شعر و شاعری

تیروں کو اپنے ہاتھوں پہ فوزی تھی روکتی

Spread the love

فوزی بٹ

خاموش اس لئیے تھی مجھے ڈر خدا کا تھا

چھوڑا نہ میں نے ہاتھ صبر ورضا کا تھا

میں نے ہمیشہ سب کے لئیے کی ہے بس دعا

بستی میں سب کے پاس ہنر بد دعا کا تھا

لرزا بھی پھڑپھڑایا بھی لیکن ڈٹا رہا

ننھے دیئے میں حوصلہ توبہ بلا کا تھا

ترک تعلقات کا ہے تجزیہ یہی

دونوں طرف معاملہ جھوٹی انا کا تھا

دامن میں میرےپھول ستارے ہیں مانگ میں

اس میں اثر ضرور کسی کی دعا کا تھا

خوشبو کا پیرہن لئیے یادیں رلا گئیں

اس میں قصور دوستو کالی گھٹا کا تھا

تیروں کو اپنے ہاتھوں پہ فوزی تھی روکتی

پر جان جس نے لی وہ کسی آشنا کا تھا

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *