//قرۃ العین حیدر – افسانہ اور ناول نگاری کی بادشاہ
قرۃالعین حیدر

قرۃ العین حیدر – افسانہ اور ناول نگاری کی بادشاہ

. اردو افسانہ و ناول نگاری کی بادشاہ قرة العین حیدر ایک ایسی عبقری لکھاری تھیں کہ جب بھی ذکر افسانے یا ناول کا ہو گا یا پھر 21 اگست آئے گی تو ان کو پڑھنے والے انہیں یاد کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ ناول کی دنیا میں ’آگ کا دریا‘ ایک ایسا شاہکار کارنامہ ہے کہ جسے تحریر کیے برسوں سال بیت گئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ کل ہی کی بات ہے۔ اردو کی یہ مایۂ ناز ادیبہ 21 اگست 2007 کو ہمیشہ ہمیشہ کے ملک عدم کوچ کر گئیں لیکن وہ اپنی خوبصورت تحریروں میں آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔ انہوں نے افسانوں، ناولوں اور کہانیوں کا ایسا بے بہا خزانہ، لفظوں کی کہکشاں، حسین جملوں کی بے مثال قَمَر پَیکَر چھوڑی ہے کہ جس کی مثال اردو ناول و افسانہ کی تاریخ میں مشکل ہی سے ملے گی۔ قرة العین حیدر معروف اردو کے پہلے افسانہ نگار سجاد حیدر یلدرم کی صاحبزادی ہیں۔ افسانہ نگاری انہیں اپنے والد سے ورثہ میں ملی تھی لیکن وہ صرف افسانہ نگار ہی نہ تھیں بلکہ ناول نگار اس پائے کی کہ آج تک ’آگ کا دریا‘ اور ’آخر شب کے ہمسفر‘ کا مقابل کا ناول سامنے نہ آ سکا۔ ان کا ناول ’آگ کا دریا‘ اور ’آخر شب کے ہمسفر‘ کو اردو ادب کی شاہکار تخلیق گردانا جاتا ہے۔ اس پر انہیں بھارتی حکومت کی جانب سے با وقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

عالمی شہرت یافتہ یہ ادیبہ قرة العین حیدر 20 جنوری 1927 میں علی گڑھ میں پیدا ہوئیں، وہیں پلی بڑھی، تعلیم حاصل کی۔ خاندان اردو ادب کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو افسانے کے پہلے افسانہ نگار شمار کیے جاتے ہیں۔ قرة العین حیدر کا انتقال 21 اگست 2007 کو دہلی کے نزدیک ایک اسپتال نوئیڈا (Noida) میں ہوا، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے قبرستان میں مدفن ہوئیں۔ قرة العین حیدر ان ادیبوں میں سے تھیں کہ جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت 1947 میں پاکستان ہجری کی کچھ ہی عرصہ بعد وہ لندن چلی گئیں اور وہاں سے ان کی سوچ نے شاید حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان آنے کے بجائے واپس اپنے وطن ہندوستان چلی جائیں، جہاں پر ان کے آباء و اجداد کی قبریں تھیں، ان کی یادیں تھیں اور وہ 1960 میں لندن سے واپس دہلی سدھار گئیں۔ ’تھی خاک جہاں کی پہنچ وہی پروہ‘، در اصل ان کا وجود ہندوستان کی مٹی سے بنا تھا اسے اپنے مقام پر واپس پہنچنا تھا، حالات اور واقعات تو ذریعہ بن جاتے ہیں۔

قرة العین حیدر نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا، ہندوستان کے اخبار Imprint اور Illustrated Weekly Indiaسے وابستہ رہیں ساتھ ہی کہانیاں بھی لکھتی رہیں۔ صحافی کی حیثیت سے تو وہ مشہور نہ ہوئیں البتہ کہانی نویس، افسانہ نگار اور پھر ناول نگاری نے انہیں اس وقت بامِ عروج پر پہنچا دیا جب ان کا ناول ’آگ کا دریا‘ 1959 میں لاہور سے پہلی مرتبہ شائع ہوا۔ اس کے بعد ان کے افسانوں اور ناولوں کی لائن لگ گئی۔ کیونکہ وہ ہندوستان کی سرزمین میں پلی بڑھی تھیں، ان کا خاندان عرصہ دراز سے ہندوستان کی مٹی سے وابستہ تھا، ان کے والد تو اردو کے پہلے افسانہ نگار تھے ہی ان کی والدہ ’نذر زہرہ‘ بھی لکھاری تھیں۔ انہوں نے بھی کہانیاں لکھیں۔ انہوں نے شروع میں بنتِ نذر الباقر کے نام سے اس کے بعد نذر سجاد حیدر (1894۔ 1967) کے نام سے کہانیاں لکھیں۔ باپ افسانہ نگار، ماں کہانی نویس تو بیٹی بھلا کیسے پیچھے رہ سکتی تھی۔ ایسی صورت میں قرة العین حیدر کی تحریروں میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے کرداروں کا غلبہ ہونا قدرتی عمل تھا۔ چنانچہ ان کے اس عمل کو بعض ناقدین نے تنقید کا نشانہ بنایا بقول زاہدہ حنا ’’قرة العین حیدر کے بارے میں یہ فتویٰ بھی دے دیا گیا تھا کہ وہ خان بہادروں اور رائے بہادروں کے خوش باش لڑکوں اور لڑکیوں کی کہانی لکھتی ہیں، زبان ان کی انگریزی زدہ ہے اور ان کے کرداروں کا تعلق ہماری مٹی سے نہیں۔ ان کی سیاسی بصیرت، تاریخی سماجی حقائق کے ادراک پر بھی مٹھی بھر راکھ ڈالی گئی‘‘۔ ادیب، دانشور اور لکھاری کسی بھی قسم کی چار دیواری سے آزاد ہوتا ہے، اس کی سوچ کا تعلق تمام طرح کے حدود و قیود سے ماورا ہوتا ہے، وہ سیاسی، نسلی، علاقائی، لسانی اور تعصب کی پابندیوں اور گروہ بندیوں میں جکڑا ہوا نہیں ہوتا اس کی سوچ، خیالات و فکر ان تمام چیزوں سے جدا ہوتی ہے۔ لہٰذا لکھاری خواہ کسی زبان کا ہو، کسی ملک سے اس کا تعلق ہو وہ صرف اور صرف لکھاری ہوتا ہے۔ جو کچھ وہ سوچتا ہے، سمجھتا ہے، محسوس کرتا ہے، خاص طور پر اپنے ارد گرد کے ماحول سے، اپنے وسیع مطالعہ کی بنیاد پر، اب برقی میڈیا پر دکھائے جانے والے گفت و شنید کے مکالموں سے جو کچھ وہ اخذ کرتا ہے اپنی تحریروں میں اپنی سوچ شامل کر کے اس کا اظہار کر دیتا ہے۔ چنانچہ قرة العین حیدر جو ’’عینی آپا‘‘ کے نام سے بھی معروف تھیں کی تحریروں کو اسی تناظر میں لینا چاہیے۔ ادیب خواہ پاکستان کا ہو، ہندوستان کا ہویا کسی اور ملک سے اس کا تعلق ہو وہ ادیب اور لکھاری ہی ہوتا ہے اس کی سوچ تخلیقی کے سواکچھ اور نہیں ہوتی۔ عینی آپا ادیبوں، دانشوروں اور لکھاریوں کے لیے صرف ادیب تھیں، لکھاری تھیں، افسانہ نگار تھیں، ناول نگار تھیں اور کہانی نویس۔

عینی آپا کی تحریروں کی پذیرائی تو ان کی زندگی ہی میں شروع ہو چکی تھی۔ انہیں 1967 میں ان کی کتاب ’پت جھڑ کی آواز‘ پر Sahitya Academy Awardسے نوازا گیا، 1989 میں ان کے ناول ’آخر شب کے ہمسفر‘ پرہندوستان کے سب سے با وقار ادبی اعزاز ’گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہندوستان کی حکومت نے انہیں 1985 میں ’پدم شری‘ ایوارڈ دیا، 2005 میں ’پدم بھوشن جیسے اعلیٰ ایوار سے نوازا گیا۔ ادبی اداروں اور انجمنوں کی جانب سے انہیں بے شمار اعزازات اور انعامات سے نوازا جاتا رہا۔ اعزازات یقیناً کسی بھی شخص کی محنت کو سراہنے کا ایک معقول طریقہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی مستحق کو یہ ضرور ملنے چاہیے۔ اصل میں حقیقی اعزاز جو عینی آپا کو حاصل ہے وہ یہ کہ وہ جو تحریری سرمایہ موجودہ اور آئندہ نسل کے لیے چھوڑ گئی ہیں جس سے لوگ طویل عرصہ تک استفادہ کرتے رہیں گے اور کر رہے ہیں، یہ ان کا سب سے بڑا اور عظیم اعزاز ہے۔ ان کا یہ اعزاز کیا کم ہے کہ لوگ انہیں آج بھی اسی محبت اور عقیدت کے ساتھ پڑھ رہے ہیں، یاد کر رہے ہیں۔

قرة العین حیدر نے لندن سے واپس ہندوستان جا کر صحافت کے شعبہ کو اپنے لیے ذریعہ معاش کا ذریعہ بنایا لیکن ان کا اصل مقصد تو ادب تخلیق کرنا تھا۔ اخبارات سے وابستگی تو پیٹ کی مزدوری اور روٹی روزی کے لیے تھی۔ انہوں نے کہانیاں لکھیں، اپنے والد اور والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ افسانے کی جانب آئیں اور پھر ناول نگاری ان کا اوڑھنا بچھونا ٹھہرا۔ انہوں نے بے شمار کتابوں کے ترجمے بھی کیے۔ ان کے والد کو اردو کے پہلے افسانہ نگار اور عینی آپا کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے اردو ادب کو ایک نیا اسلوب اور اچھوتی شناخت دی۔ ان کی تصانیف میں ’میرے بھی صنم خانے 1949‘، ’سفینۂ غمِ دل 1952‘، ’پت جھڑ کی آواز 1965‘، ’روشنی کی رفتار 1982‘، ’چائے کے باغ 1965‘، ’آگ کا دریا 1959‘، ’پکچر گیلری‘، چاندنی بیگم‘۔ ’آخر شب کے ہمسفر‘، ’مرے بھی صنم خانے‘، ’سفینہ غم دل‘، ’کار جہاں دراز ہے‘ کے علاوہ دلبر، اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو، سیتا ہرن، گردش رنگِ چمن، آوارہ گرد شامل ہیں۔

قرة العین حیدر استاد بھی تھیں، کیلی فورنیا یونیورسٹی میں مہمان مقررہ رہیں، شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی جہاں پر ان کے والد رجسٹرار رہے تھے Visiting Professor بھی رہیں، بعد میں تا حیات پروفیسر کے مرتبہ پر فائز ہوئیں۔ ان پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہیں، انجمن ترقی اردو پاکستان نے ان کی شخصیت پر ایک کتاب ’’قرةالعین حیدر: اردو فکشن کے تناظر میں‘‘ شائع کی، انجمن ترقی اردو پاکستان کے جریدے ماہنامہ ’قومی زبان‘ نے ان پر خاص نمبر شائع کیا۔ انہوں نے تو افسانہ، ناول اور کہانی کے حوالے سے اس قدر مواد تخلیق کیا ہے کہ ہمارا مورخ برسوں ان کو اپنا موضوع بناتا رہے گا، محقق ان کے تخلیق کردہ مواد پر تحقیق کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔ لکھاری ان کی شخصیت اور کارناموں پر قلم چلاتے رہیں گے۔ ان پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں، رسالوں نے خاص نمبر شائع کیے ہیں، مضامین لکھے جا چکے ہیں اور لکھے جا رہے ہیں۔ قرة العین حیدر نے ایک جگہ لکھا

’’جس قسم کے ناول میں لکھتی ہوں، کے لیے تو ریسرچ ظاہر ہے کہ بہت ضروری ہے، علاوہ آرٹ، ہسٹری، آرکیالوجی اور موسیقی سے میری گہری دلچسپی اس چھان پھٹک میں معاون ثابت ہوتی ہے، یہ کون سی انوکھی بات ہے‘۔ پتہ چلتا ہے کہ قرة العین حیدر صرف افسانہ نگار، کہانی نویس اور ناول نگار ہی نہ تھیں بلکہ وہ ایک استاد بھی تھیں، صحافی بھی، انہیں موسیقی، آرٹ، تاریخ اور آرکیالوجی سے بھی لگاؤ تھا۔ یہی نہیں بلکہ ناول نگار اور افسانہ نگار تو اپنے ماحول اور اردگرد کے ماحول کا مطالعہ باریک بینی سے کرتا ہے وہیں سے وہ مختلف کرداروں سے واقف ہوتا ہے جن کو اپنی کہانی، افسانے اور ناول میں خوبصورت انداز سے پیش کرتا ہے۔ قرة العین حیدر نے بھی یہی کیا ہے۔ ان کے کردار آسمانوں میں نہیں رہتے بلکہ یہیں ہمارے آپ کے درمیان گھومتے پھرتے اور اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں فرق یہ ہے کہ ہم انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں جب قرة العین حیدر نے انہیں اپنے ناولوں، افسانوں اور کہانیوں میں بناسنوار کر پیش کر دیا ہے۔ قرة العین حیدر کو اس دنیا سے جدا ہوئے آٹھ برس بیت چکے ہیں لیکن ان کی یاد پڑھنے والوں کے دلوں میں آج بھی روشن اور تابندہ ہے اور یہ یاد ہمیشہ قائم و دائم رہے گی۔

(25 اگست 2005)