شعر و شاعری

درد  کی راہ سے ہی پلٹے ہیں

Spread the love

دیا جیم

درد  کی راہ سے ہی پلٹے ہیں

اس لئے شام اوڑھ ہنستے ہیں

درد لکھتے ہیں گنگناتے ہیں

جب کبھی آپ یاد آتے ہیں

شہر سارا ہی ایک جیسا ہے

جانے وہ کس گلی میں ٹھہرے  ہیں

ایک ہم ہی یہاں ہیں شیدائی

ایک ہم ہی یہاں اکیلے ہیں

جس نے کی باغ کی بیابانی

پیڑ اس کے ہیں پھول اس کے ہیں

وقت بے وقت کاٹنے والے

کس لئے آج مل کے بیٹھے ہیں

اک دیا میں نے بھی جلایا ہے

دیپ اوروں کے بھی تو جلتے ہیں

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *