روپ نیارے ہوتے ہیں
فرحت ضیاء راٹھور
آقا کی مبارک آمد کے جس وقت اشارے ہوتے ہیں
دن رات بدل سے جاتے ہیں کیا رنگ نیارے ہوتے ہیں
پھر لشکر ساتھ فرشتوں کے اتریں گے ہمراہ آقا کے
قدموں پہ نچھاور ہونے کو سب چاند ستارے ہوتے ہیں
پر نور فضایئں ہوتی ہیں برکت سے جھولیاں بھرتے ہیں
یوں عرش معلی کو چھوتے ایماں کے حرارے ہوتے ہیں
فتح و ظفر کی سب کنجیاں ہاتھوں میں اٹھائے پھرتے ہیں
یہ دنیا کو معلوم نہیں کچھ راج دلارے ہوتے ہیں
اس شجرۂ طیبہ کی شاخیں ہیں ایک سے بڑھ کر ایک حسیں
پھرتے ہیں بہشت بریں میں ضیاء اور روپ نیارے ہوتے ہیں

