شعر و شاعری

روپ نیارے ہوتے ہیں

Spread the love

فرحت ضیاء راٹھور

آقا کی مبارک آمد کے جس وقت اشارے ہوتے ہیں

دن رات بدل سے جاتے ہیں کیا رنگ نیارے ہوتے ہیں

پھر لشکر ساتھ فرشتوں کے اتریں گے ہمراہ آقا کے

قدموں پہ نچھاور ہونے کو سب چاند ستارے ہوتے ہیں

پر نور فضایئں ہوتی ہیں برکت سے جھولیاں بھرتے ہیں

یوں عرش معلی کو چھوتے ایماں کے حرارے ہوتے ہیں

فتح و ظفر کی سب کنجیاں ہاتھوں میں اٹھائے پھرتے ہیں

یہ دنیا کو معلوم نہیں کچھ راج دلارے ہوتے ہیں

اس شجرۂ طیبہ کی شاخیں ہیں ایک سے بڑھ کر ایک حسیں

پھرتے ہیں بہشت بریں میں ضیاء اور روپ نیارے ہوتے ہیں

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *