درد کی راہ سے ہی پلٹے ہیں
دیا جیم
درد کی راہ سے ہی پلٹے ہیں
اس لئے شام اوڑھ ہنستے ہیں
درد لکھتے ہیں گنگناتے ہیں
جب کبھی آپ یاد آتے ہیں
شہر سارا ہی ایک جیسا ہے
جانے وہ کس گلی میں ٹھہرے ہیں
ایک ہم ہی یہاں ہیں شیدائی
ایک ہم ہی یہاں اکیلے ہیں
جس نے کی باغ کی بیابانی
پیڑ اس کے ہیں پھول اس کے ہیں
وقت بے وقت کاٹنے والے
کس لئے آج مل کے بیٹھے ہیں
اک دیا میں نے بھی جلایا ہے
دیپ اوروں کے بھی تو جلتے ہیں

