ایک دن شاعرِمشرق ڈاکٹرعلامہ محمد اقبالؒ کےساتھ
رپورٹ: فاکہہ قمر۔ سیالکوٹ

سیالکوٹ کی خاموش گلیوں میں ایک دن پھر اقبال کی یاد جاگی۔ خزاں کی ہلکی ہوا میں جیسے خوابوں کی کوئی خوشبو گھل گئی تھی۔ آسمان پر اترتی ہوئی نرم دھوپ نے اقبال کے گھر کی پرانی اینٹوں پر ایک سنہری چادر بچھا دی تھی۔ وہی گھر، جس کی دیواروں نے کبھی ایک ننھے بچے کی سرگوشیاں سنی تھیں، جو آگے چل کر ایک عہد کی آواز بن گیا۔ وہی کمرہ جہاں قلم نے پہلی بار لفظ سے ملاقات کی، اور خیال نے اڑان بھری۔
اسی گھر کی دہلیز پر اس روز ایف ایم 101 سیالکوٹ کی ٹیم پہنچی۔ میڈم انجم چوہدری ایف ایم 101 سیالکوٹ( پروگرام پروڈیوسر)قیادت کر رہی تھیں،وہی مانوس آواز جو ریڈیو پر مسکراہٹ بن کر سنائی دیتی ہے۔ مگر اس دن ان کے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ ایک سنجیدہ چمک بھی تھی۔ وہ چمک جو تب پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے خوابوں کو اپنی تاریخ سے جوڑنے نکلے۔ ان کے ساتھ ان کے ساتھی، کیمرے، نوٹ بکس، اور ایک غیر مرئی عقیدت جو ہر قدم کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔
یہ محض ایک صحافتی یا تفریحی دورہ نہیں تھا، یہ ایک روحانی سفر تھا۔ ایک ایسا سفر جس میں وقت نے جیسے اپنے پردے ہٹا دیے ہوں۔ میڈم انجم نے جب اقبال کے گھر کی چوکھٹ پر پہلا قدم رکھا، تو ان کی نگاہیں خود بخود جھک گئیں۔ کچھ لمحے کے لیے وہاں خاموشی چھا گئی، صرف ہوا کی سرسراہٹ تھی، جو کہہ رہی تھی کہ یہاں خواب جاگتے ہیں، یہاں لفظوں کے چراغ جلتے ہیں۔
ایف ایم 101 سیالکوٹ کی ٹیم نے اس وزٹ کی تیاری کئی دنوں سے کر رکھی تھی۔ تحقیق، اجازت نامے، اور فلم بندی کے منصوبے بنائے گئے تھے۔ ہر رکن کے اندر ایک عجیب سا جوش تھا۔ وہ سب جانتے تھے کہ وہ محض ایک مکان نہیں دیکھنے جا رہے، بلکہ ایک ایسی جگہ جا رہے ہیں جہاں ایک قوم کے خوابوں کی بنیاد رکھی گئی تھی۔میڈم انجم خود بھی اس لمحے کی معنویت کو محسوس کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق یہ وزٹ نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام تھا — کہ اپنی تاریخ کو جاننا، اپنے ہیروز سے جڑنا، اور اپنی پہچان کو سمجھنا ضروری ہے۔

گھر کی عمارت اب بھی اپنی قدامت کے باوجود مضبوط کھڑی ہے۔ چھوٹی سی گلی، پرانی اینٹیں، لکڑی کا دروازہ — سب کچھ جیسے وقت کے کسی پرانے خواب سے نکلا ہو۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک مخصوص مہک محسوس ہوئی، شاید پرانی لکڑی اور کتابوں کی، شاید اقبال کے زمانے کی۔ دیواروں پر لگی تختیاں اقبال کے اشعار سے مزین تھیں۔ ایک کمرے میں چھوٹی سی میز رکھی تھی، جیسے کسی بچے نے ابھی ابھی وہاں سے اٹھ کر باہر دوڑ لگائی ہو۔ یہی وہ کمرہ تھا جہاں اقبال نے بچپن میں اپنی پہلی تعلیم پائی تھی۔
دیوار پر لگی تختی پر لکھا تھا، “یہ وہ جگہ ہے جہاں شاعرِ مشرق پیدا ہوئے۔” میڈم انجم کا کہنا تھا کہ “یہ صرف اینٹوں کا گھر نہیں، یہ خوابوں کی جائے پیدائش ہے۔ اقبال نے یہاں صرف سوچنا نہیں سیکھا، بلکہ خودی کو پہچاننے کا ہنر سیکھا اور آج انہی کی بدولت ہم فخریہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم شہر اقبال میں رہایش پذیر ہیں۔
کمروں کے اندر روشنی مدھم تھی، مگر اس میں ایک نرمی تھی۔ جیسے سورج بھی احترام سے جھانک رہا ہو۔ فوٹوگرافرز نے اپنے کیمرے سنبھالے۔ ہر زاویہ، ہر گوشہ تصویروں میں محفوظ کیا جانے لگا۔ ایک دیوار پر اقبال کے ہاتھ کے لکھے کچھ اشعار کی نقل لگی تھی، جنہیں دیکھ کر ٹیم کے ایک رکن نے دھیرے سے کہا، “یہ وہ الفاظ ہیں جنہوں نے ہمیں جگایا۔”
وزٹ کے دوران میڈم انجم قفے وقفے سے بات کرتی رہیں۔ ان کی گفتگو میں جذبہ اور بصیرت دونوں تھے۔ انہوں نے کہا، “اقبال کی خودی صرف فلسفہ نہیں، یہ طرزِ زندگی ہے۔ آج کے نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر اس روشنی کو دوبارہ تلاش کریں۔” ان کی آواز میں ریڈیو کی مانوس نرمی تھی، مگر اس دن اس میں کچھ اور بھی تھا — ایک عہد کا وزن، ایک فکر کی گہرائی۔
باہر صحن میں ٹیم کے باقی ارکان نے ویڈیو ریکارڈنگ شروع کی۔ ڈاکومنٹری کے ابتدائی جملے کچھ یوں تھے: “یہ سیالکوٹ کی گلی ہے، اور یہ وہ دروازہ جس سے ایک خواب نے سفر شروع کیا۔” آواز میں ایک ایسا ارتعاش تھا جو کیمرے سے آگے دل تک پہنچتا تھا۔
مقامی لوگ بھی اس منظر کو دیکھنے جمع ہو گئے۔ کچھ بزرگ، کچھ اسکول کے بچے۔ ایک چھوٹا سا لڑکا آگے بڑھا اور پوچھنے لگا، “میڈم، اقبال ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟” وہ مسکرا کر بولیں، “اقبال ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم خود پر یقین رکھیں۔ قوموں کی تقدیر ان کے ایمان، علم اور عمل سے بنتی ہے۔” اس جواب پر لوگوں کے چہروں پر ایک خاموش تحسین ابھری۔
اسی دوران ٹیم نے گھر کے مختلف حصوں میں فلم بندی کی۔گھر کے ایک کمرے میں جب ٹیم داخل ہوئی تو وہاں اقبال کے کچھ قیمتی نوادرات سلیقے سے محفوظ تھے۔ ایک پرانا قلم، ایک روشنائی کی دوات، لکڑی کی چھوٹی میز، اور چند کتابیں جن کے ورقوں پر وقت کے نشانات ثبت تھے۔ قریب ہی ایک دیوار پر اقبال کی بچپن کی تصویر آویزاں تھی — ننھا سا چہرہ، مگر نگاہ میں وہی گہرائی جو آگے چل کر دنیا کے فکری نقشے بدلنے والی تھی۔

ان نوادرات کو دیکھتے ہوئے میڈم سمیت پوری ٹیم پر ایک خاموش عقیدت طاری ہو گئی۔ کسی نے بات نہیں کی، سب صرف دیکھتے رہے — جیسے آنکھیں الفاظ سے بڑھ کر سمجھنے لگی ہوں۔ میڈم کا کہنا تھا کہ: ’’یہ چیزیں صرف اقبال کی یادگار نہیں، یہ ان کے خوابوں کی علامت ہیں۔ اس قلم نے وہ سطریں لکھیں جنہوں نے سوئی ہوئی قوم کو جگایا۔‘‘
کیمرے کے فریم میں جب وہ میز، وہ دوات، اور وہ تصویر ایک ساتھ آئی، تو منظر میں ایک تقدس اتر آیا۔ لگتا تھا جیسے وقت رک گیا ہو، اور تاریخ نے ایک لمحے کے لیے سانس لی ہو۔ ہر تصویر میں عقیدت کی جھلک تھی، ہر منظر میں احترام کی گہرائی۔
دروازوں کے قریب کھڑی ہوئی روشنیوں نے پرانی دیواروں کو ایک نیا حسن دے دیا۔ کیمرے کے لینز کے پیچھے موجود نوجوان فوٹوگرافر کے مطابق، ’’یہ عمارت صرف ایک تاریخی جگہ نہیں، بلکہ ایک زندہ احساس ہے۔‘‘
گھر کے پچھلے حصے میں وہ کمرہ بھی محفوظ ہے جہاں اقبال اپنی والدہ کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ وہاں کا سکوت دل کو چھو لینے والا تھا۔ میڈم انجم کا کہنا تھا کہ:
’’شاعر کی بنیاد ہمیشہ ماں کی دعا میں ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے اقبال کا ہر شعر روشنی کی طرح راستہ دکھاتا ہے۔‘‘
وزٹ کے اختتام پر ٹیم نے گھر کے صحن میں ایک گروپ فوٹو لیا۔ پس منظر میں دیوار پر اقبال کا شعر لکھا تھا:
’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں‘‘
یہ منظر جیسے وقت کے کسی لمحے میں ہمیشہ کے لیے قید ہو گیا۔
جب یہ تصاویر اور ویڈیوز ایف ایم 101 کے سوشل میڈیا پیجز پر شیئر ہوئیں تو نوجوانوں کی جانب سے بے پناہ ردِعمل آیا۔ لوگوں نے لکھا کہ’’یہ صرف ایک وزٹ نہیں، ایک احساسِ تازہ ہے۔” کچھ نے کہا کہ “ایف ایم 101 نے ہمیں اپنے شہر اور اپنی شناخت پر نیا فخر دیا ہے۔‘‘
میڈم انجم اور ان کی ٹیم کے لیے یہ کامیابی محض صحافتی نہیں بلکہ فکری تھی۔ ان کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ریڈیو صرف تفریح نہیں بلکہ روشنی بانٹنے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے اس وزٹ کو ایک دستاویزی فلم کی صورت دینے کا فیصلہ کیا، جس کا عنوان رکھا گیا — ’’سیالکوٹ، فکرِ اقبال کا شہر‘‘۔ اس میں اقبال کے اشعار، شہر کے مناظر، اورمیڈم انجم کی آواز میں ایک ایسا امتزاج ہوگا جو ناظرین کو ماضی اور حال دونوں سے جوڑ دےگا۔
واپسی کے وقت میڈم کے چہرے پر ایک سنجیدہ اطمینان تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے انہوں نے کہا، “اقبال صرف شاعر نہیں، وہ احساس ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایمان چاہیے، حوصلہ چاہیے، اور اپنی زمین سے محبت چاہیے۔” ان کے یہ الفاظ ٹیم کے دلوں میں گونجتے رہے۔
ریڈیو پاکستان، خصوصاً ایف ایم 101 سیالکوٹ نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ اپنی نشریات کے ذریعے نوجوانوں میں شعور بیدار کیا جائے۔ اس وزٹ نے اس مشن کو مزید مضبوط کیا۔میڈم نے جاتے ہوئے ایک آخری نگاہ اس گھر پر ڈالی۔ ان کے لبوں پر بے ساختہ اقبال کا شعر آیا:
’’عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے‘‘
یہ شعر جیسے اس دن کی کہانی کا خلاصہ بن گیا۔ اقبال کا گھر اس قوم کی روح کی یاد دہانی ہے، وہ چراغ ہے جو وقت کی گرد میں بھی بجھا نہیں۔ اور ایف ایم 101 سیالکوٹ کی یہ ٹیم، اس چراغ کی لو کو نئی نسل تک پہنچانے نکلی ہے۔
سیالکوٹ کی فضا میں اس روز ایک عجیب خاموشی تھی — مگر یہ خاموشی مردہ نہیں، بولتی ہوئی خاموشی تھی۔ ہر ہوا کا جھونکا جیسے کہہ رہا تھا: “یہ اقبال کا شہر ہے، جہاں خودی اب بھی زندہ ہے، جہاں خواب اب بھی جنم لیتے ہیں۔”
اور شاید یہی اس وزٹ کا حاصل تھا — خواب، یقین، اور روشنی کا وہ سفر جو ایک دروازے سے شروع ہوا، مگر دلوں تک جا پہنچا۔
سیالکوٹ کی وہ فضا اْس دن صرف خاموش نہیں تھی، وہ دعا بن گئی تھی — ایک ایسی دعا جو ہر دیکھنے والے کے دل میں اقبال کے لیے نئے سرے سے محبت جگا گئی۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


