ہمارا دل بہت رنجور ہوگا
شاعرہ: دیا جیم
ہمارا دل بہت رنجور ہو گا
نظر سے جب دیاؔ وہ دور ہو گا
وہ آئیں تو سہی اک پل کو بے شک
ستم ان کا ہمیں منظور ہو گا
تری قربت کی مہکی بے خودی میں
ہر اک لمحہ بہت مسحور ہو گا
ملن کی ہر گھڑی میں میرے جاناں
محبت کا ہی پھیلا نور ہو گا
ادھوری داستاں جذبے ادھورے
فسانہ تو یونہی مشہور ہو گا
محبت کی حسیں ان وادیوں میں
یہ اپنا عشق اک دن طور ہو گا
سرِ مقتل جو دیوانہ چلا ہے
کسی کے پیار میں مجبور ہو گا
کبھی جائیں گے ہم ان وادیوں میں
محبت ہی جہاں دستور ہو گا


