آنکھ کے پردوں پر چھائی دھند
تحریر: مریم ارشد
ذکر ہے 5 ستمبر 2025ء کا جب زندگی نے ہمارے اوپر کچھ اس طرح وار کیا لفظ بھی کانپنے لگے۔ کبھی کبھی رنگ اور منظر مدھم پڑ جاتے ہیں۔ شکلیں مسخ ہو کر بکھرے لگتی ہیں اس رات تقریباً دس بجے میں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی اپنے میاں اور بیٹی کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی کہ منجھلا بیٹا اپنے کمرے سے آیا اور بتانے لگا کہ اسے دائیں آنکھ سے بہت دُھندلا اور چیزیں ٹوٹی پھوٹی اور مسخ شدہ نظر آ رہی ہیں۔ یوں بھی وہ تین چار دنوں سے شدید آدھے سر کے درد کی شکایت کر رہا تھا جسے ہم ڈسپرین وغیرہ سے برت رہے تھے۔ میری بیٹی جو خود بھی ڈاکٹر ہے کہنے لگی اسے فوراً اپنی آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں کسی سرکاری ہسپتال میں نہیں جانا۔ میں اپنے ڈاکٹر کے پاس پہنچی تو کلینک بند ہو چکا تھا۔ فون پر بات ہوئی تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے 12 ربیع الاول کی چھٹی ہے لیکن آپ کل صبح دس بجے لے آئیں میں قطرے ڈال کر باقاعدہ معائنہ کروں گا۔ اگلے روز انہوں نے ہمارے لیے بند کلینک کھولا معائنہ کیا تو بتایا کہ معاملہ کچھ سیریس تو لگتا ہے مگر سوموار کو دوبارہ لائیں تا کہ OCT Scan کیا جائے اور مزید تفصیلی طور پر معلوم ہو گا۔ اس سکین کے بعد بتایا کہ CSR یعنی ریٹینیا میں کوئی فلائڈ جمع ہو گیا ہے۔ اب وہ خود بھی شش و پنج میں پڑے ہوئے تھے کہ کیا کیا جائے۔ خیر ہفتے بھر کی دوا دی اور ہم اپنے دامن میں بہت سا فکر اور پریشانی لیے ہوئے گھر آ گئے۔
ابھی دوائیاں اور قطرے جاری تھے کہ احمد کی دوسری آنکھ میں بھی وہی مسئلہ شروع ہو گیا۔ ہم فوراً دوبارہ ڈاکٹر صاحب کے پاس بھاگے تو ان کے چہرے کا بھی رنگ ڈھل سا گیا شاید وہ یہ امید نہیں کر رہے تھے۔ خیر فیصلہ ہوا کہ آنکھ میں انجکشن لگیں گے۔ وہ شام بہت بوجھل تھی۔ ہم سب فکر مند تھے اور گُو مگو کی کیفیت طاری تھی۔ اچانک میری ایک سہیلی ملنے آ گئی اس نے مشورہ دیا کی جوان بیٹے کی آنکھوں کا معاملہ ہے جس ڈاکٹر کے پاس وہ جاتی تھیں کہنے لگیں اسے بھی دکھا لیں۔ ہم نے بہت مشکلوں کے بعد ان سے رات دیر کا ٹائم لیا کہ وہ لاہور کے نامی گرامی ریٹینا سپیشلسٹ تھے۔ بہن اپنے بھائی کو لے کر گئی واپس آنے پر بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کل ہی انجکشن لگیں گے ورنہ خدانخواستہ بات بگڑ بھی سکتی ہے۔ ظاہر ہے خطرے سے بھر پور مہنگا ترین علاج تھا۔ ہم سب شش و پنج میں پڑے تھے وہ رات آنکھوں میں اور مختلف رشتے دار اور دوست ڈاکٹروں سے مشوروں میں گزری۔ اگلے روز شام چار بجے ڈاکٹر کے کلینک پر پہنچے تو سکین وغیرہ کے بعد انہوں نے بتایا کہ یہ APMPPE CSR نہیں ہے یعنی پچھلے والے ڈاکٹر سے ٹھیک طرح مرض کی تشخیص نہ ہو سکی۔ قارئین! اگر آپ اسے گوگل کریں تو پتہ چلے گا جتنا پیچیدہ یہ نام ہے اس کے پیچھے چھپی اذیت کتنی گہری ہے۔
اس روز ڈاکٹر صاحب کا آپریشن ڈے تھا۔ میں نے پہلے ڈاکٹر صاحب سے ملنے کی درخواست کی تو انہوں نے تھیٹر میں ہی بلوا لیا۔ میں زار و قطار رونے لگی کہ ڈاکٹر صاحب میرے بیٹے کی آنکھیں بہت خوبصورت اور نشیلی ہیں کیا اس کی بینائی بچ جائے گی۔ اللہ کے بعد بس صرف مجھے آپ ہی کا بھروسا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے پر یقین لہجے سے کچھ ڈھارس بندھی اور میں باہر انتظار گاہ میں آ گئی جہاں LCD پر مریض کا پورا آپریشن دکھایا جاتا ہے یعنی ڈاکٹر صاحب کا طریقہ علاج بہت شفاف اور جدید ہے APMPPE میں آنکھ کے اندر خون کی باریک نالیوں میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے جو بعد میں سیاہی مائل دھبوں میں تبدیل ہو کر بینائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ احمد کی دونوں آنکھوں میں انجکشن لگنے کے بعد IV کے ذریعے اسٹیروئیڈ کے ٹیکے بھی بہت دن لگتے رہے جو ہم حمید لطیف ہسپتال سے لگواتے رہے۔ جیسے ہی اس کی آنکھیں بہتر ہونا شروع ہوئیں تو دائیں آنکھ میں فلائڈ دوبارہ سے واپس آ گیا۔ اب تو ہمارے ہاتھ پاؤں پُھول گئے۔ بیٹے کی جوانی کے خواب، کیرئیر، خود مختاری اور روشنیاں سب کچھ ایک سوالیہ نشان بن گیا۔ ڈاکٹر بھی گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ اس سے پہلے ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ فلائڈ دوبارہ واپس آ گیا ہو اور دوبارہ انجکشن لگایا گیا جو لاکھوں روپے کا ہوتا ہے۔
ہم نے بیٹے کی اس بیماری کے ساتھ صرف آنکھوں کی جنگ نہیں لڑی بلکہ مایوسی، بے بسی اور راتوں کی بے خوابی سے بھی لڑائی لڑی۔ اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے بس دعائیں اور آنکھیں آسمان سے لگی رہیں۔ احمد کے مکمل علاج کو چار ماہ سے زیادہ کا ٹائم لگا۔ بہت لوگوں کی بے لوث دعائیں احمد کے خاموش حوصلے نے الٹا مجھے سہارا دیا۔ ایک ماں کے لیے اس کے بیٹے کی دنیا دھند میں ڈوب رہی تھی اس بات کو سہنا یونہی تھا جیسے ننگے پاؤں کانٹوں پر چلنا۔ میں جب ڈاکٹر سے اس کی وجہ پوچھتی تو وہ کہتا یہ عموماً ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اب میں سوچتی ہوں کہ پیسہ اور بروقت لائق ڈاکٹر کی موجودگی بھی کتنی بڑی نعمتیں ہیں ورنہ اس بیماری کا زخم آنکھ پر نہیں بلکہ روح پر لگتا۔ ہمارے معاشرے میں آنکھوں کی بیماریوں کو عموماً چشموں یا موتیے تک محدود سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ بینائی سے جڑا سنجیدہ معاملہ ہے۔ ایک اور بات یہ ہے کہ صحت وہ عطیہ ہے جس کی قدر بیماری کے لمحوں میں شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
یہ کالم محض ذاتی دکھ کی کہانی نہیں بلکہ یہ سب کے لیے پیغام ہے کہ پیچیدہ بیماریوں پر خاموشی جرم ہے۔ آگاہی بانٹیں، بروقت علاج کروائیں۔ جیلوں میں موجود قیدیوں کا علاج بھی فوری ہونا چاہیے کوتاہی سنگین جرم ہے۔ کیونکہ بروقت علاج ہی سب کچھ ہے۔ مریض کے درد کو سمجھیں ورنہ معاشرہ اندھا نہیں رہتا۔ یاد رکھیں! کبھی کبھی ایک تسلی بھرا جملہ، خاموش دعا، اور مسیحا کا شفاف یاب ہاتھ بینائی سے بھی زیادہ روشنی دے دیتا ہے۔ بینائی صرف دیکھنے کا نام نہیں بلکہ خودی، وقار اور خودمختاری کا استعارہ ہے۔ کبھی بھی مریض کو تنہا نہ چھوڑیں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


