کبھی ہم بھی خوبصورت تھے
تحریر: نوشی بٹ
آج آٹھ مارچ ہے، عورتوں کا عالمی دن۔ وہ ایک دن جو ہر سال وطن عزیز میں ایک نئی بحث چھیڑتا ہے۔ خواتین مارچ میں اٹھائے گئے پلے کارڈ پہ لکھے ہوئے نعروں میں سے چن چن کر ان کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے، جن پہ یوٹیوبرز سمیت رائٹ ونگ میڈیا کو بھی ریٹنگز بڑھانے کے لئے کچھ دنوں کا مواد فراہم کر دیتے ہیں۔
قطع نظر اس کے کہ اصل مدعا کیا ہے، اگر ایک دن خواتین اپنے حقوق اپنی پہچان کے بارے میں بات کرتی ہیں تو اس پدرسری سماج کو آخر کیا خطرہ نظر آتا ہے کہ وہ ان خواتین پہ بے حیائی و فحاشی کے الزام لگانا شروع کر دیتے ہیں؟
سوال تو بہت سے ہیں مگر جواب کون دے گا، کسے پڑی ہے کہ وہ دریا کے الٹی سمت سفر کرے۔
ایک لڑکی جو پیدا ہوتے ساتھ ہی اپنے نازک کندھوں پہ بہت سے بوجھ رکھتی جاتی ہے۔ یا یوں کہیں کہ اس پہ بوجھ لاد دیے جاتے ہیں۔ ہم نہیں کہتے کہ سارا سماج ہی ایسا ہو گا، مگر زیادہ تر ایسے ہی ہیں یہ آپ بھی مان لیجئیے۔
اچھا ایک اور چیز جو دیکھنے میں آئے گی کہ جونہی آپ خواتین کے حقوق کی بات کریں گے، ہمارے سماج کے مرد کو لگے گا کہ یہ تو ہمارے گھر کی خواتین کو بگاڑنے کی بات کر رہی ہیں۔ وہ آپ کو فیمینسٹ، دیسی فیمینسٹ، موم بتی مافیا اور ایلیٹ کلاس کی آنٹیاں کہہ کے اپنی فرسٹریشن نکالے گا۔
ہمارا جسم ہماری مرضی کا جملہ ان کو تیلی لگانے کو کافی ہے، جبکہ میں یہ جملہ ایک مرد کے لئے بھی ویسے ہی لازم سمجھتی ہوں، جیسے کسی عورت کے لئے ضروری ہے۔
آپ کا جسم آپ کی ملکیت ہے اسے اس وقت ہی کسی کو چھونا چاہیے جب آپ چاہیں، نہ کہ راہ چلتے ان وانٹڈ ٹچ۔ یہ یوں لگتے ہیں کہ جیسے آپ کے جسم پہ کوئی سانپ سرسرا رہا ہو یا پھر ایسے جیسے کسی نے جلتی چنگاری پھینک دی ہو۔ یہ ان وانٹڈ ٹچ صنف سے بالا ہے بھئی، مان لیجئیے تو اچھا ہے۔
ایک لڑکی جب پیدا ہوتی ہے، اس کی پرورش، کی جاتی ہے، اسے ہوش سنبھالتے ساتھ ہی سمجھایا بتایا جاتا ہے کہ اب تمہاری ذاتی کوئی مرضی نہیں رہے گی۔ اس کے نازک کندھے باپ بھائی کی غیرت کے الاپ سنتے سنتے بڑے ہوتے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ وہ بوجھ والی گٹھڑیاں بھی بڑی ہوتی جاتی ہیں۔ یوں ہنسو، یوں بیٹھو، کتنا پڑھنا ہے، کس سے ملنا ہے، شادی کس سے کرنی اور جائیداد میں سے حصہ نہیں مانگنا۔ یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جن کے لئے سال میں ایک بار خواتین اگر بات بھی کر لیں تو فساد پیدا ہو جاتے ہیں۔
کبھی سوچا ہے اپنے جسم پہ اپنے اختیار کا اصل مطلب کیا ہو سکتا ہے؟ آپ کبھی نہیں سوچیں گے کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ اس کا بس ایک ہی مطلب ہے اور وہ ہے سیکس کی آزادی۔ یعنی میرا جسم میری مرضی کا دوسرا مطلب آپ یہ نکالتے ہیں کہ عورت دودھ والے، سبزی والے، پھیری والوں سمیت ہر ایک مرد کے ساتھ ہم بستری کرنا چاہتی ہے، ان کی زندگی ایک عورت کی آزادی کو سیکس کی آزادی سے آگے سوچ ہی نہیں سکتے۔ حتیٰ کہ یہ تو بہت بعد کی بات ہے۔
آپ کے دماغ میں یہ بات ٹھونک دی گئی ہے کہ عورت کی شلوار سے آپ کی غیرت کا پتہ لگے گا۔ اب اس غیرت میں بھلے آپ گول روٹی نہ بنانے پہ مار دیں، پسند کی شادی پہ مار دیں، تعلیم کا حق مانگنے پہ مار دیں یا پھر انکار کرنے پہ مار دیں۔ چونکہ پدرسری سماج اور مذہب آپ کو بتاتا ہے کہ آپ مرد ہیں، آپ سے زیادہ عظیم تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا، لہذا آپ کی عظمت اسی میں ہے کہ عورت آپ کی برابری کی جرات نہ کرے۔
عورت جس لفظ کے ساتھ ہی آپ کے ذہن و نظر میں رنگ و خوشبو کا تاثر ابھرتا ہے۔ رنگوں میں کھلتا اور خوشبوؤں سے مہکتا وجود۔ مگر ایک وقت آتا ہے کہ اس سارے وجود کو دھندلا دیا جاتا ہے۔ زندگی قدم قدم پہ اس کے لئے ایک امتحان گاہ بن جاتی ہے۔
شادی کی رات ورجینیٹی ثابت کرنے سے لے کر بچے پیدا کرنے اور پھر پالنے تک ایک طویل سفر ہے جو ایک عورت کو کرنا پڑتا ہے۔ بچہ نہ ہونے کا پریشر مرد سے زیادہ ایک عورت کو جھیلنا پڑتا ہے۔ بچہ ہو جائے تو یہاں پھر ایک مصیبت آتی ہے کہ بیٹی کیوں ہو گئی، بیٹا کیوں نہیں۔ بیٹے کے چکر میں سات بیٹیاں کر لیں گے اور آخر کار عورت کو منحوس کہہ کے دامن چھڑا لیں گے۔ بیٹا ہو گیا تو پھر اس کی جوڑی ”رلانے“ (ملانے ) کی فکر لگ جاتی ہے۔
بچہ پیدا کرنا بھلے وہ نارمل ہو یا آپریشن سے اپنے میں ایک آزمائش ہے۔ اپنے جسم کا خیال رکھنے والی پے در پے حمل و بچے کی پیدائش کے دوران کن ذہنی و جسمانی اذیتوں سے گزرتی ہیں، کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ سوچے کیونکہ ہماری مائیں ان کی مائیں اور ان کی بھی مائیں یہی تو کرتی آئی ہیں۔
یہ ppd یعنی پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے تو پی سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ عورت کو بچہ پیدا کرنے کے بعد بھی کسی ذہنی مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ویسے یہ تو بعد کی بات ہے یہ تو خواتین کو پیریڈز میں ہونے والی تکلیف اور موڈ سوینگز کو بھی سمجھ نہیں پاتے۔
ایک عورت جو قربانی دیتی ہے اپنے جسم پہ پڑنے والے سکارز (نشان، داغ) چاہے وہ سی سیکشن کے ہوں چاہے کسی دوسری سرجری کے یا بھلے حمل کے دوران ہونے والی ایچنگ کے۔ کبھی موٹاپا اور کبھی جسمانی کمزوری۔ چہرے پہ جھائیاں، سنہرا رنگ کب گہرا ہو جاتا ہے پتہ ہی نہیں لگتا۔
یہ سب باتیں ایلیٹ کلاس کرتی ہے کہہ کے اپنے دامن مت چھڑائیے۔ عورتوں کو انسان سمجھئیے۔ ان کو بھی ویسے ہی پڑھنے کا حق ہے جیسے مرد کو۔ معاشی خودمختاری اس کے لئے بھی ویسے ہی ضروری ہے جیسے کسی مرد کے لئے۔ شادی کر کے فرض ادا کر دیا کہہ کے کپڑے مت جھاڑئیے جائیداد میں سے حصہ بھی دیجئیے، ورنہ عمرہ و حج پہ جاتے وقت جو بہنوں سے ملنے جاتے ہیں۔ بھول چوک معاف کراتے ہیں یہ والے ڈھکوسلے کرنا بھی بند کر دیجئیے۔ اللہ دلوں کے بھید تو خوب جانتا ہی ہے۔
پسند کی شادی کرنا جرم نہیں ہے۔ شادی کے بعد شوہر اگر مارپیٹ کرتا ہے تو بیٹی کو جنازہ واپس آئے والے بھاشن مت دیں، مری ہوئی بیٹی سے طلاق یافتہ بیٹی بہتر ہے۔
عورت کو پروڈکٹ نہیں، جنس نہیں برابر کا انسان تسلیم کیجئیے۔ ایک بار بیٹھ کے اس کی بھی سن لیجئیے وہ چاہتی کیا ہے، یقین مانیں وہ مادر پدر آزاد اور سیکس کی دکان نہیں بننا چاہتی، وہ بس اپنی عزت چاہتی ہے۔ وہ سکون سے اکیلے سفر کرنا چاہتی ہے، وہ پڑھنا چاہتی ہے، کچھ بننا چاہتی ہے، کامیاب ہونا چاہتی ہے۔ اگر رات دو بجے اس کا آئس کریم کھانے کا دل ہو تو اس معاشرے کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ بنا ڈرے اپنی خواہش پوری کر لے۔
اسے گھر سے نکلتے وقت کسی مخصوص ڈریس کوڈ کسی مخصوص وقت اور کسی مرد کی ضرورت نہ ہو۔ آپ ایسا سماج بنائیے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے ساتھی ہوں، ایک دوسرے کے ایموشنل، فنانشل سپورٹر ہوں۔ ان کو ایک دوسرے کے لئے ”ہوا“ مت بنائیں۔
آج کا دن ان تمام خواتین کے نام جنہوں نے اپنی خوبصورتی اپنے حسن اپنے جسم کو ان کے لئے تیاگ دیا جنہوں نے اس کی رتی بھر پرواہ نہیں کی۔
ان تمام خواتین کے نام جنہوں نے جدوجہد کی، جو گھروں میں ہیں، کھیتوں میں، بھٹوں پہ دفتروں میں حتیٰ کہ وہ بھی جو معتوب ہیں یعنی طوائف و جسم فروش۔
ان تمام مردوں کے لئے دل سے عزت و احترام جو آج کے دن اور سارا سال ہماری بات کرتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں۔
فیمینسٹ ہونے کا مطلب مرد سے نفرت نہیں، بلکہ مرد کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ ہمیں اپنے سے کم تر، بے وقوف، جاہل اور رعایا مت سمجھے۔ آپ ہمیں بس انسان سمجھ لیں آدھے مسائل تو ویسے ہی حل ہو جائیں گے۔
آپ سب کو خواتین کا عالمی دن مبارک۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


