آئنے آپ کی گفتگو کر چلے
(بشریٰؔ سعید عاطف -مالٹا)
بات ہر ایک ہی رُوبرو کر چلے
آئنے آپ کی گفتگو کر چلے
چھاننی تھی جنہیں خاک صحراؤں کی
منزلوں کی وہی جستجو کر چلے
اپنے اشکوں سے دامن بھگو کر یہاں
ذکر محبوب کا با وضو کر چلے
بن کے ہمدرد، تشریف لائے تھے جو
وہ ہی رسوائیاں چار سو کر چلے
تیرے عاشق محبت میں تیری صنم
داستاں اک رقم کو بہ کو کر چلے
نام دلبر کے چھپ کر لکھی تھی غزل
چرچا جس کا مگر چار سو کر چلے
ہم تو بشریٰؔ مقابل جفاؤں کے اب
ذکر مہر و وفا ہو بہ ہو کر چلے

