تیروں کو اپنے ہاتھوں پہ فوزی تھی روکتی
فوزی بٹ
خاموش اس لئیے تھی مجھے ڈر خدا کا تھا
چھوڑا نہ میں نے ہاتھ صبر ورضا کا تھا
میں نے ہمیشہ سب کے لئیے کی ہے بس دعا
بستی میں سب کے پاس ہنر بد دعا کا تھا
لرزا بھی پھڑپھڑایا بھی لیکن ڈٹا رہا
ننھے دیئے میں حوصلہ توبہ بلا کا تھا
ترک تعلقات کا ہے تجزیہ یہی
دونوں طرف معاملہ جھوٹی انا کا تھا
دامن میں میرےپھول ستارے ہیں مانگ میں
اس میں اثر ضرور کسی کی دعا کا تھا
خوشبو کا پیرہن لئیے یادیں رلا گئیں
اس میں قصور دوستو کالی گھٹا کا تھا
تیروں کو اپنے ہاتھوں پہ فوزی تھی روکتی
پر جان جس نے لی وہ کسی آشنا کا تھا

