پہلا عالمی خواتین آن لائن آبگینے مشاعرہ
مورخہ 22 مئی عباسی اکیڈمی لندن کے زیرِ اہتمام رسالہ آبگینے کے پہلے عالمی خواتین آن لائن مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر سے معروف شاعرات کو مدعو کیا گیا تھا
۔اس مشاعرے کا مقصد قدیم ادبی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے شاعرات کو اپنا کلام پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں موجود اعلی ادبی ذوق رکھنے واالی بہنوں کو گھروں میں بیٹھے ہوئے انکے ادبی ذوق کی تسکین کے لئے ایک معیاری ادبی ماحول اور پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جس میں اللہ کے فضل سے ادارہ بے حد کامیاب رہا۔ اس تاریخ ساز مشاعرے کی مہمان خصوصی محترمہ امتہ الباری ناصر صاحبہ تھیں۔ مشاعرہ سامعین تک پہنچانے کے لئے زوم لنک پر پریزنٹیشن کے ذریعے بہترین انتظام کیا گیا تھا۔ یوٹیوب پر تقریبا چار ہزار آٹھ صد سے زائد بہنوں نےاس مشاعرے کو سنا۔ یہ مشاعرہ مسلسل چھ گھنٹے کی طویل ترین پیشکش تھا۔ اتنا طویل مشاعرہ ہونے کے باوجود سامعین کی دلچسپی برقرار رہی۔ سامعینِ مشاعرہ نے اپنی بہترین حوصلہ افزائی اور ستائش کے ذریعے انتظامیہ کی بہت حوصلہ افزائی کی اور اس کامیاب مشاعرے کو بے حد سراہا۔
مشاعرہ لندن وقت کے مطابق تین بجے سہ پہر شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک اور نظم کے ساتھ مشاعرے کا آغاز ہوا۔ نظامت کے فرائض مدثرہ عباسی صاحبہ اور(خاکسار) حمیرا نگہت نے سر انجام دئیے۔ اس مشاعرے میں دینا بھر سے شاعرات نے شرکت کی اور مشاعرے کو کامیاب بنایا۔ مشاعرے میں پان، گجروں اور میوہ جات کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔
محترمہ امتہ الباری صاحبہ نے اپنے خوبصورت دعائیہ کلام سے مشاعرے کا بہت پیارا سماں باندھا
حسب روایت خاکسار نے اپنےدو اشعارسامعین مشاعرہ کی نذر کئے۔
اسے عشق کی حد تک چاہ کے بھی یہ شوق مرا کم نکلا ہے
مری پیاس نےایڑیاں رگڑی ہیں پھر لطف کا زم زم نکلا ہے
اسے ڈھونڈا ساری عمر مگر لگتا تھا یہی ناکام رہے
اس چوکھٹ پر آ پہنچے ہیں یہ دیکھ کہاں دم نکلا ہے
حمیرا نگہت
مشاعرے میں شاعرات کےتعارف اور نمائندہ اشعار کے ساتھ شاعرات کو دعوت کلام دی جاتی رہی اور شاعرات کے اعزاز میں ایک خوبصورت استقبالیہ شعر پیش کیا جاتا رہا۔ جس کی وجہ سے سامعین و شاعرات کی دلچسپی بڑھتی رہی۔
سب سے پہلے ناروے سے شامل ہونے والی خوبصورت لب و لہجے کی شاعرہ محترمہ نبیلہ رفیق صاحبہ نے اپنا کلام پیش کیا انکا ایک خوبصورت شعر کچھ یوں ہے
ہم نے اپنی مانگ میں خود ہی ستارے بھر لئے
شہر میں کیدو بہت تھے ایک بھی رانجھا نہ تھا
ان کے بعد منصورہ من جو بھارت سے ہمارے ساتھ شامل تھیں انہوں نے اپنے خوبصورت کلام سے سامعین کو محظوظ کیاان کا نمائندہ شعر پیش خدمت ہے
ہزاروں غم ہیں جو نوک قلم پہ لرزاں ہیں
لکھوں جو خونِ جگر سے وہ تذکرے ہیں بہت
پھر امتہ الرشید بدر صاحبہ (پاکستان) نے اپنا کلام پیش کیا
جلوہ کناں آفاق میں ہر سمت اسکا حسن
مخفی بھی ہے وہ دلبرم سو سوججاب میں
گاہے گاہے شاعرات وسامعینِ مشاعرہ کو پان اور مشروبات پیش کئے جاتے رہے- مشاعرے نے گزرے لمحوں کے ساتھ ساتھ اپنا خاص رنگ جما لیا تھااور سب سننے والے شاعرات کو بھرپور داد سے نواز رہے تھے۔
ایک شاعرہ ندرت جہاں جو جرمنی سے شاملِ مشاعرہ تھیں نے اپنی ایک بہت پیاری نظم پیش کی
اےعمرِ رواں کچھ دیر کو رک
ان کے بعد امتہ الجمیل سیال صاحبہ (جرمنی) نے نہایت مترنم آواز میں اپنی خوبصورت غزل سنا کر خوب سماں باندھا اور خوب داد سمیٹی۔ ان کا نمائندہ شعر کچھ یوں ہے
ہم زندگی کی آس میں جیتے چلے گئے
میٹھا زہر سرور سے پیتے چلے گئے
ان کے بعد منزہ خیام صاحبہ (برطانیہ) نے اپنا کلام سنایا
وہ جو انجان راہوں میں ہم سے ملا
اس مسافر کی یادوں میں جلتے رہے
ان کے بعد کنیز بتول صاحبہ (پاکستان) کے کلام نے محفل پرخوب اپنا رنگ جمایا اور سامعین سے خوب داد سمیٹی
ہونٹوں پہ جاں نثار ہیں کوثر کی آیتیں
پورے کاپورا لگتا ہے قرآن کی طرح
فاخرہ چوہدری صاحبہ ہالینڈ سے ہمارے ساتھ تھیں ان کا نمائندہ شعر کچھ یوں ہے
ڈرتے ڈرتے گزرا اب کی بار یہ بچھلا سال
ہنستے ہنستے گزرے مالک اپنا ہے جو اگلا سال
مشاعرے کی خاص بات شرکاء مشاعرہ کی بھرپور داد تھی جو سارے مشاعرےمیں شاعرات کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ محفل کی رونق بھی بڑھاتی رہی۔
امتیاز بٹ صاحبہ جن کا تعلق پھولوں کے دیس ہالینڈ سے ہے انہوں نے مشاعرے میں اپنا کلام بہت خوش الحانی سے پڑھا اور سامعین پر ایک سرور طاری کئے رکھا اور خوب داد سمیٹی
پھولوں کی سرزمین سے سوغات لائے ہیں
عنبر گلاب سے دھلے جذبات لائے ہیں
انکے بعد بشری اسلم صاحبہ (جرمنی) نے اپنا شگفتہ کلام سامعین کی نذر کیا۔ان کے بعد نور الصباح صاحبہ(جرمنی) نے اپنا کلام پیش کیا۔ان کے بعد منصورہ سلیم صاحبہ (انگلینڈ)نے اپنے خوبصورت کلام سے سامعین کو محظوط کیا اور خوب داد حاصل کی۔
لفظ سارے بے اثر ہیں جانتی ہوں میں
بات دل کی کہہ سکیں یہ ہنر نہیں آیا
ان کے بعد خوبصورت لب و لہجے کے شاعرہ بشری بختیار صاحبہ (انگلینڈ) نے اپنے کلام سے سامعین کے دل موہ لئےاور خوب داد پائی جن کا نمائندہ شعر کچھ یوں ہے
کسی سے پیار کریں بے مثال کرتےہیں
ہم اس کاخود سے ذیادہ خیال رکھتے ہیں
ان کے بعد شوکت سلطانہ صاحبہ (جرمنی) نے اپنا کلام خوبصورت آواز میں سنایا اور خوب داد سمیٹی
لوگ دیوانے ترے ہوجائیں گے شوکت خود ہی
شاعری جیسی بھی ہو بس گانی آنی چاہئے
امتہ المنان صاحبہ ناروے سے ہمارے ساتھ تھیں ان کا کہنا ہے
کہاں تھے کہاں سے کہاں آگئے ہم
سنائیں تمہیں کیا جہاں آگئے ہم
ان کے بعد باری تھی سعدیہ تسنیم صاحبہ (جرمنی) کی جنہوں نے اپنے خوبصورت کلام سے مشاعرے کی رونق کو دوبالا کیا اور خوب داد سمیٹی۔ جن کا کہنا ہے
سر قلم اور ہوئے ہاتھ بریدہ صاحب
ہم نےلکھا نہیں شاہوں کا قصیدہ صاحب
اسکے بعد صدف علیم صاحبہ (کینڈا) سے اپنا کلام پیش کیاجو کہتی ہیں
تیری چشم ناز کا کیا کہوں میں نے سارا ضبط گنوا دیا
تجھے روح میں اپنی بسا لیا ساری احتیاط دھری رہی
ان کے بعد صدف صاحبہ (جرمنی) نے اپنا کلام پیش کیا جن کا کہنا ہے
وہ دن سعید عید ہے جس میں غریب شامل ہوں
وہی تو عید ہے جس میں غریب شامل ہوں
اسکے بعد بشارت سکھی صاحبہ (جرمنی) نے اپنا کلام پیش کیا جن کا نمائندہ شعر ہے
لب کشا ہوں تو دل و روح پہ قبضہ کر لوں
ایسی تاثیر بخشی ہے مجھے گفتار کے ساتھ
شبرہ خان برطانیہ سے مشاعرہ میں شامل تھیں جنہوں نے اپنے کلام سے مشاعرے کی رونق بڑھائی جن کا کہنا تھا
شہر نے جب نگل لیا جنگل
راہگزاروں نے خود کشی کر لی
ان کے بعد ہر دل عزیزطاہرہ زرنشت صاحبہ (ناروے) نے ترنم سے اپنا کلام پیش کیا اور خوب داد وصول کی جن کا خوبصورت شعر کچھ یوں ہے
جینا نہیں اپنے لئے اےہم نفس جینے کا نام
ہے زندگی تو دوسروں کے واسطے جینے کا نام
ان کے بعد ریحا اظہر صاحبہ (برطانیہ) نے اپنے کلام کو خوش الحانی سے پیش کرکے مشاعرہ میں خوب سماں باندھا جن کا کہنا ہے
رات ہے اماوس کی دل مگر یہ کہتا ہے
کھڑکیوں میں آئے گا چاند مسکرانے کو
انکے بعد نفیسہ محمود صاحبہ (آسٹریلیا) نے اپنا کلام پیش کیا جو کہتی ہیں
کبھی پونچھا تھا جو آنچل سے آنسو
وہیں پر اک گرہ کو باندھنا ہے
ان کے بعد امتہ القدوس صاحبہ (ناروے)نے اپنی خوبصورت آواز میں اپنا کلام پیش کیا اور مشاعرے کی رونق بڑھائی جن کا کہنا ہے
وطن سے دور مسلم ہوں وطن جاؤں تو کافر ہوں
میں خود کیا ہوں بتانے کی اجازت مجھ کو دے دو ناں
انکے بعد شازیہ افروز صاحبہ (جرمنی) نے اپنی بہت پیاری آواز میں اپنا کلام پیش کیا اور خوب داد حاصل کی جن کا ایک شعر کچھ یوں ہے
تن پہ قبائے ہمت عزم و عمل رہے
سر پر جیائے دیں کی ردا ہومرے خدا
ان کے بعد ساجدہ تبسم صاحبہ (جرمنی) نے اپنا کلام پیش کیا جو کہتی ہیں
ہے دل پہ چھائی گو یاس کی سیاہ چادر
ستارے میری امنگوں کے جھانکتے نکلے
ان کے بعد شازیہ زاہد صاحبہ (جرمنی) نے اپنا کلام پیش کیا۔ ان کے بعد صفیہ چیمہ صاحبہ (جرمنی) نے اپنا کلام پیش کیا اورمشاعرے کے ماحول میں اپنے رنگ بھرے جن کا کہنا ہے۔
میرے بس ہوں تو کبھی کہیں
کوئی ایسا شہر بساؤں میں
ان کے بعد ہردل عزیز شاعرہ فوزیہ بٹ صاحبہ (انگلینڈ) نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل میں ہلچل مچائی اور محفل کو کشتِ زعفران بنایااورسامعین سے خوب داد وصول کی جن کا کہنا ہے
بند پلکوں پہ جو دے دیتی ہیں بوسہ یادیں
پھر تو بس روتے ہوئےرات ہماری نکلے
مبارکہ منگلا صاحبہ نے کینڈا سے اپنا کلام سنایا جن کا کہنا ہے
دنیا ہے حد سے بڑھ گئی رسم و رواج میں
اب اسکا سدباب ضروری سا ہوگیا
ان کے بعد خوبصورت لب لہجے کی شاعرہ فوزیہ شاہ (شارجہ) نے اپنے خوبصورت کلام پیش کیا جن کا کہنا ہے
عشقے دی تحریر دے ٹوٹے ہوگئے نیں
اینج لگیا تقدیر دے ٹوٹے ہوگئے نیں
ان کے بعد مبارکہ ابرار صاحبہ (کینڈا) سے اپنا کلام پیش کیا جن کا نمائندہ شعر کچھ یوں ہے
یہ جو عطرآمیز فضائیں ہیں یہ مہک اٹھے ہیں جو بام و در
وہ کمال چہرہ ہے روبرو جو دلکشی میں کمال ہے
عاصمہ صاحبہ انگلینڈ سے ہمارے ساتھ شامل تھیں ان کا نمائندہ شعر کچھ یوں ہے
میرے ہی پیار میں کچھ تھی کمی مگر تیری
نگاہ لطف نے ہی ہم کوتو سنوارا ہے
ان کے بعد ایک بہت پیاری شاعرہ خنساء رفعت صاحبہ (انگلینڈ) نے اپنا خوبصورت کلام پیش کیا جن کا نمایندہ شعر پیش ہے
دیکھ کے آنکھ کا پھیلا ہوا آنچل جاناں
مجھ پہ اس سرمئی شام کا الزام نہ دے
مشاعرے کے آخر پرنصرت مجید صاحبہ (جرمنی) نے اپنا کلام سنایا اور داد سمیٹی جن کا کہنا ہے
دلوں کا زہر دھیرے سے زبانوں تک نہ آجائے
میں اپنے گھر میں تھوہر کو کبھی بونے سے ڈرتی ہوں
اداس دلوں کے ساتھ اس مشاعرے کا اختتام ہوا۔
کرونا کی وجہ سے بہت دیر کے بعد ایک ایسی محفل سجی تھی جس میں دنیا بھر سے شاعرات اور سامعین نے شرکت کی اس لئے سب بہت شادماں تھے لمبے عرصے بعد بہنوں کی زوم اور یوٹیوب پرہی سہی مگر لمبی ملاقات ہوئی تھی تقریبا چھ گھنٹے ایک ساتھ گزارے اور اس ادبی محفل سے سب نے بھرپور لطف اٹھایا۔ ان حالات میں یہ مشاعرہ یقینا ایک یاد گارمشاعرہ ہے جو سامعین اور شاعرات کے دلوں میں دیر تک تروتازہ رہے گا۔
حمیرا نگہت(انچارج گوشۂ ادب)


