قرآن کریم کی دائمی حفاظت

۔ تحریر مدثر عباسی ایڈیٹر آبگینے قرآن خدا نما ہے خدا کا کلام ہے بے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے اللہ تعالیٰ نےاپنی مخلوق کو ہدایت اور رشد پانے کے لئے ایک عظیم…

دعا

۔ تحریر قرۃالعین فاروق حیدرآباد اے اللہ میری سن لیں، اے اللہ میری سن لیں ۔حنا ،اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کے دعا مانگ رہی تھی کہ اس کی اسکی پسند کی جگہ شادی ہوجائے جب…

نیکی کا معیار

۔ تحریر نزہت جہاں ناز کراچی کسی کی سالگرہ یا عقیقہ ہو، شادی بیاہ کی کوئی تقریب یا پھر کوئی اور خوشی کا موقعہ، ہم اسے بڑے ذوق و شوق سے مناتے ہیں بلکہ اگر…

محبت اب نہیں ہوگی

۔ تحریر آصفہ بلال قد آدم  آ ئنے میں اپنا ہی عکس دیکھ کر آج اسے احساس ہوا کہ زیست کے کتنے ہی ماہ و سال بیت گئے اور اسے خبر ہی نہ ہو سکی۔اپنے…

Poverty_in_Pakistan

کلچر کلچرڈ اور ارمغان جمیل

۔ تحریر صغرا صدف جب نئے ملک وجود میں آتے ہیں تو سرحدوں کی نشاندہی کرنے والی لکیریں اور پھر سفر کرنے والے راستوں پر آہنی اور خاردار دیواریں فوری طور پر کھڑی کرکے ظاہری…

میری سندھی دھرتی کے باسی

۔ تحریر عریشہ بخاری آج میں جو لکھ رہی ہوں وہ اپنی بچپن کی سہیلی حینو کے کہنے پر لکھ رہی ہوں اور اسکی خواہش تھی کہ جلد از جلد لکھوں۔ کیونکہ وہ چاہتی ہے…

ذرائع ابلاغ – سکون یا بے سکونی

۔ تحریر بشریٰ عمر بامی حضرت ِ انسان ہر زمانہ میں ایجادات وقت اور حالت کے تحت کرتا چلا گیا۔ بلکہ خدا تعالی اسکی رہنمائی کرتا گیا سائینس ارتقائی منازل طے کرتی چلی گئی۔ اور…

عشق بکرا سے عشق قربانی تک

۔ تحریر خنساء رفعت عید پھر آئی بس اب کے عید خاموشیوں کا شکار تھی۔ کرونا نامی عفریت نے سب کو گھروں میں محصور کر رکھا... فاصلوں سے ملنے کو مجبور کر دیا۔ ... ایسے…

 لبوں پہ مسکان رکھنا

۔ تحریر فوزیہ منصور مسکراہٹ واحد چیز ہے جو اپنے چہرے کو بھی حسین بناتی اور دیکھنے والی آنکھ کو بھی بھلی لگتی ہے۔آج افراتفری کے زمانے میں جہاں ہر انسان مختلف تفکرات میں گھرا…

موت کے سوداگر یا پھر

۔ تحریر اریبا انعیم سو سال زندہ رہنے کے لئے ضروری نہیں سو سال جیا جائے بلکہ کوئی ایسا کام کر جائیں کہ دنیا آپ کو سو سال یاد رکھے۔ الفریڈ نوبل وہ نام ہے…

ادھوری شخصیت

۔ تحریر رفعت امان اللہ پاکستان وہ بوجھل قدموں سے چلتا ہوا تھانے میں داخل ہوا اور ایک تحریر حولدار صاحب کے سامنے پڑی میز پر رکھ دی۔ ’’یہ پڑھ لیجئے‘‘ اور خود ایک طرف…

انتظار

۔ تحریر امۃ الجمیل سیال میرے فون کی گھنٹی مسلسل بجے جا رہی تھی اور میں اس انجانے سے نمبر کو دیکھتے ہوئے ریسیور نہیں اٹھا رہی تھی۔ بیل مسلسل بجے جا رہی تھی۔ آخر…

لے سانس بھی آہستہ کہ

۔ تحریر قدسیہ عالم فرانس کرسٹل شاپ میں مجھے کام کرتے ہوئے اس دن تیسرا ہفتہ تھا۔ ”لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام” کیا ہوتا ہے اس کا اندازہ مجھے یہاں آکر…