//خواتین کا علمی امپاورمنٹ
hard-truths

خواتین کا علمی امپاورمنٹ

. بشریٰ ناہید اورنگ آباد مہاراشٹر

’اِمپاورمنٹ‘ انگریزی زبان کا لفظ ہے، جسکے لفظی معنی قوت پہنچانے کے ہیں، یعنی خواتین کو قوت پہنچانا، طاقتور بنانے کے لیے اختیار دینا، حقوق دینا، مجاز کرنا، اسے ہم استحکامِ نسواں بھی کہہ سکتے ہے۔ لیکن اس کا جائزہ لیا جائے تویہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دورِ حاضر میں امپاورمنٹ کے نام پر عورت کو مرد کے مقابل کھڑا کردیا گیا ہے۔ اسلام کے علاوہ مختلف مذاہب میں خواتین کے حقوق کا تحفظ نہیں کیاگیا ہے۔ اس لیے کبھی آزادیٔ نسواں کے نام پر او رکبھی مساوات مرد وزن کے نام پر اور اب دورِ جدید میں ’’ومن امپاورمنٹ‘‘ کے نام پر کس طرح خواتین کا استحصال کیا جارہا ہے، اس کو خود خواتین سمجھ نہیں پارہی ہیں۔ عورت کی آزادی اور حقوق کی بات کرکے مرد اپنی ذمہ داری سے بری ہوگیا ہے اور عورت نے خوشی خوشی اس بار کو اپنے سر لے لیا ہے۔ اسلام نے خواتین کو ہرطرح کے حقوق دیئے ہیں وہی حقوق دیگر مذاہب کی خواتین کو دیئے جانے کے سلسلے میں کوشش ہوتی تو حقیقی معنوں میں ’’ومن امپاورمنٹ‘‘ ہوتا۔ دراصل ملت کا ایک بڑا حصہ خود خواتین کے حقوق کے سلسلے میں توازن نہیں رکھ پارہا ہے۔ اکثر مسلم خواتین عدمِ واقفیت یا مغربی تہذیب، ہندوستانی باشندوں کے رسم و رواج کی نقالی و اثرات کے باعث بے اعتدالی کا شکار ہے۔ اسلام عورت اور مرد کو بحیثیت انسان ان کی صنف کے اعتبار سے برابری کاحق دیتا ہے۔ مرد کو قوام ہونے کی بناپر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام میں عورت کو کمتر کیاگیا ہے۔ اسلام تو عورت کو نصف انسانیت کہتا ہے اور جس قدر حقوق مذہب اسلام میں عورت کو حاصل ہے، کوئی او ر مذہب میں عورت کو اتنے حقو ق نہیں ہیں۔ اسلام عورت کو علمی، معاشی اور معاشرتی اعتبار سے امپاور کرتاہے۔

علمی صورتحال مثبت: اسلام عورت کو دینی و دنیاوی علوم حاصل کرنے کو اجازت دیتا ہے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے کہ خواتین علمی میدان میں آگے بڑھے۔ عصر حاضر میں خواتین کی علمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو بہ نسبت ماضی کے علمی اعتبار سے خواتین کچھ حد تک امپاورضرور ہوئی ہیں۔ مسلم ہویا غیر مسلم، بالعموم تعلیمی نتائج میں بہ نسبت لڑکوں کے لڑکیوں کا تناسب زیادہ رہتا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ جدید علوم حاصل کررہی ہیں۔ گورنمنٹ نے بھی لڑکیوں کے لیے میٹرک تک تعلیم فری کردی ہے۔ منفی: خواتین میں تعلیمی بیداری کی لہر چل پڑی ہے، لیکن اس پر زیادہ تر مغربی تہذیب کا غلبہ ہے۔ اس کے باعث دفاتر و اداروں میں، سیاست و میڈیا میں، فلمی انڈسٹریز و ایڈورٹائزنگ کمپنیوں میں، غرض ہرجگہ عورت مردوں کے شانہ بہ شانہ ہیں۔ آج کی عورت علم حاصل کرنے اور اپنی نسل کو جدید علوم، بطور خاص مغربی علوم سے آراستہ کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں اور حصول علم کا مقصد عمدہ ملازمت، یا اپنے وسیع و عریض بزنس کو بہتر ڈھنگ سے سنبھالنے کے لائق بنانا، لڑکی ہوتو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا یا اس لیے ڈگری تعلیم دینا کہ اسے اچھے رشتے آئیں، قابلیت و صلاحیت پیدا کرنے سے زیادہ ڈگری لینے اور نصاب کی تعلیم حاصل کرنے کا رجحان پایا جارہا ہے۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور ویب میڈیا کے ذریعہ غیر ضروری و نقصان دہ علوم بہت آسانی سے نہ صرف نوعمر لڑکے و لڑکیوں کی اخلاقی گراوٹ کا سبب بن رہے ہیں، بلکہ جوانوں اور بزرگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ یہ فحش و غیر نفع بخش علوم تعمیری و بامقصد علم کے حصول کی راہ میں رُکاوٹ بن رہے ہیں۔

گورنمنٹ کی جانب سے لڑکیوں کے لیے جو سہولت ہے، وہ صرف ابتدائی تعلیم کی حد تک ہے اور Education Privatization of کے باعث اعلیٰ تعلیم کے لیے مسائل ہے۔ حصول علم کے ذرائع و اسلامی نقطۂ نظر اسلام نے خواتین کو نہ صرف علم حاصل کرنے کی اجازت دی، بلکہ فرض کیاہے۔ اور اس کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں رکھی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا علم حاصل کرو گود سے گور تک۔ کئی خواتین گزری ہیں جنہوں نے اپنے علم سے دین کو پھیلایا۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ اس کی بہترین مثال ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ لڑکیوں کے پرسنل انٹریسٹ کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ کون سی فیلڈ ہوسکتی ہے جو ان کے مستقبل میں خود ان کے لیے بھی محفوظ ہو اور دیگر خواتین و لڑکیوں کے لیے بھی زیادہ فائدہ بخش ثابت ہوسکے۔ ہمارے پاس ایسی خواتین ہونی چاہئے جو لڑکیوں کو تعلیم دے۔ لیڈی ڈاکٹر ہونا چاہیے جن کے پاس خواتین علاج کرواسکے۔ دینی و دنیاوی علوم کے حصول کے لیے مطالعہ کا رجحان پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن و احادیث کے ترجمے، معیاری کتب، تاریخ اسلام، اسلامی لٹریچر، مختلف مذاہب سے متعلق معلوماتی کتابیں، اپنے گھر کی لائبریری میں اہل خانہ کے مطالعہ کے لیے دستیاب ہو۔ تخریبی کتابوں، ناولوں، فحش لٹریچر سے گھر کو پاک کرنا، بنیادی فقہی علوم سے آراستہ کرنا، مختلف جماعتوں کے اجتماعات میں دینی تعلیم کے لیے خواتین و لڑکیوں کو شریک کروانا۔ آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں بہت سارے ذرائع و وسائل ہیں جس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً انٹرنیٹ کا صحیح استعمال کرکے عصر حاضر کے نئے نئے چیلنجز سے آگہی رکھنا اس کے لیے اخبار و رسائل کا مطالعہ ہونا چاہیے۔ ریاستی سطح پر ہم خواتین کے لیے تعلیمی میدان میں ڈاکٹر اور ٹیچنگ فیلڈ کے لیے زیادہ نشستوں کا مطالبہ رکھ سکتے ہیں تاکہ مستقبل میں لیڈی ڈاکٹر اور ٹیچر ہوجس سے لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا آسان ہوجائے۔

میٹرنیٹی ہاسپٹل وغیرہ میں لیڈی ڈاکٹر کی کمی نہ ہو۔ خواتین کی تنظیموں و مختلف تحریکات نے جس میں خواتین بھی شامل ہیں، خواتین سے متعلق ایشوز پر لکھنے اور بولنے کی مہارت پیدا کرنے اور کمپیوٹر لٹریٹ بنانے کے لیے ٹریننگ کورسز کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اہل خیر حضرات نے لڑکیوں کے لیے پروفیشنل کورسیس کے انسٹیٹیوٹ کھولنے چاہیے۔ جہاں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنا لڑکیوں کے لیے آسان ہوجائے۔مقصد تعلیم معلومات کے جمع کرنے کا نام نہ بن جائے بلکہ اللہ سے قرب حاصل کرنے کا ذریعہ بنے. یہ تعلیم اللہ کا خوف اور اسکے احکامات پر خوشدلی سے عمل پیرا ہونے کا محرک ثابت ہو.