//بانو قدسیہ – اردو ادب کا درخشاں ستارہ (قسط اوّل)
Bano-Qudsia

بانو قدسیہ – اردو ادب کا درخشاں ستارہ (قسط اوّل)

. اردو کے شاہکار ناول ’راجہ گدھ‘ اور ’امر بیل‘ کی مصنفہ بانو قدسیہ معروف قلم کار اشفاق حسین کی زندگی کی ساتھی اور ادبی ہمسفربھی تھیں 4 فروری 2017 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ دنیائے ادب ایک بلند پائے کی ناول نگار، کہانی نویس اور افسانہ نگار سے محروم ہو گئی۔ یوں تو ان کے تمام ہی ناول، افسانے، کہانیاں اور ڈرامے اپنی اپنی جگہ پسندیدگی کے بلند مقام پر ہیں لیکن ان کے ناول راجہ گدھ اور امربیل کا شمار اردو کے بہترین ناولوں میں ہوتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی سچائی کا آئینہ دار اور تلخ ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت پر مبنی ہے۔ ان کے ناولوں، افسانوں، کہانیوں اور ڈراموں کو پاکستان، ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے پسند کیا گیا۔ ان کے اِن شہرہ آفاق ناولوں کو نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔ ’راجہ گدھ‘ نے بانو قدسیہ کو دنیا کے چوٹی کے ناول نگاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ ضیاء شہزادؔ نے بانو آپا کی جدائی کو خوبصورت الفاظ میں اس طرح خراج تحسین پیش کیا ؎

سُونی سُونی ہو گئی بزمِ ادب آج بانوؔ آپا بھی رخصت ہوئیں

منتظر جنت میں تھے اشفاقؔ بھی مرحبا! وہ داخلِ جنت ہوئیں

ادبی شخصیت ظہیر الحسن جاوید نے بہت سچ کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب کو یہ دنیا چھوڑ کے جانا ہے مگر کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو سوچ کا ایک دائرہ بناتی ہیں، اور ایک بڑا طبقہ ان کی سوچ سے متاثر ہو جاتا اور یوں ایک طبقے کی کردار سازی ہوتی ہے، محترمہ بانو قدسیہ بھی ایسی ہی راہنما شخصیت تھیں، علم اور زبان پر ان کی گرفت بڑی مضبوط اور وہ زندگی کو مذہبی خطوط پر استوار کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں‘۔ بلاشبہ بانو قدسیہ کی شخصیت بے بہا خوبیوں کا خزانہ لیے ہوئے تھی۔ وہ بجا طور پر اردو ادب کا درخشندہ ستارہ تھیں آٹھ دہائیوں تک ادب کی دنیا میں اپنی چمک دمک سے علمی و ادبی دنیا کو منور رکھا۔ وہ از خود تو اُس دیس چلی گئیں جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آیا کرتا لیکن وہ اپنی خوبصورت تحریروں کا حسین جھومر چھوڑ گئیں ہیں جو ادب کی دنیا میں انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ بانو قدسیہ کی رحلت سے اردو فکشن کے ایک دور کا اختتام ہو گیا، ایک عہد تمام ہوا، ادب کا سنہری باب بند ہو گیا بقول حمزہ حامی ’سرائے ادب کی آخری مسافر، دنیائے ادب کا ایک عظیم درخشاں ستارہ، ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا‘۔ بانو آپا کی زندگی کا سفرجو 28 نومبر 1928 میں ہندوستان کے شہر فیروز پور مشرقی پنجاب سے شروع ہوا تھا پاکستان کے شہر لاہور میں 4 فروری 2017 کو 88 سال 2 ماہ اور 7 دن علم و ادب کی دنیا میں آب و تاب دکھانے کے بعد اختتام کو پہنچا لیکن اپنے پیچھے ایسی روشن مثال چھوڑ گیا جو بانو قدسیہ کی یاد ایک طویل عرصہ تک دلاتا رہے گا۔ ہمارے دوست کالم نگار، شاعر و ادیب ارشد قریشی ارشیؔ نے بانو قدسیہ کو ادیبوں کی ماں کہا،، ارشی کا شعر ؎

آج ٹوٹا ہے ادب کا بڑا روشن ستارہ آج بچھڑی ہے اک ماں ادیبوں سے

ادیب، شاعر اور کالم نگار عطا الحق قاسمی نے اپنے کالم ’بانو آپا کی وصیت‘ (جنگ 9 فروری 2016) میں بانو قدسیہ کے بارے میں لکھا ’میں بانو قدسیہ کو اردو ادب کی مدر ٹریسا سمجھتا ہوں، میرے نزدیک مدر ٹریسا مامتا کی علامت ہے اور بانو آپا کی شخصیت کا اگر نچوڑ بیان کیا جائے تو وہ ایک ہی لفظ یعنی ’’مامتا‘‘ میں سمویا جا سکتا ہے۔ سراپا محبت، سراپا شفقت، دعائیں ہی دعائیں! کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، ان کے سامنے آتا تھا تو ایک معصوم سا بچہ بن جاتا تھا جو بانو آپا سے محبتیں، دعائیں اور شفقتیں سمیٹ کر لے جاتا تھا‘۔

بانو قدسیہ نے دیہات کے ماحول میں آنکھ کھولی اور پرورش پائی، ان کا خاندان زراعت کے پیشے سے وابستہ تھا لیکن حصول علم اس خاندان کا طرۂ امتیاز تھا۔ لڑکے ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی مضبوط روایت اس خاندان میں پائی جاتی تھی۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے فیروز پور میں حاصل کی۔ بانو قدسیہ ابھی ساڑھے تین برس کی تھی کہ اپنے والد بدر الزماں کے سائے سے محروم ہو گئیں۔ ان کے والد کا انتقال 31 برس کی عمر میں ہو گیا تھا، ان کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر اُس وقت 27 برس تھی۔ جوانی میں بیوگی کے غم کے ساتھ اولاد کی پرورش کی ذمہ داری کو انہوں نے حوصلے اور دانشمندی سے انجام دیا۔ ذاکرہ بیگم نے اپنی بیٹی بانو کی پرورش اس انداز سے کی کہ ان کی بیٹی ادب کے میدان میں امر ہو گئی۔ بانو کے والد سرکاری ملازم تھے اور اعلیٰ سرکاری عہدہ پر فائز تھے جب کہ ان کی والدہ محکمہ تعلیم میں ملازم تھیں بعد میں انسپیکٹر ہوئیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ بانو قدسیہ کو کہانی نویسی کا فن قدرت کی جانب سے ودیعت ہوا تھا۔ اس لیے کہ فیروز پور ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، وہاں کا ماحول دیہاتی تھا لیکن لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دی جاتی تھی۔ فیروز پور سے میرا بھی کچھ کچھ تعلق اس طرح ہے کہ میری والدہ اس شہر کے بارے میں اکثر بتایا کرتی تھیں، میرے نانا پٹواری تھے، ان کا تبادلہ فیروز پور ہو گیا، اس طرح میری والدہ اور دیگر احباب نے فیروز پور میں کچھ وقت گزارا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری نانی کا انتقال بھی فیروز پور ہی میں ہوا اور وہ مشرقی پنجاب کے اِسی قصبے میں ابدی نیند سو رہی ہیں۔ بانو قدسیہ نے اپنی والدہ اور بھائی کے ہمراہ فیروز پور سے گرداس پور اور پھر 1936 میں ’دھرم سالہ‘ منتقل ہو گئے۔ میٹرک تک کی تعلیم بانو قدسیہ نے انہیں قصبوں اور دیہاتوں میں حاصل کی۔

بانو قدسیہ ابھی پانچویں جماعت میں تھی جب اُس نے کہانی لکھنے کی ابتدا کی۔ اپنے لکھنے کی ابتدا کے بارے میں بانو قدسیہ کا کہنا تھا کہ ان کے اسکول میں ہر سال ثقافتی پروگرام کا انعقاد ہوتا اس میں ڈراما فیسٹیول بھی شامل ہوا کرتا تھا۔ اس وقت جب کہ وہ پانچویں جماعت میں تھی ان کے اسکول میں ہر کلاس کو ایک ڈراما پیش کرنا تھا، اس موقع پر بانو کی کلاس میں یہ مشکل پیش آئی کہ ڈرامہ کون لکھے گا، بانو کی ہم جماعتوں اور اسکول کی استانیوں کو یہ علم تھا کہ بانو قدسیہ کلاس میں ’ڈرامائی باتیں‘ کیا کرتی ہے، اِسے لکھنے کا شوق بھی ہے، پڑھنے میں بھی طاق تھی، چنانچہ ڈراما لکھنے کی ذمہ داری بانو قدسیہ کو سونپ دی گئی۔ بانو کہتی ہیں کہ ’انہوں نے اس ذمہ داری کو اپنے لیے ایک کڑا امتحان تصور کرتے ہوئے قبول کیا اور ایک ڈراما تحریر کیا جو ان کی کہانی نویسی کا نقطۂ آغاز تھا۔ اس کے بعد کہانیاں، ڈرامے اور افسانے لکھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا جو میٹرک تک جاری رہا‘۔ وہ لکھتی تو رہیں لیکن چھپنے کی نوبت نہیں آئی۔ اس دوران انہوں نے بے شمار کہانیاں، افسانے اور ڈرامے لکھ لیے تھے۔ ان کی تحریروں کی اشاعت کا سلسلہ اشفاق احمد سے ان کی شادی کے بعد شروع ہوا۔ ان کا پہلا افسانہ 1950 میں لاہور کے ادبی جریدے ’’ادب لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔ افسانے کی اشاعت بقول بانو قدسیہ ان کے شوہر کی مرہون منت تھی۔

 بانو قدسیہ کا خاندان قیام پاکستان سے پہلے ہی گورداس پور سے لاہور آ گیا تھا۔ لاہور میں اپنے قیام کے دوران بانو قدسیہ نے اسلامیہ کالج لاہور سے ایف اے کیا اور 1947 میں کنیئرڈ کالج لاہور سے بی اے کا امتحان دیا ابھی نتیجہ نہیں آیا تھا کہ پاکستان کا قیام یقینی دکھائی دیا تو یہ خاندان اس خیال سے کہ ان کا آبائی قصبہ پاکستان کا حصہ ہو گا واپس گورداس پور چلا گیا۔ تقسیم ہند کا اعلان ہوا تو ہندوستان کے ہندو لیڈروں نے انگریز کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے بہت سے علاقوں کو جو پاکستان کا حصہ بننا طے ہو چکے تھے، آخری وقت میں ان علاقوں کو ہندوستان میں شامل کروا لیا۔ ان میں سے ایک گورداس پور بھی تھا۔ یہ خبر کہ گورداس پور ہندوستان کا حصہ ہے بانو قدسیہ کے خاندان پر بجلی بن کر گری۔ اس خاندان نے فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان میں ہر گز نہیں رہیں گے اور پاکستان ہجرت کر جائیں گے۔ چنانچہ ان کے خاندان نے رات کی تاریکی میں گاڑیوں اور ٹرکوں پر گورداس پور سے لاہور کا قصد کیا، اس سفر میں اس خاندان کے متعدد افراد کو ہندو اور سکھ انتہا پسندوں اور پاکستان دشمنوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کے باوجود خاندان کے زندہ بچ جانے والے افراد اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور لٹ پٹ کر لاہور پہنچے ان میں بانو قدسیہ بھی تھیں۔ لاہور پہنچ کر کچھ اوسان بحال ہوئے تو زندگی کی گاڑی کو پھر سے رواں دواں رکھنے کی سعٔی شروع ہوئی، کالج جا کر معلوم کیا تو بانو قدسیہ کا بی اے کا رزلٹ آ چکا تھا اور وہ نمایاں حیثیت سے کامیاب تھی۔ بانو قدسیہ نے میتھ اور معاشیات کے مضامین کے ساتھ بی اے کیا تھا۔ لیکن بانو قدسیہ کی والدہ کو کسی نے یہ مشورہ دیا کہ اسے اردو میں ایم اے کراؤ اس لیے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، مستقبل میں اردو میں ایم اے زیادہ فیض پہنچائے گا۔ چنانچہ قدسیہ نے گورنمنٹ کالج لاہور کا رخ کیا اور ایم اے اردو میں داخلہ لے لیا۔ یہ وہ دور تھا جب بانو قدسیہ کی زندگی میں اشفاق احمد شامل ہو جاتے ہیں۔

بانو قدسیہ کے اشفاق احمد سے ملاپ کی داستان، جب اشفاق احمد زندہ تھے وہ سناتے رہے۔ ایسا بھی ہوا کہ کسی پروگرام میں دونوں نے اپنی زندگی کی داستان بیان کی۔ معروف وکیل اور ٹی وی اینکر نعیم بخاری کے ساتھ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نے اپنے ملاپ کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 1949 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا، ایم اے کی سطح کی غالباً یہ پہلی کلاس تھی اس میں تین لڑکے اور تین لڑکیاں تھیں، ان میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ کے علاوہ قیوم نظر بھی تھے۔ اشفاق احمد صاحب کے بقول انہوں نے بانو میں کچھ ایسی خوبیاں اور اچھائیاں دیکھیں جو ان میں نہیں تھیں چنانچہ اشفاق احمد کے کہنے کے مطابق انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ خوبیاں تو میرے اندر پیدا ہو نہیں سکتیں کیوں نہ ان اچھائیوں اور خوبیوں کی حامل کو اپنے گھر ہی لے جاؤں اور انہوں نے محترمہ بانو قدسیہ کو باقاعدہ پیغام دے دیا۔ بانو قدسیہ مشرقی پنجاب کے چٹھہ خاندان سے تعلق رکھتی تھی جب کہ اشفاق احمد ’خان‘ تھے یعنی ان کا خاندان پٹھان تھا۔ بہ ظاہر ملاپ مشکل تھا، خان صاحب کے خاندان نے دیوار بننے کی کوشش کی لیکن دونوں کی محبت سچی تھی، عشق کو فتح ہوئی۔ البتہ دونوں کی کو خواہش کی تکمیل میں سات برس لگے۔ اشفاق احمد کی ذہانت، عاجزی، انکساری، خاکساری، فروتنی نے سیدھی سادھی، معصوم سی، بھولی بھالی، غرور، تکبر اور گھمنڈ سے نہ آشنا بانو پر ایسا کام دکھا یا کہ اس نے اشفاق احمد کے ساتھ زندگی بھر ساتھ نبھا نے کا فیصلہ کر لیا اور حسن و خوبی کے ساتھ اس فیصلے کو 61 برس نبھایا۔ آتشؔ نے کہا ؎

محبت سے بنا لیتے ہیں اپنا دوست دشمن کو

جھکاتی ہے ہماری عاجزی سرکش کی گردن کو

 بانو قدسیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی اشفاق احمد میں اعلیٰ لکھاری والی خوبیاں دیکھیں، وہ کلاس میں ان کی مدد کیا کرتے تھے، اشفاق احمد کی وجہ سے بانو قدسیہ کا ایک افسانہ بلکہ پہلی تحریر بعنوان ’واماندگی شوق‘ ادبی جریدے ’ادب لطیف‘ میں شائع ہوا۔ یہ بانو قدسیہ کی تحریر چھپنے کا نقطہ آغاز تھا۔ بانو قدسیہ کو بھی اشفاق احمد بہا گئے، اچھے لگے، یہاں تک کہ اشفاق احمد کا سائیکل پر کالج آنا جانا بھی بانو قدسیہ کو اچھا لگتا تھا۔ بنیادی طور پر وہ سادگی پسند تھیں، بناوٹ نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اشفاق احمد کا شادی کا پیغام 1956 میں قبول کر لیا گیا اس طرح یہ ادبی شخصیات زندگی کے سفر کی ساتھی ہونے کے ساتھ ادب کی ساتھی بھی بن گئیں۔ دونوں ایک سے ایک بڑھ کر، اشفاق صاحب کا پلڑا بھاری تھا، بانو آپا کا کہنا تھا کہ ’میں انہیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں، جو کچھ مجھے آپ آج دیکھ رہے ہیں وہ اشفاق احمد صاحب کی وجہ سے ہوں‘۔ دونوں نے اردو ادب کے لیے جو کام کیا وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ ایک انٹر ویو میں بانو قدسیہ نے کہا کہ ’انہوں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تا وقت کہ میری شادی نہیں ہو گئی پھر اشفاق احمد میرے بڑے معاون مدد گار بلکہ استاد ہوئے، اس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا، بلکہ کئی دفعہ اشفاق صاحب نے میری حوصلہ افزائی اور حوصلہ شکنی بھی کی اور میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ زندگی کے آخری لمحات تک ان کا رویہ استاد کا رہا میں انہیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی، آج میں جو کچھ بھی ہوں وہ اشفاق احمد کی وجہ سے ہوں‘۔

(باقی انشاء اللہ آئندہ شمارہ میں)