غزل
دیا جیم
کسی دعا کے سہارے یہ دن گزر جائیں
کہ خیریت سے ہمارے یہ دن گزر جائیں
ملیں گے آ کے تمہیں ہم تمھارے آنگن میں
اسیر طرب تمھارے یہ دن گزر جائیں
یہ صدیاں لمحوں کی موجوں میں ڈولتی ہیں اب
سنوارے وقت کے دھارے یہ دن گزر جائیں
ڈھلی ہے شام تو ویران ہو گئیں آنکھیں
اتر بھی آئیں ستارے یہ دن گزر جائیں
سسکتی ماتمی گھڑیاں لے آئیں خواب نئے
کسی بھی درد کنارے یہ دن گزر جائیں
ترس گئے ہیں ناں قربت کی چاشنی کے لئے
کہ خود سے خود میں گزارے یہ دن گزر جائیں
کبھی تو بخت کی کھڑکی پہ کوئی رکھ کے دیا
شب سیاہ اتارے یہ دن گزر جائیں

