میں نے بھی رات آنکھوں میں ساری گزار دی
امۃ الباری ناصر
صدقے اس ذات پاک کے جس نے سہار دی
مجھ سی خزاں نصیب کو تازہ بہار دی
لگتا ہے خاک میری ٹھکانے پہ جالگی
جب میں نے جان جان سے پیارے پہ وار دی
کچھ بندشیں تھیں ‘خوف تھےاور ناروا سلوک
عمر عزیزساری گھٹن میں گزار دی
اس کی شکست دیکھنے کا حوصلہ نہ تھا
پھرمیں نے اپنی جیتی ہوئی بازی ہاردی
دیتی رہی تسلیاں اپنی ہی باز گشت
نا مہرباں کو میں نے صدا بار بار دی
ہر لمحہ امتحان تھا ہر گام ابتلا
ہنس کر گزار دی کبھی رو کر گزار دی
سانسوں کی ڈور دے دی حوادث کے ہاتھ میں
سر سے یہ ذمہ داری بھی آخر اُتار دی
میں نے تو پھول پھول سجائی ہے اس کی راہ
اس نے جو رہگزار دی ہے خارزار دی
اس نے بھی خواب آنکھوں میں رکھ کے بھلا دیا
میں نے رات آنکھوں میں ساری گزار دی

