تم کیوں چلے گئے کہنا چاہا
مگر آواز نہ نکلی۔
آنکھوں کے آگے سب کچھ دھندلا گیا
اسے چکر سا اآیا۔
۔دو مضبوط بانہیں اسے تھامنے کو وا ہوئیں اور
آنکھوں کےآگے مکمل اندھیرا چھانے سے پہلے اسے اپنے حلق سے نکلتی چیخ کرب زدہ چیخ سنائی دی ۔
۴ اپریل ۱۹۹۲
صحن میں ہلکی سی دھوپ تھی ۔۔اس دھوپ میں کوئی خوش آئند سنہرا پن نہیں تھا لیکن ماتمی سلیٹی رنگ بھی تو نہیں تھا۔
اپنے ارمانوں کا ماتم منانے کے بجائے اس نے اپنے مقدر کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا، تعویذوں پیروں فقیروں کو چھوڑ کر اللہ سے لو لگا لی تھی ، دھوکہ ہی اتنا بڑا کھایا تھا کہ ہر اعتبار اٹھ گیا تھا۔قبرستان جانا بالکل تو نہیں چھوڑا تھا پر محدود کر دیا تھا، اور اب وہ بند کمرے میں نہیں بلکہ صحن میں پائی جاتی تھی جہاں سے ابھی محلے کے بچے قرآن پڑھ کر گئے تھے۔اس نے عصر کی نماز پڑھی اپنے نومولود اور شیر خوار وفات شدگان بچوں اور اپنے جوان بھائی کے لئے دعائے مغفرت کی ۔اور روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو گئی۔وہ دکھی تھی لیکن اس دکھ کو بھی اس نے کہیں دفن کر دیا تھا۔اس بدلاؤ کا کارن وہ رات تھی
جب وہ بے ہوش ہو کر بھائی کی چارپائی کے پاس گری تھی اور اس کی ماں نے اسے اس کے گھر پہنچا دیا تھا۔
اگلی صبح کی روشنی میں ایک ماتمی سوگواری گھلی ہوئی تھی ۔اس نے نقاہت سے آنکھیں کھولیں اوراپنے اردگرد دیکھا۔ماں ملنے آئی ہوئی تھی ،اس نے پچھلے پانچ ماہ اس کمرے میں نظر بندی برداشت کی تھی۔ وہ زندوں مردوں سب سے دور رہی تھی ۔اس نے سب کچھ قبول کیا تھا کیونکہ اس وقتی قید کے بدلے سائیں سرکار نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس بچے کی ماں بنے گی جو جیئے گاجو لمبی عمر پائے گا۔اسے تکیئے کے نیچے تعویز رکھنے تھے اور روزانہ رات کو ایک پڑیا گھول کر پینی تھی۔ بہت اچھی اور بہت زیادہ خوراک لینی تھی اور بہت سا نذرانہ ادا کرنا تھا۔ کیونکہ سائیں سرکار نے بہت لمبا چلہ کاٹ کر یہ تعویذ بنائے تھے۔اور وہ یہ سب ہی کچھ خوشی خوشی کر رہی تھی جب اچانک بھائی کے ایکسیڈنٹ کی خبر آئی تھی ۔
بھائی تو ایکسیڈنٹ ہوتے ہی دنیا وما فیہا سے بے خبر ہو گیا تھا لیکن نے یہ تین دن کانٹوں پر لوٹتے گزارے تھے ۔
پانچ ماہ کی قید تنہائی کا جذباتی تناؤ تھا بھائی کا غم تھا، اپنی ماں کی گود اجڑنے کا خوف تھا اپنی بار بار کی اجڑی گود کی اذیت تھی۔کیا کیا نہ تھا جو ان تین دنوں میں اس نے سہا؟
اور پھربھائی کا آخری دیدار کرتے ہی وہ بے ہوش ہو کر گر گئی تھی۔ اس کے پاؤں کے نیچے سے گویا زمین ہی نکل گئی تھی۔سات آٹھ دن ہوگئے تھے طبیعت ہی نہیں سنبھل رہی تھی۔
اس دن کے بعد سے ماں روز ہی ملنے آرہی تھی ۔آج جوان بیٹے کی بے وقت موت سے سہمی ماں خاندانی دائی کو چپکے سے ساتھ لے آئی تھی ۔ماں سے اس کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی ۔اسے اپنی مامتا کا واسطہ دے کر دائی سے ملنے پر مجبور کیا۔
دائی ماں نے اس کا پیٹ ٹٹول کر دیکھ لیا تھا اور کچھ کہہ رہی تھی جو سن کر اس کا پورا جسم لرز رہا تھا ،اسے لگ رہا تھا آسمان ٹوٹ پڑا ہے یا پوری دنیا ایک زلزلے کی زد میں ہے ۔
آہستہ آہستہ اسے دائی ماں کے الفاظ سمجھ آنے لگےوہ کہہ رہی تھیں ، بیٹی تمہارے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے۔
اس جھوٹے پیر نے تمہیں مجھ سے ہر کسی سے ملنے سے اسی لئے روکا تھا کہ کہیں سچ آشکار نہ ہو جائے۔
تمہیں حمل نہیں ۔
آگے پیچھے بچے ہونے کی وجہ سے تمہارا پیٹ پہلے ہی بڑا تھا۔کچھ اس نے تمہیں بے تحاشا کھانے کا کہہ کر تمہیں فربہ کروا دیا۔
رہ گئی بات ان پڑیوں کی تو یہ میں نے اپنی بیٹی کے سسرال کے گاؤں میں اسی جھوٹے سائیں سرکار کے ہاتھوں بےوقوف بننے والی ایک دکھیاری کے پاس دیکھی تھیں ۔ان میں اور کچھ نہیں صرف مانع حمل گولیاں ہیں جو جب تک لیتے رہو ماہواری نہیں ہوتی تم سے حمل کی نشانی سمجھ بیٹھی اور دل و جان سے مان لیاکہ تم ماں بننے والی ہو۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


