خواتین کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داری
پاکستان میں خواتین کی آبادی تقریباً نصف ہونے کے باوجود، صنفی اور معاشی تفریق کا زیادہ شکار ہیں، انہیں مردوں کے مقابلے میں اجرت کم ملتی ہے۔
پاکستان میں نامناسب حالات کے باوجود خواتین اکثر شعبوں میں آگے بڑھ کر معاشرے میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں، اور خاندان کی مدد میں مصروف ہیں، خواتین کی خدمات اور قربانیوں کو سراہنے کی خاطر سب سے پہلے 1975 میں اس دن کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا اور 1996ء سے ہر سال اس دن کے لئے خاص موضوع چنا جاتا ہے۔
پاکستان میں 8 مارچ میں جب خواتین کے حقوق کے لیے سیمینار یا کسی ریلی کا انعقاد کیا جاتا ہے تو کچھ افراد کی جانب سے ان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کو اور کون سے حقوق چاہئیں اور یہ خواتین 8 مارچ کو ہی سڑکوں پر کیوں آتی ہے لیکن ان افراد کو شاید علم نہیں سب سے پہلے خواتین کے حقوق کیلئے جہدوجہد بھی ایک خاتون نے ہی شروع کی تھی۔
خواتین کی خدمات اور قربانیوں کو سراہنے کی خاطر سب سے پہلے کلارا زیٹکن نامی خاتون کے ذہن میں اس دن کو منانے کا خیال آیا، کلارا زیٹکن ایک کمیونسٹ اور خواتین کے حقوق کی کارکن تھیں۔
1911 میں کچھ ممالک میں اس دن کو خواتین کے حوالے سے مختص کیا گیا، اگر پاکستان کی عالمی درجہ بندی کی بات کی جائے تو صنفی مساوات کی عالمی فہرست میں 146 ممالک میں پاکستان کا نمبر کوئی حوصلہ افزا نہیں آزادی اظہار رائے اور خواتین کے حقوقِ کے حوالے سے ہم بہت پیچھے ہیں، ملک کی نصف آبادی کو سہولیات اور ان کے حقوق پر ریاست کو کام کرنے کی بہت ضرورت ہے۔
روس میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں موجود پدری اصولوں کی وجہ سے آج بھی کئی لڑکیاں گھروں میں بند ہیں، تعلیم کی بات کریں تو دیہات میں کثیر تعداد میں لڑکیاں سکول میں داخلے کے بجائے گھر کے کاموں تک محدود ہیں اور کچھ لڑکیوں کو گھریلو رکاوٹوں کی وجہ سے سکول چھوڑنا پڑتا ہے عورت ایک ماہ ہے ایک بہن ہے ایک بیٹی ہے ایک بیوی ہے ایک کولیگ ہے ایک کلاس فیلو ہے ایک ساتھی اور دوست ہے لیکن کتنا شرمندگی کا مقام ہے کہ ہمارے اس معاشرے میں آج بھی اپنے حقوق کو لیے عورت کو جہدوجہد کرنی پڑتی ہے سب سے بڑھ کر اسے اپنی تعلیم کی بھی آزادی نہیں۔
دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بھی کوئی حوصلہ افزا بات نہیں اگر انتخابات کو ہی دیکھ لیں تو کسی بھی شہر سے کوئی خاتون امیدوار کامیاب نہیں ہو سکی، گزشتہ تین انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے کوئی بھی خاتون کامیاب نہیں ہوسکی کیا وجہ ہے کہ ان شہروں کے عوام نے ایک عورت کو ووٹ کیوں کاسٹ نہیں کیا۔
موازنہ کیا جائے دیہی علاقوں کا تو وہاڑی سے تمینہ دولتانہ دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں ایک مرد کے مقابلہ میں زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں اور اسی طرح دو ہزار اٹھارہ اور چوبیس کے جنرل الیکشن میں ڈیرہ غازی خان جیسے علاقے سے زرتاج گل کامیاب ہوئیں، محترمہ فاطمہ جناح ، بے نظیر بھٹو ، عاصمہ جہانگیر، تہمینہ دولتانہ، کلثوم نواز ، ربیعہ باجوہ اور جسٹس عائشہ اے ملک نے اس معاشرے کی ترقی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اگر عورت کو مکمل آزادی اور اختیارات ملیں تو بہت ساری خواتین ان سے بھی زیادہ معاشرے کے ترقی میں اہم فریضہ انجام دیں۔
زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی بھرپور شمولیت یقینی بنانے اور انہیں قیادت کے منصب تک لانے کیلئے ہر فرد کو کردار ادا کرنا چاہیے خواتین ہمارے معاشرے کی معمار، ہمارے گھروں کا ستون اور ہمارے مستقبل کو استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، میدانوں سے لے کر فرنٹ لائنز تک، کلاس رومز سے لے کر گھر کے کچن تک، کورٹ روم سے لے کر ہسپتالوں تک خواتین قوم کے روشن مستقبل کو سنوار رہی ہیں۔
آخر میں کچھ اپنے ذاتی مشاہدے کی بات کروں تو میری کلاس فیلوز لڑکیاں لڑکوں کی نسبت پڑھائی میں بہتر تھیں اور اگر آفس میں اپنی ساتھی کولیگز کی بات کروں تو وہ ہم مردوں سے بہتر اور اچھا کام کرتی ہیں اور اگر اپنے دیہات کی بات کروں تو وہاں بھی عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں، زراعت اور معاشرے کی بہتری کے لیے بھر پور کردار ادا کر رہی ہیں۔
بشکریہ: دنیا نیوز
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


