یہ تیغ نظر کی ادا مفت ہے
ساجدہ شاہد (جرمنی)
صداقت ہے جھوٹی جفا مفت ہے
یہاں زر ہے مہنگا حیا مفت ہے
محبت کا مخزن ہے دل تو مرا
جفا بھی کرو تو وفا مفت ہے
الٰہی کرم کا یہ قانون ہے
ہو توبہ اگر تو رضا مفت ہے
اندھیرا ہے ہر سو ہی پھیلا ہوا
سمیٹو جو ہمت ضیا مفت ہے
بنا تاک کے وار ہر سو کرے
یہ تیغ نظر کی ادا مفت ہے
ہے نا پید جنسِ خلوص و وفا
گراں سادگی، پر ریا مفت ہے
گلوں نے، تبسم کیا جب سُنا
خزاں میں بھی بادِ صبا مفت ہے

