شعر و شاعری

غزل

Spread the love

دیا جیم

کسی دعا کے سہارے یہ دن گزر جائیں

کہ خیریت سے ہمارے یہ دن گزر جائیں

ملیں گے آ کے تمہیں ہم تمھارے آنگن میں

اسیر طرب تمھارے یہ دن گزر جائیں

یہ صدیاں لمحوں کی موجوں میں ڈولتی ہیں اب

سنوارے وقت کے دھارے یہ دن گزر جائیں

ڈھلی ہے شام تو ویران ہو گئیں آنکھیں

اتر بھی آئیں ستارے یہ دن گزر جائیں

سسکتی ماتمی گھڑیاں لے آئیں خواب نئے

کسی بھی درد کنارے یہ دن گزر جائیں

ترس گئے ہیں ناں قربت کی چاشنی کے لئے

کہ خود سے خود میں گزارے یہ دن گزر جائیں

کبھی تو بخت کی کھڑکی پہ کوئی رکھ کے دیا

شب سیاہ اتارے یہ دن گزر جائیں

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *