شعر و شاعری

غزل ۔ ۔ ۔ پروین شاکر

شاعرہ: پروین شاکر

parveen

چراغِ راہ بُجھا کیا، کہ رہنما بھی گیا
ہَوا کے ساتھ مُسافر کا نقشِ پا بھی گیا

مَیں پُھول چُنتی رہی‘ اور مُجھے خبر نہ ہُوئی
وُہ شخص ،،، آ کے مِرے شہر سے چلا بھی گیا

بہت عزیز سہی اُس کو میری دِلداری
مگر یہ ہے کہ کبھی دِل مِرا دُکھا بھی گیا

اب اِن دریچوں پہ ‘ گہرے دبیز پردے ہیں
وُہ تانک جھانک کا معصوم سِلسلہ بھی گیا

سب آئے میری عیادت کو ، وُہ بھی آیا تھا
جو سب گئے تو مِرا دردِ آشنا بھی گیا

یہ غُربتیں مِری آنکھوں میں کیسی اُتری ہیں
کہ خُواب بھی مِرے رُخصت ہیں رتجگا بھی گیا

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *