اسلامی تعلیمات

آنحضرت ﷺ کا دعاؤں میں گدازاور گریہ و زاری

Spread the love

تحریر امۃ الباری ناصر۔ امریکہ

ہر کہ عارف تراست ترساں تر

حضرت محمد مصطفیﷺ کا دعاؤں میں گداز اور گریہ و زاری کا اپنا ہی رنگ تھا ۔ آپؐ اپنے رب کے سب سے زیادہ عاشق تھے ۔ذکر الٰہی آپؐ کی روحانی غذاتھی ۔ لو لاک لما خلقت الافلاک کا تاج سر پر تھا مگر پیشانی شکر گزاری میں خاک پر تھی رب کے محبوب تھے مگر ناز نہیں تھا عجز و نیاز تھا ۔ آپؐ کی رفیق زندگی حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کَانَ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ کہ حضور ؐہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے تھے ہر لمحہ ہر ساعت آپؐ یادِ خدا میں ڈوبے رہتے تھے۔

عبد اور معبود کے درمیان دعا خاموشی اور رازداری سے کی جاتی ہے ۔ لیکن جب دل گداز ہو ‘ درد حد سے بڑھ جائے تو آنکھ سے آنسو گرتے ہیں جو دوسروں کو نظر آجاتے ہیں ۔ سسکیاں بھی بے اختیار ہوجاتی ہیں ۔ جس سے داعی کی کیفیت کھل جاتی ہے ۔ ایسی ہی کچھ کیفیات درد و گداز اور انداز طلب چاہنے والوں کی نظر اور سماعت میں آیا اور انہوں نے روایت کرکے ہمارے لئے محفوظ کر لیا ۔

جنگِ بدر معرکہ ٔ اسلام و کفر تھا ظاہری طاقت کا کوئی موازنہ نہ تھا۔ مگر خدائے عظیم وبرتر نے فتح کی بشارتیں دی تھیں صادق الوعد خدا پر حق الیقین ہونے کے باوجود ایک دل انتہائی عاجزی سے اپنے مالک کے در پر جھکا ہؤا تھا ۔ جب قریش مکہ نے عام حملہ کردیا

’’ اس وقت آنحضرت ﷺ نہایت رقّت کی حالت میں خدا کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے دعائیں کر رہے تھے اور نہایت اضطراب کی حالت میں فرماتے تھے کہ : اَللّٰھُمَّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہٖ الْعِصَابَۃَ فَلَنْ تُعْبَدْ فِی الْاَرْض اَبَدًا اے میرے مالک ! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج اس میدان میں ہلاک ہوگئی تو دنیا میں تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا ۔ (بخاری و مسلم ) اس وقت آپؐ اتنے کرب کی حالت میں تھے کہ کبھی آپؐ سجدہ میں گر جاتے تھے اور کبھی کھڑے ہوکر خدا کو پکارتے تھے اور آپؐ کی چادر آپؐ کے کندھوں سے گر گر پڑتی تھی اور حضرت ابو بکرؓ اسے اٹھا اٹھا کر آپؐ پر ڈال دیتے تھے۔ حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ مجھے لڑتے ہوئے آنحضرتﷺ کا خیال آتا تھا تو میں آپ کے سائبان کی طرف بھاگا جاتا تھا لیکن جب بھی میں گیا میں نے آپؐ کو سجدہ میں گڑگڑاتے ہوئے پایا اور میں نے سنا کہ آپؐ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے یا حی یا قیوم یا حی ویا قیوم یعنی اے میرے زندہ خدا اے میرے زندگی بخش آقا حضرت ابو بکر آپؐ کی اس حالت کو دیکھ کر بے چین ہوئے جاتے تھے ۔ اور کبھی کبھی بے ساختہ عرض کرتے تھے

یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں ۔ آپؐ گبھرائیں نہیں ۔ اللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا ۔

مگر اس سچے مقولہ کے مطابق کہ ہر کہ عارف تر است ترساں تر آپؐ برابر دعا اور گریہ و زاری میں مصروف رہے ۔( سیرت خاتم النبیین صفحہ 361)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس شدید گریہ وزاری کی وجہ جانتے تھے فرمایا کہ:

’’بدر کی فتح کی پیش گوئی ہو چکی تھی، ہر طرح فتح کی امید تھی لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رورو کر دعا مانگتے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے عرض کیا کہ جب ہر طرح فتح کا وعدہ ہے تو پھر ضرورت الحاح کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات غنی ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ وعدۂ الٰہی میں کوئی مخفی شرائط ہوں‘‘۔ (ملفوظات جلد1صفحہ8 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہےکہ مجھ سے دعائیں مانگو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ خاص طور پر مضطر اور مظلوم کی دعا عرش کے پائے ہلا دیتی ہے ۔دعا میں دل کا دردبے ساختہ الفاظ میں ڈھلتا ہے تکلف اور لفاظی نہیں ہوتی ۔ مانگنے کا بھی ایک سلیقہ ہوتا ہے ۔ دعا کی اصل روح ،اپنے خالق حقیقی کو قادر مطلق یقین کرتے ہوئے ، اس پر کامل توکل کرتے ہوئے،اسی کی طرف جھکنا اورفریاد کرنا ہے۔عاجزانہ اعترافِ کم مائیگی کس طرح دل گداز الفاظ میں ڈھلتا ہے ۔بارگاہ ایزدی میں رسول اللہ ؐ عرض کرتے ہیں:

اے خدا ! تُو ہی میرا رب ہے۔ تیرے سوا کوئی قابل عبادت نہیں ۔تُو نے مجھے پیدا کیا اور مَیں تیرا بندہ ہوں ۔اور اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں ۔اپنےکاموں کے خراب پہلو سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ تیرے احسانوں کا معترف اور اپنی کوتاہیوں کا اقراری ہوں ۔تیرے سوا کوئی پَردہ پوش نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہ بھی خوشخبری دی تھی کہ آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف ہیں۔لیکن کیا اس کے بعد آپ ﷺ نے نمازیں پڑھنی یا استغفار کرنا یا دعائیں مانگنا بند کر دیا ؟ ہر گز نہیں ۔تاریخ گوا ہ ہے کہ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک آپ ﷺ نے دعاؤں کے دامن کو تھامے رکھا ۔

حضرت عائشہؓ یہ روایت کرتی ہیں کہ :

آپﷺ رات کو اس قدر لمبا قیام فرماتے تھے کہ اس کی و جہ سے آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے۔ یہ کھڑے ہو کر جو نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس پر مَیں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کے سارے گناہ بخشے گئے ہیں۔ پہلے بھی اور بعد کے بھی تو اب بھی اتنا لمبا قیام فرماتے ہیں ؟ تو آپؐ نے فرمایا کیا مَیں خدا کا عبد شکور نہ بنوں جس نے مجھ پر اتنا احسان کیا ہے۔ کیا مَیں اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے نہ کھڑا ہوا کروں۔ (بخاری -کتاب التفسیر۔ سورۃ الفتح۔ باب قولہ لیغفرلک اللہ ما تـقدم من ذنبک وما تأخر)

حضرت عائشہؓ ہی سے روایت ہے کہ:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میرے پاس تشریف لائے اور بستر پر لیٹ گئے ۔ پھر آپؐ نے فرمایا اے عائشہ !کیا آج کی رات تو مجھے اجازت دیتی ہے کہ اپنے ربّ کی عبادت کر لوں۔ میں نے کہا خدا کی قسم مجھے تو آپ کی خواہش کا احترام ہے اور آپ کا قرب پسند ہے۔ میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔ تب آپ اٹھے۔ مشکیزہ سے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنی شروع کی اور اس قدر روئے کہ آنسو آپ کے سینے پر گرنے لگے اور نماز کے بعد دائیں طرف ٹیک لگا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ آپ کا دایاں ہاتھ آپ کی دائیں رخسار کے نیچے تھا۔ پھر رونا شروع کر دیا یہاں تک کہ آپ کے آنسو زمین پر ٹپکنے لگے۔ فجر کی نماز کے وقت حضرت بلالؓ بلانے کےلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کو اس طرح گریہ وزاری کرتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گزشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا مَیں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں اور میں کیوں نہ روؤں کہ آج رات میرے رب نے یہ آیات نازل کی ہیں۔ وہ آیات ہیں آل عمران کیاِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِلَاٰیٰتٍ لِاُولِی الْاَلْبَابِ- الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ۔ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا۔ سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار (آل عمران:192-191) یعنی یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ اور اے ہمارے ربّ توُ ہمیں آگ کے عذاب سے بھی بچانا۔

حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ:

ہم آنحضرتﷺ کے ساتھ مکّہ سے مدینہ واپس لوٹ رہے تھے جب ہم عَزْوَرَاء مقام پر پہنچے تو آنحضور ؐ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کچھ دیر دعا کی۔ پھر حضور سجدہ میں گر گئے۔ اور بڑی دیر تک سجدہ میں رہے پھر کھڑے ہوئے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ پھر سجدہ میں گر گئے۔ آپ نے تین دفعہ ایسا کیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ مَیں نے اپنے رب سے یہ دعامانگی تھی اور اپنی امت کیلئے شفاعت کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ایک تہائی کی شفاعت کی اجازت دے دی۔ میں اپنے رب کا شکرانہ بجالانے کیلئے سجدہ میں گر گیا اور سر اٹھا کر پھر اپنے رب سے امت کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے مزید ایک تہائی امت کی شفاعت کی اجازت فرمائی۔ پھر میں شکرانہ کا سجدہ بجا لایا۔ پھر سر اٹھایا اور امت کیلئے اپنے رب سے دعا کی۔ تب اللہ تعالیٰ نے میری امت کی تیسری تہائی کی بھی شفاعت کیلئے مجھے اجازت عطا فرما دی۔ اورمیں اپنے رب کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کےلئے گر گیا۔ (ابوداؤد- کتاب الجہاد- باب فی سجود الشکر)

حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف روایت کرتے ہیں کہ :

آنحضرتﷺ ایک دن مسجد میں تشریف لائے اور قبلہ رُو ہو کر سجدے میں چلے گئے۔ بہت لمبا سجدہ کیا۔ اتنا لمبا کہ مَیں آپ کو دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ بلکہ یہاں تک میری پریشانی بڑھی کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کر لی ہے۔ اس پریشانی کی حالت میں مَیں آپ کے قریب پہنچا تو آپ سجدہ سے اٹھ بیٹھے۔ آپ نے فرمایا کہ کون ہے؟ مَیں نے عرض کی یا رسول اللہ! مَیں عبدالرحمن ہوں۔ پھرمَیں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!آپ کا یہ سجدہ اتنا زیادہ لمبا ہو گیا تھا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کی روح تو قبض نہیں ہو گئی۔ آپ نے فرمایا کہ میرے پاس جبریل آئے تھے اور یہ خوشخبری دی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں فرماتا ہے کہ جو آپ پر درُود بھیجے گا اس پر میں رحمتیں نازل کروں گا۔ اور جو سلامتی بھیجے گا اس پر مَیں سلامتی نازل کروں گا۔ اس بات پر مَیں سجدہ شکر بجا لا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کر رہا تھا۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 1صفحہ 512-513حدیث نمبر: 1664مسند عبدالرحمن بن عوف مطبوعہ بیروت ایڈیشن 1998ء)

آپؐ کی اندھیری راتوں کی دعاؤں کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہوگئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ۔ کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمّی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں ۔ اللّٰھم صل وسلم و بارک علیہ و اٰلہٖ بعد دھمّہ و غمّہ و حزنہٖ لٰھذہ الامّة و انزل علیہ انوار رحمتک الی الابد۔ ‘ (برکات الدعا ۔ روحانی خزائن جلد ۱۱، صفحہ ۱۰، ۱۱)

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جس کے لئے باب الدعا کھولا گیا تو گویا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دئیے گئے۔ اور اللہ تعالیٰ سے جو چیزیں مانگی جاتی ہیں ان میں سے سب سے زیادہ اس سے عافیت مطلوب کرنا محبوب ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دعا اس ابتلا کے مقابلے پر جو آچکا ہے اور اس کے مقابلہ پر بھی جو ابھی نہ آیا ہو، نفع دیتی ہے۔ اے اللہ کے بندو! تم پر لازم ہے کہ تم دعا کرنے کو اختیار کرو۔)ترمذی کتاب الدعوات۔ باب ما جاء فی عقد التسبیح باللہ)

اس رحمت عالم ؐ کا انسانیت پر بڑا احسان ہے کہ بندے کو رب سے براہ راست دعا مانگنے کے آداب و الفاظ سکھا دئے ۔

دعا کا طریق سکھایا کہ دعا حمد و ثنا اور درود شریف سے شروع کی جائے ۔ اس بات کو یقین ہو کہ اللہ قادر مطلق ہے حضور قلب سے کی جائے سے دعا کے ساتھ صدقہ بھی دیں رزق حلال کھائیں ۔ یقین کامل ہو کہ دعا سنی جائے گی اور ۔ صبر سے دعا جاری رکھیں ۔ اپنی ساری دعاؤں سے رہتی دنیا تک استفادہ کے لئے ایک جامع دعا سکھائی :

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَ لُکَ مِنْ خَیْرِ مَا سَئَلَکَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدﷺ، وَنعُوْذبِکَ مِنْ شَرِّمَا اسْتَعَاذَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدﷺ وَأنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَ عَلَیْکَ الْبَلَاغُ۔ (ترمذی کتاب الدعوات)

ا ے اللہ !ہم تجھ سے وہ تمام خیر و بھلائی مانگتے ہیں جو تیرے نبی ﷺ نے تجھ سے مانگی اور ہم تجھ سے ان باتوں سے پناہ چاہتے ہیں جن سے تیرے نبی محمد ﷺ نے پناہ چاہی۔ تو ہی ہے جس سے مدد چاہی جاتی ہے ۔پس تیرے تک دعا کا پہنچانا لازم ہے۔

اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

One thought on “آنحضرت ﷺ کا دعاؤں میں گدازاور گریہ و زاری

  • Saliha tahir

    بھیج درود اس محسن پر تو دن میں سو سو بار۔
    پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *