//پیڑاں لے لو پیڑاں
PEEDAN LELO.

پیڑاں لے لو پیڑاں

. مبشرہ ناز

گلی سے آواز آ رہی تھی پِیڑاں لے لو پِیڑاں … پِیڑاں ویچنا

یہ کون تھا جو درد بیچ رہا تھا ، سکھ بکتے ہوتے تو جھولی بھر کر خرید لیتی ۔ مگر دکھ …؟ میں حیران پریشان دروازے کی جانب بھاگی …!

 سنو … کوئی خریدار ملا ……؟ کون ہے ، ہے کوئی جو تم سے درد خریدے گا …؟

ہاں کوئی تو ہو گا … اچھا ٹھیک ہے کوشش کر دیکھو

عجیب شخص تھا … اس کے سر پر رکھے خالی چھابے میں بکنے والا درد آنکھوں کے راستے دکھا ۔ اس کی درد بھری دیوانی آنکھیں خالی تھیں بالکل خالی گرمیوں کی دوپہر جیسی سنسان ۔ ایک لمحے کو میرا جی چاہا ، میں اس کی آنکھوں کی بیٹھک میں موم بتی جلا کر کیک کاٹوں ، شامِ غریباں سی ِاِن آنکھوں میں چراغاں کر دوں ۔

اس سے سارے درد خرید لوں مگر میں نے گھبرا کر دروازہ بند کر دیا

بے چین سا کر گیا تھا وہ شخص مجھے …!

شام کے قریب پھر آواز آئی … اب کے آواز میں نقاہت تھی … جانے کہاں مارا مارا پھرتا رہا تھا

پِیڑاں لے لو پِیڑاں

 میں نے دیکھا سامنے والا دروازہ کھلا …ایک امّاں جی نکلیں

ساری چھابڑی تول دےپتر …امّاں جی نے جھٹ میں سارے درد خرید لئے …

وہ شخص مسکرایا خوشی خوشی سارے درد امّاں جی کے حوالے کئے …نقدی سمیٹی اور چل دیا

مجھے اس محلے میں شفٹ ہوئے کچھ ہی روز ہوئے تھے …

میں اس عجیب پھیری والے اور اس سے بڑھ کر اس عجیب خریدار پر حیران تھی …!

آج پھر ایسا ہی ہوا …وہ پھیری لگاتا ہوا آیا پِیڑاں لے لو پِیڑاں

سامنے والا دروازہ کھلا …ماں جی نے کچھ نقدی اور روٹی دے کر سارے درد خرید لیئے

اب کہ مجھ سے رہا نہ گیا …

ماں جی ماں جی … ان کے دروازہ بند کرنے سے پہلے میں جلدی سے ان کے پاس چلی آیٔی

سلام کیا …… وعلیکم السلام ، انہوں نے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا

 ان کے چہرے پر اتنا نور تھا کہ نظر ٹھہرتی نہ تھی

میری پلکیں خود بخود احترام میں جھکنے لگیں …دِل پگھلنے لگا

مجھے لگا میں اپنے بس میں نہیں رہی …میں نے جھکی جھکی نظروں سے پوچھا …

کون ہے یہ ماں جی …؟ دکھ بیچتا ہے کہاں سے لاتا ہے اتنے دکھ …؟

درد کا گاہک کون ہے …؟ کوئی اور خریدار نہیں فقط آپ ہیں …ماں جی کہنے لگیں

کچھ روز پہلے تک … میں بھی تمہاری طرح روزانہ اس کی آواز سنتی ، دروازہ کھول کر جھانکتی۔ خالی چھابڑی دیکھتی … دیوانہ ، پگلا ، کہتی اور دروازہ بند کر دیتی …

پھر ایک روز مجھے خیال آیا کیوں نہ میں اس سے بات کر کے دیکھوں …

میں نے اسے آواز دی …میرے بلانے پر وہ خوشی خوشی دوڑا چلا آیا …

کِنّیاں تول دِیاں ماں جی … اس نے ماں جی کہا مجھ سے رہا نہ گیا ۔

ساریاں پیڑاں تول دے پتر … میں سب خریدوں گی …!

اس کی آنکھوں میں دھمال ڈالتی وحشت تھم سی گئی…اس کی پلکوں پر لوریاں گنگنانے لگیں …

چہرے کی تھکن یوں اتری شام گئے مسافر گھر آیا ہو جیسے …

بہت بپھرا دریا تھا شاید جان ہی چلی جاتی …اتنے میں انور میرا پلو پکڑ کر غوں غوں کرنے لگا ، میرا وہم تھا یا دیوانگی … ایک لمحے کو لگا وہ لوٹ آیا … شاید اسے بھوک لگ رہی ہو گی ۔میرا دِل ڈوبنے لگا …جانے کہاں ہو گا میرا لعل میرا انور …؟

ہاں ہاں … سارے درد خریدوں گی … لیا دے جا اَج ساریاں پِیڑاں دے جا … یوں میں دیوانی اس دیوانے کی پکّی گاہک بن گئی …

کیوں نہ بنتی پہلے دن کی خریداری میرے گواچے گونگے پتر کو سالوں بعد گھر لے آئی ۔

میرا انور لوٹ آیا … ناؤ کنارے سے آ لگی …اس سے خریدے درد ، دوا بن گئے …

وہ مسکرایٔیں …ان کے چہرے پر پھیلا نور بتاتا تھا رَبّ کو ان کی یہ ادا پسند آ گئی تھی…

سودا منافع بخش تھا ۔ مجھے بھی یہ کاروبار کرنا ہے مجھے بھی درد خریدنے ہیں …۔سوچا ہی تھا کہ …ہر طرف سے صدا آنے لگی …پیڑاں لے لو پیڑاں ، پیڑاں ویچنا …