//مغل دسترخوان
biryani

مغل دسترخوان

  تحریر: سلمیٰ حسین دہلی

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مغل حکمرانوں نے فن آشیزی (کھانا پکانے کے فن) کو آگے بڑھایا اور ہندوستان کے سادہ کھانوں کو ایک فن کی شکل دی۔دسویں اور گیارھویں صدی میں مسلمانوں کے عہد حکومت میں آشیزی نے غیر ملکی اثرات قبول کیے۔ ایرانی، ترکی، ہندوستانی اور مشرق وسطی کے دوسرے ممالک کے ذائقوں کے تال میل نے اس فن کو ایسے اعلی مقام پر پہنچایا کہ صدیوں بعد بھی مغلوں کی یہ میراث ہمارے درمیان زندہ و جاوید ہے۔

ظہیرالدین محمد بابر اور بادشاہ ہمایوں کے عہدِ حکومت میں شاہی باورچی خانے نے قابل ذکر ترقی نہیں کی جس کی وجہ بابر کی قلیل مدت حکمرانی اور ہمایوں کی جلاوطنی تھی۔ لیکن اکبر کے دور حکومت میں شاہی باورچی خانے کا ذکر بہت باریک بینی اور جزیات کے ساتھ ملتا ہے۔اکبر کے نورتن ابوالفضل کی تصنیف آئین اکبری کے اندرجات شاہد ہیں کہ اکبر بادشاہ کی بیشتر غذا گندم، چاول اور دالوں پر مشتمل تھی یعنی عہد اکبری کا کھانا تین اقسام کا تھا۔صوفیانہ وہ کھانا جس میں گوشت شامل نہیں ہوتا تھا، چند کھانے اناج اور گوشت کو ساتھ ملا کر پکائے جاتے تھے اور کچھ کھانوں کو گھی، دہی اور مصالحہ جات کے ساتھ پکایا جاتا تھا۔حلیم، دوپیازہ، زرد برنج، اور شیر برنج اسی دور کے پکوان (خوان) ہیں جو آج بھی ہم بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ترکی، افغانی اور ایرانی کھانوں کے ساتھ اب ہندوستانی کھانے بھی شاہی دسترخوان کی زینت بننے لگے تھے۔

جہانگیر ایک عاشق مزاج بادشاہ کی حیثیت سے بھی معروف ہے اور ان کے جمالیاتی ذوق کو بہت سراہا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے ان کی فرصت کا بیشتر وقت کشمیر کی حسین وادیوں میں گزرا۔ وہ شکار کے شوقین تھے اور چڑیوں کا بھی شکار کرتے تھے۔ان کے دربار کے باورچیوں نے بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی جستجو میں چڑیوں کے انواع و اقسام کے خوان شاہی دسترخوان پر پیش کیے۔تیتر، بٹیر، مرغابی، بطخ وغیر کے کباب اور سالن بادشاہ کو مرغوب تھے۔ نورجہاں نے اپنی جدت پسندی سے کھانوں کو مزید رونق بخشی۔مغل حکمراں طبعاً گوشت خور واقع ہوئے تھے جس کی اہم وجہ اس جگہ کی آب و ہوا تھی جہاں سے ان کا تعلق تھا۔ گوشت کا تعلق طاقت اور بہادری سے تھا اور ایک بادشاہ میں ان صفات کا ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔شاہی باورچی خانے میں روزانہ بے شمار کھانے تیار کیے جاتے تھے۔ کچھ پختہ اور کچھ نیم پختہ اور بادشاہ کا اشارہ پاتے ہی خاصہ لگ جاتا تھا۔چاول کے آٹے کو عرق گلاب اور مصری کے ساتھ ابال کر ٹھنڈا ہونے کے بعد طشتریوں میں پیش کیا جاتا تھا۔ شاید یہ ہمارے زمانے کی کھیر کا آغاز تھا۔چاول کے آٹے کو بادام اور مرغ کی بوٹیوں کے ساتھ کُوٹ کر عرق گلاب اور عنبر کی آمیزش کے ساتھ ملا کر شیرینی بنائی جاتی تھی۔ یہ شاہی دسترخوان کی محبوب شیرینی تھی۔ہر طرح کے اچار، مربے، چٹنیاں، تازہ ادرک کے لچھے، رسیلے لیموں، سبز دھنیے اور پودینے مختلف تھیلیوں میں مہر بند کیے جاتے تھے۔ دہی بھری طشتریاں بھی خاصہ کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔اچار مربے شاہی حکیم کی نگرانی میں تیار کیے جاتے تھے۔ پھلوں سے بنائے جانے والے شربت اور مربے اشتہا انگیز، زود ہاضم اور کئی بیماریوں کا علاج تھے۔شاہی ضیافتوں کے علاوہ بادشاہ حرم میں خاصہ تناول فرماتے اور کسی بھی غیر شخص کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ بادشاہ کو کھانا کھاتا دیکھ لے۔پان مغل تہذیب کا اہم حصہ تھا۔ پان کے پتوں کو عرق گلاب اور کافور سے ملا جاتا تھا۔ سپاری (ڈلی) عرق صندل میں ابالی جاتی تھی۔ چونا زعفران اور عرق گلاب کی آمیزش سے تیار کیا جاتا تھا۔گیارہ پانوں کا ایک بیڑا تیار کیا جاتا اور چاندی کے خاص دان میں پیش کیا جاتا تھا۔پان کھانے کے بے شمار فوائد بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے چبانے سے زبان ملائم، منھ خوشبودار اور پیٹ غیر ضروری گیس سے محفوظ رہتا ہے۔ سپاری قبض آور ہے اور چونا منھ سے کڑوی اور میٹھی رطوبت کو دور کرتا ہے۔

مغلوں کا دارالحکومت بادشاہ کے ساتھ منتقل ہوتا رہتا تھا۔ مغربی سیاح برنیئر لکھتے ہیں: جیسے ہی کوچ کا اعلان ہوتا شاہی باورچی خانہ اپنے تمام عملے کے ساتھ مع ساز و سامان آگے چل پڑتا۔اطالوی سیاح منوچی نے لکھا ہے کہ شاہی باورچی خانہ رات کے دس بجے کوچ کرتا تاکہ بادشاہ کو صبح کا ناشتہ فراہم کرا سکے۔باورچی خانے کا قافلہ 50 اونٹ مع اشیا خوردنی، 50 تندرست فربہ گائے دودھ کے لیے،200 حمال دسترخوان پر پیش ہونے والے برتنوں کے ساتھ، بڑی تعداد میں باورچیوں کا ٹولہ (ایک خوان کے لیے ایک باورچی)، مصالحہ جات مخمل کے ٹکڑوں میں مہربند، آبدار خانے کا عملہ، مشک بردار، مشعل بردار، اور صفائی کرنے والے سپاہیوں کی نگرانی میں سفر کرتا۔مغل بادشاہوں کے شاہی باورچی خانے کے قلمی دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ کھانوں میں مصالحوں کا استعمال بے حد کم تھا۔ زیرہ، دھنیا، ادرک، کالی مرچ، دار چینی، لونگ، سونف جیسے مصالحوں سے کھانے تیار کیے جاتے تھے۔خشک میوے اور زعفران کھانوں کو مرغن اور لذیذ بنانے کے لیے تھے جبکہ بید مشک، عنبر، عرق گلاب اور کیوڑہ کھانے کو معطر بناتے تھے۔ عمدہ، لذیذ اور خوشبودار کھانے بادشاہوں کے شوق اور کمزوری تھے۔پرتگالیوں کی آمد کے ساتھ مغل عہد کے آخری دور میں آلو اور مرچ کا اضافہ ہوا اور نت نئے پکوان دسترخوان کی زینت بنے۔بہادر شاہ کا دسترخوان بے حد وسیع تھا جو ترکی، افغانی، ایرانی اور ہندوستانی کھانوں سے مزین رہتا تھا۔قورمہ، قلیہ، پلاؤ، نان، کباب کے ساتھ پوری کچوڑی، کھانڈوی دال، ہندوستانی مٹھائیاں اور حلوے تجربہ کار باورچیوں کے ہنرمند ہاتھوں کی داد دینے لگے۔

کھانوں کی تفصیل اس بات کی شاہد ہے کہ مغل حکمرانوں نے کس طرح فن آشیزی کو اس کی نفاست اور غذائیت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے آگے بڑھایا اور اسے نئی بلندیاں عطا کیں جو صدیوں بعد آج بھی زندہ وجاوید ہے۔یہ حکمراں نہ صرف تاج محل اور لال قلعے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں بلکہ ان کے عہد کے کھانوں نے بھی انہیں امر کر دیا ہے۔