شعر و شاعری

میں نے بھی رات آنکھوں میں ساری گزار دی

Spread the love

امۃ الباری ناصر

صدقے اس ذات پاک کے جس نے سہار دی

مجھ سی خزاں نصیب کو تازہ بہار دی

لگتا ہے خاک میری ٹھکانے پہ جالگی

جب میں نے جان جان سے پیارے پہ وار دی

کچھ بندشیں تھیں ‘خوف تھےاور ناروا سلوک

عمر عزیزساری گھٹن میں گزار دی

اس کی شکست دیکھنے کا حوصلہ نہ تھا

پھرمیں نے اپنی جیتی ہوئی بازی ہاردی

دیتی رہی تسلیاں اپنی ہی باز گشت

نا مہرباں کو میں نے صدا بار بار دی

ہر لمحہ امتحان تھا ہر گام ابتلا

ہنس کر گزار دی کبھی رو کر گزار دی

سانسوں کی ڈور دے دی حوادث کے ہاتھ میں

سر سے یہ ذمہ داری بھی آخر اُتار دی

میں نے تو پھول پھول سجائی ہے اس کی راہ

اس نے جو رہگزار دی ہے خارزار دی

اس نے بھی خواب آنکھوں میں رکھ کے بھلا دیا

میں نے رات آنکھوں میں ساری گزار دی

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *