//صدائے محبت
muhabbat

صدائے محبت

. آصفہ بلال پاکستان
میز پر بکھری فائلوں کو سمیٹتے ہوئے اس نے اپنی رسٹ واچ پر نظر ڈالی …وہ روز تقریباً اسی وقت آفس بند کیا کرتا تھا…آج کوئی خاص کیس بھی نہیں تھا سو وہ جلدی گھر جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے اسسٹنٹ نے آ کر اسے اطلاع دی کہ کوئی خاتون اس سے ملنا چاہتی ہیں اور یہ کہ وہ کوئی سوشل ورکر ہیں اور کسی کیس کے حوالے سے بات کرنا چاہتی ہیں…وہ اسے منع کر دینا چاہتا تھا لیکن پھر کچھ سوچ کر آنے کا اشارہ کیا…وہ ایسا ہی تھا، ،،کسی کی ضرورت کے لئے اس سے انکار کرنا مشکل ہوتا تھا۔پانچ منٹ کے توقف کے بعد ایک خاتون نفیس ساڑھی میں ملبوس، ،،فائل ہاتھ میں تھامے آفس میں داخل ہوئی…جیسے ہی اس کی نظر خاتون پر پڑی …اس پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا…اسے لگا جیسے وہ قوت گویائی سے محروم ہو گیاہو‘‘شنو…!!!…تم…؟؟؟ اس کے منہ سے بمشکل یہی الفاظ نکل سکے…پانچ سال بعد آج اچانک وہ یوں اس کے سامنے تھی…اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا…مگر وہ حقیقت بنی اس کے سامنے موجود تھی…مگر آج وہ اس شنو سے یکسر مختلف نظر آ رہی تھی…جسے وہ آج سے پانچ سال پہلے جانتا تھا…’’شنو نہیں …شاہینہ سبین…‘‘اس نے نہایت سنجیدہ مگر دکھی لہجے میں کہا …

اور وہ ماضی کے دھندلکوں میں کھو گیا…جب وہ آخری بار ملے تھے…تا حد نظر پھیلے ہرے بھرے کھلیان اور ان کھلیانوں کے بیچوں بیچ دور تک جاتی پگڈنڈی سلیم پور گاوں کی تھی۔پگڈنڈی کے دونوں اطراف سر سبز کھیتوں میں چلچلاتی دھوپ میں کام کرتے کسان؛دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے کام میں مگن تھے۔گو کہ اب زمانہ بدل چکا تھا اور بیلوں کی جگہ ٹریکٹروں نے لے لی تھی لیکن پھر چودھری قدیر الٰہی کے کھیتوں پر کام کرتے مزارعے اچھی پیدا وار کے لیئے اپنا خون پسینہ ایک کردیتے کیونکہ انھیں ان فصلوں میں سے قدیر الٰہی کو بھاری لگان دینا پڑتا تھا۔مگر چودھری قدیر کا جبر تھا کہ روز بروز بڑھتا ہی جا رہا تھا۔سچ ہی کہتے ہیں کہ پیسے کی چمک انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔یہی حال قدیر الٰہی کا بھی تھا۔اسے اپنے سامنے سب حقیر ہی دکھائی دیتے تھے۔وہ پیسے کے بل پر ہر چیز خرید سکتا تھا۔ اسے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا، اس کی بس ایک ہی کمزوری تھی اور وہ تھی اس کی لاڈلی، ،،اکلوتی بیٹی شنو…نام تو اس کا شاہینہ تھا مگر پیار سے چودھری اسے شنو بلاتا تھا۔شنو کو پڑھائی کے علاوہ ہر چیز کا شوق تھا۔اسی لیئے بڑی جدوجہد کے بعد ایف۔ اے تک ہی تعلیم حاصل کرنے پر اکتفا کیا۔سارا دن اپنی سکھیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی پھرتی۔چودھرائن لاکھ سمجھاتی کہ ’’اب تو بچی نہیں رہی…گھر میں ٹک کر بیٹھا کر…اتنی بڑی حویلی ہے …پھر بھلا باہر جانے کی کیا لوڑ؟…‘‘پر وہ بھلی مانس سمجھے تو پھر نا…وہ تو بس اڑتی پھرتی تھی…ہنستی ،کھلکھلاتی…قہقہے لگاتی،شوخ چنچل سی…گورے مکھڑے پر اڑتی متوالی لٹیں اس کے حسن کو چار چاند لگا دیتیں…

جب وہ اپنی کالی کالی آنکھوں میں کجلے کی دھار لگاتی تو لگتا کہ جیسے سویر میں ہی ہنیر پڑ گیا ہو…اس کی سکھیاں اسے چھیڑتیں …‘‘بڑی ہی سوہنی لگتی ہے ہماری ہیر…پر اس ہیر کا رانجھا کتھے اے؟…اور شنو کے گال لال گلاب جیسے ہوتے دیکھ سب کھڑ کھڑ ہنسنے لگتیں…الہڑ مٹیاریں،،دنیا کی فکروں سے آزاد، ،گیت، ،ماہیے گاتی پھرتیں۔
بھولی بھالی سی شنو اپنے باپ سے یکسر مختلف تھی۔اس میں وہ چودھریوں والی پھوں پھاں رتی برابر بھی نہ تھی…شاید اپنی ماں جیسی ہی تھی …سدھی سادی، ،اللہ لوک…اسے اپنے باپ کی کرتوتوں پتہ ہی نہیں تھا۔ویسے بھی چودھری اپنے باہر کے معاملات حویلی سے دور ہی رکھتا تھا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی لاڈو رانی یہ کمی کمین دیکھیں ۔حالانکہ وہ اکثر بڑی ضد کیا کرتی تھی …‘‘ابا مجھے بھی پنچائت دیکھنی ہے …مجھے بھی لے چلو نا…‘‘مگر چودھری قدیر اسے کسی نہ کسی بہانے ٹال دیتا تھا…تب وہ چڑ سی جاتی اور گھنٹوں منہ پھلائے رہتی۔لیکن رات کو جب چودھری قدیر اس کی پسند کی کانچ کی چوڑیاں اور رنگ برنگے پراندے اس کے سامنے رکھتا تو وہ خوشی سے مچل جاتی اور ساری ناراضگی بھول کر چوڑیاں چڑھانے لگتی…آج پھر چودھری قدیر غصے سے آگ بگولا ہو رہا تھا۔سارے مزارعے لگان کی رقم ادا کر چکے تھے مگر صرف کرم علی تھا جس نے قسطوں میں ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا…‘‘اوئے اس کی یہ جرات کہ وہ چودھری قدیر کی گل موڑ دے…‘‘…’’چودھری صاب اس کا منڈا جو پڑھ لکھ گیا ہے،،سنا ہے جی وکیل بن گیا ہے…کہتا تھا ایک دو دن میں پنڈ آ رہا ہے…
’’پھیکے نے انتہائی رازدارانہ انداز میں بریکنگ نیوز سنائی تو چودھری قدیر کی آنکھیں شعلے اگلنے لگیں…‘‘اوئے یہ کمی کمین، ،ہماری برابری کب سے کرنے لگے …آنے دے اسے بھی دیکھ لیں گے…ساری وکیل گیری نہ نکال دی تو میرا نام بھی قدیر الٰہی نہیں…‘‘کرم علی کے گھر مانو عید کا سماں ہو۔اس کی بیوی نے بیٹے کے آنے کی خوشی میں دیسی گھی کے دئے جلائے۔گھر کے آنگن میں نت نئے پکوان کی اشتہا انگیز مہک پھیلی ہوئی تھی…‘‘او بھلے لوکے …!بس کر …اور کتنے پکوان پکائے گی؟کرم علی ہنس کر بولا۔’’سنو جی اکو اک پتر ہے میرا…مجھے نہ ٹوکا کر …کتنے سالوں بعد میرا شاہنواز واپس آ رہا ہے…رب خیر سے لائے…‘‘
سارے گاؤں میں یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی…شاہنواز جب اپنی گاڑی میں گاؤں آیا تو سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔اونچا لمبا، گبھرو جوان بن کے واپس آیا تھا…گاؤں جاتی پگڈنڈی کے قریب شاہنواز گاڑی سے اتر کر پیدل ہی چل پڑا …وہ اپنے گاؤں کی مٹی کی مہک محسوس کرنا چاہتا تھا…وہ شہر ضرور گیا تھا مگر بدلا نہیں تھا…برسوں بعد جب ماں سے گلے ملا تو ماں کی آنکھیں ساون بھادوں ہو گئیں، کرم داد بھی آبدیدہ ہو گیا…‘‘بس ابّا،اب تو کھیتوں میں کام نہیں کرے گا…‘‘شاہنواز نے فیصلہ کن لہجے میں کہا…‘‘او …نہ پتر …کام کرتا رہوں گا تو سدا جوان رہوں گا …اور ویسے بھی یہ ہمارا آبائی پیشہ ہے…تو چھوڑ ان باتوں کو…آرام کر …شام کو چودھری صاب کو حاضری دینے بھی جانا ہے…نہ گئے تو برا منا جائے گا…آخر کو رہنا تو ہم نے اسی پنڈ میں ہے نا…‘‘اور شاہنواز نہ چاہتے ہوئے بھی خاموش ہو گیا کہ کسی مناسب وقت پر پھر ابّا کو سمجھائے گا…شام کو نہا دھو کر دونوں باپ بیٹا چودھری کی حویلی گئے…

کوئی آدھ گھنٹہ انتظار کے بعد قدیر الٰہی بڑی نخوت سے قدم اٹھاتا حویلی کے بڑے کمرے میں داخل ہوا اور آتے ہی بڑے تحقیر آمیز لہجے میں بولا …’’اچھا تو تو ہے شاہنواز …سنا ہے کوئی ڈگری شگری لایا ہے شہر سے؟۔‘‘’’جی چودھری صاحب …! وکالت کی ڈگری لی ہے میں نے…‘‘شاہنواز نے نفرت آمیز نگاہوں سے چودھری کو گھورتے ہوئے کہا…وہ چودھری قدیر کی ظالمانہ فطرت سے اچھی طرح واقف تھا…
’’او چنگا اے …اب تو ہمارے لئے کام کرے گا …ویسے بھی پچھلا وکیل ہمارا اب بوڑھا ہو گیا ہے، دو کیس پہلے بھی ہار گیا ہے…اب تو اس کی جگہ لے لے…‘‘…شاہنواز نے کچھ کہنے کے لب کھولے ہی تھے کہ کرم علی نے ہاتھ دبا کر خاموش رہنے کا اشارہ دیا…‘‘اب ہمیں اجازت دیں چودھری صاب…‘‘کرم علی بولا تو شاہنواز بھی اس کے پیچھے ہو لیا…ابھی وہ جانے کے لیئے پلٹے ہی تھے کہ شنو کسی بہار کے جھونکے کی مانند تیزی سے کمرے میں وارد ہوئی…مگر شاہنواز کو دیکھتے ہی جیسے مبہوت ہو کر رہ گئی…‘‘ہائے ربا،بندے اتنے سوہنے بھی ہوتے ہیں…؟دل ہی دل میں اس نے خود سے سوال کیا ..

.وہ عشق کے تیر سے بری طرح گھائل ہو چکی تھی…شاید وہ اسی طرح پتھر بنی کھڑی رہتی کہ چودھری کی گرجدار آواز نے اسے چونکا دیا…‘‘تجھے کتنی بار سمجھایا ہے شنو کہ بڑے کمرے میں نہ آیا کر…‘‘چودھری نے خفگی بھرے لہجے میں کہا،…’’ابا وہ میں بس یہ بتانے آئی تھی کہ چاچا آیا ہے …تجھے جلدی بلایا ہے…‘‘وہ یہ کہہ کر تیزی سے کمرے سے چلی گئی…اسے لگ رہا تھا کہ جیسے اس کا دل اچھل کر حلق سے باہر آ جائے گا…۔پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہواتھا…حالانکہ اس کے چاچے کا لڑکا اس پر جان چھڑکتا تھامگر شنو اسے دیکھا ان دیکھا کر دیتی تھی…اس کا دل ایک لمحے میں ہی کسی اور کے لئے دھڑکنے لگا تھا…اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تھا…نہ باہر جاتی، ،نہ ہنستی بولتی…چودھرائن نے کئی بار پوچھا …‘‘تینوں چپ کیوں لگ گئی ہے…؟ طبعیت تو چنگی ہے نا…؟اور وہ پھیکی ہنسی ہنس دیتی کہ سب ٹھیک ہے…وہ بتاتی بھی تو کیا…؟اسے اپنی سکھیوں سے پتہ چل گیا تھا کہ اس لڑکے کا نام شاہنواز تھا اور وہ ایک مزارعے کا بیٹا تھا…وہ چودھری قدیر کے بارے میں اور کچھ جانتی تھی ای نہیں ہاں مگر یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ اس کی شادی کسی قیمت پر ایک مزارعے کے بیٹے سے نہیں ہونے دے گا..

.پہلی بار اسے اپنے چودھری کی بیٹی ہونے پر افسوس ہواتھا…کئی بار اس کے جی میں آیا کہ …ابا سے صاف کہہ دے کہ وہ شادی کرے گی تو صرف شاہنواز سے…لیکن وہ جانتی تھی کہ اگر چودھری قدیر کو اس بات کی بھنک بھی پڑ گئی تو شاہنواز کو زندہ نہیں چھوڑے گا…اور ویسے بھی وہ یہ بھی تو نہیں جانتی تھی کہ شاہنواز کے دل میں بھی اس کے لئے محبت ہے یا صرف وہی اس کی یاد میں جل رہی تھی…وہ اسے اپنی محبت کی شدت بتانا چاہتی تھی مگر ہمت نہیں کر پاتی تھی…کئی بار اسے چھپ چھپ کر گلیوں میں آتا جاتا دیکھا مگر سامنے آنے کی ہمت نہ کر سکی…اس کی سہیلی بانو اسے حوصلہ دیتی کہ ’’ایک بار مل لے اس سے…بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی…اورمجھے تو لگتا ہے کہ وہ بھی چاہتا ہے تجھے …میں نے خود اسے تیرے کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھتے دیکھا ہے…‘‘مگر شنو کو یقین کیسے آتا…شاہنواز دو دن کے لئے کسی ضروری کام سے شہر گیا تو اسے یاد آیا کہ ماں نے کہا تھا کہ واپسی پر کڑھائی والی چادر لیتا آئے …اسی خیال سے وہ دکان پر چلا آیا…چادر لیتے وقت اس کی نظر سامنے والی دکان پر پڑی، ،جہاں نیلی، ،پیلی،،لال،،ہری چوڑیوں کو دیکھتے ہی اسے شنو کا حسین مکھڑا یاد آ گیا۔جسے پہلی بار چودھری قدیر کی حویلی میں دیکھا تھا…‘‘کاش تو چودھری کی بیٹی نہ ہوتی…‘‘ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے اس نے سوچا…وہ دل ہی دل میں اسے بے حد چاہتا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کا اور شنو کا کوئی جوڑ نہیں…شام کو جب وہ گھر پہنچا تو اماں نے شنو کی شادی کی خبر سنا کر اس کے سر پر جیسے دھماکہ کر دیا ہو…ایک لمحے کے لئے اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا…وہ گھبرا کر گھر سے باہر نکل آیا…اندر اس کا دم گھٹ رہا تھا…اس کے قدم لاشعوری طور پر چودھری کی حویلی کی طرف اٹھنے لگے…جوں جوں حویلی قریب آ رہی تھی، ،اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا…وہ صرف ایک بار شنو کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے…ابھی وہ گلی کا موڑ مڑا ہی تھا کہ سامنے سے ایک برقع پوش لڑکی کو اپنی طرف آتے دیکھا…وہ کچھ گھبرا سا گیا…واپسی کے لئے قدم بڑھائے ہی تھے کہ اپنا نام سن کر چونک گیا…’’شاہنواز…‘‘
پیچھے مڑ کر دیکھا تو شنو کا آنسووں سے تربتر چہرہ دکھائی دیا…دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں محبت کا اقرار کیا…اور کئی شکوے بھی کر ڈالے…کہ محبت ملے نہ ملے مگر اس کا اظہار ضروری ہے…یہ ان کی پہلی اور آخری ملاقات تھی…شاید ان کی قسمت میں اتنا ہی ساتھ لکھا تھا…

جس دن شنو کی شادی تھی۔ اس سےاگلے ہی روز اپنے ابااماں کو لے کر شہر آ گیا…وہ ویسے بھی چودھری کے ماتحت کام نہیں کرنا چاہتا تھا،،اور نہ ہی اس میں اتنی سکت تھی کہ وہ شنو کا دوبارہ سامنا کر سکتا…اس دن کے بعد سے آج تک اس نے کبھی گاؤں کا رخ نہیں کیا تھا…کئی بار دل میں خیال آیا کہ گاؤں جا کر شنو کا پتہ لوں مگر پھر دل کو یہ کہہ کر سمجھا لیا کہ اب وہ کسی اور کی امانت ہے۔مگر اس کی محبت کو بھلا نہیں پایا تھا…اسی لئے آج تک شادی نہیں کی۔اور آج اتنے سالوں بعد اچانک وہ سامنے آ گئی …اور وہ بھی اس روپ میں…
شاہنواز کے پوچھنے پر شاہینہ نے اسے بتایا کہ اس کی شادی کے دو تین ماہ بعد ہی ا س کے شوہر نے اپنا اصل رنگ دکھانا شروع کر دیا …زمین کے لالچ میں ہی اس نے یہ شادی کی تھی…آہستہ آہستہ اس نے چودھری سے ساری زمین ہتھیا لی…شنو کے ساتھ اس کا رویہ پہلے ہی خراب تھا، ،اب مطلب نکل گیا تو اس نے شنو کو طلاق دے دی…چودھری یہ صدمہ برداشت نہ کر پایا اور دل کا شدید دورہ پڑنے سے اسے ہمیشہ کے لئے چھوڑ گیا…اس کی ماں بھی بیمار رہنے لگی تھی…شنو نے بچی کھچی زمین بیچ دی اور ماں کو لے کر شہر اپنے تایا کے پاس آ گئی…مگر تائی کی بد مزاجی کی وجہ سے تایا جی نے مجبوراً انھیں الگ کرائے پر گھر لے دیا…شنو نے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی شروع کر دی…اور اپنی کالج کی سہیلی کے ساتھ مل کر سوشل ورک کرنے لگی،،

بس پھر اسی کام میں دل لگ گیا اور اب وہ مس شاہینہ سبین کے نام سے جانی جاتی ہے…شاہنواز نے اس کے نازک ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا…‘‘ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ماضی میں کیا ہوا…قسمت نے ایک بار پھر مجھے تم سے ملایا ہے اور اس بار میں تمہیں جانے نہیں دوں گا…‘‘اور اس کی آنکھوں میں امید کے دیپ جھلملانے لگے…