معاشرہتعلیمقومیمتفرق

درندے آزاد بچپن قید کیوں؟

تحریر: مبشرہ سلطان

ہم اپنے بچوں کو بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ اجنبی سے بات نہ کرو، کسی کے ساتھ کہیں مت جاؤ، اکیلے باہر مت نکلو۔ مگر کیا ہم انہیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ خطرہ کیا ہے، اسے پہچاننا کیسے ہے اور سامنے آ جائے تو خود کو بچانا کیسے ہے؟

آج آئے روز بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ کبھی بچہ، کبھی بچی، کبھی کمسن اور کبھی جوان۔ خبر آتی ہے، ہم افسوس کرتے ہیں، غصہ کرتے ہیں اور پھر اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ مگر یہ مسئلہ صرف افسوس سے حل نہیں ہوگا۔ والدین کو بچوں کی حفاظت کے ساتھ ان کی تربیت پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ کم عمر بچوں کو جہاں ممکن ہو اکیلا نہ بھیجا جائے۔ اگر بچہ معمول سے زیادہ دیر تک واپس نہ آئے تو انتظار کے بجائے فوراً رابطہ کیا جائے اور ضرورت پڑے تو خود اسے تلاش کیا جائے۔

 

بچوں کو یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ اگر کوئی انہیں غلط انداز میں چھونے کی کوشش کرے، کسی دکان، گھر یا عمارت میں لے جانے کی کوشش کرے تو فوراً انکار کریں، شور مچائیں، وہاں سے نکلیں اور کسی قابلِ اعتماد بڑے سے مدد لیں۔ لیکن ایک بات ہمیشہ واضح رہنی چاہیے: زیادتی کا ذمہ دار بچہ یا والدین نہیں، صرف مجرم ہے۔ احتیاط جرم کا جواز نہیں بن سکتی۔

ایک اور تکلیف دہ پہلو ان بچوں کی خاموشی ہے جو زیادتی کا شکار ہونے کے بعد والدین کو بتا نہیں پاتے۔ خوف، دھمکی، شرمندگی اور یہ خدشہ کہ شاید انہیں ہی قصوروار سمجھا جائے، انہیں خاموش کر دیتا ہے۔ اس لیے گھر میں ایسا ماحول ضروری ہے جہاں بچہ جانتا ہو کہ وہ کچھ بھی بتا سکتا ہے اور والدین پہلے اس کی بات سنیں گے، اسے ڈانٹیں گے نہیں۔ اگر بچہ بتا دے تو اسے تحفظ اور اعتماد دیا جائے، پھر طبی، نفسیاتی اور قانونی مدد حاصل کی جائے۔ معاملہ دبانے کے بجائے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔ پاکستان میں وزارتِ انسانی حقوق کی 1099 ہیلپ لائن قانونی رہنمائی فراہم کرتی ہے، جبکہ پنجاب میں بچوں سے متعلق شکایات کے لیے 1121 سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

مگر سوال صرف یہ نہیں کہ بچے خود کو کیسے بچائیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ وہ شخص کہاں سے بنتا ہے جو کسی بچے کی معصومیت کو اپنی ہوس یا طاقت کا نشانہ بنا دیتا ہے؟ مجرم بھی اسی معاشرے میں پلتا ہے۔ اس کی سوچ گھر، ماحول، دوستوں اور معاشرتی رویوں سے تشکیل پاتی ہے۔ اس لیے مجرمانہ ذہن کی وجوہات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس کا مطلب مجرم کو معاف کرنا نہیں، بلکہ جرم کی جڑ تک پہنچنا ہے۔

 

ہم اپنی بچیوں کو تو احتیاط کا سبق دیتے ہیں، مگر کیا اپنے بیٹوں کو یہ بھی سکھاتے ہیں کہ کسی کی مرضی کے بغیر اسے چھونا غلط ہے؟ خاموشی رضامندی نہیں۔ کمزور پر طاقت آزمانا مردانگی نہیں۔ دوسرے انسان کی عزت کرنا ہی اصل تربیت ہے۔

ہمیں صرف بچوں کو درندوں سے بچانا نہیں، اپنے معاشرے میں درندے پیدا ہونے کے راستے بھی روکنے ہیں۔ بچوں کو محتاط بھی بنانا ہے اور معاشرے کو ذمہ دار بھی۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *