//اولین مسلمان
mecca

اولین مسلمان

وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْن اُولٰئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ

اور وہ لوگ جو سب سے ایمان لائے وہی حقیقت میں مقربان بارگاہ الہٰی ہیں۔

(1)

قبیلہ قریش شدید قحط سے دوچار تھا اور آپؐ کے چچا جناب ابوطالب جو کثیر العیال تھے تنگدستی میں زندگی گذار رہے تھے۔ آپؐ     کو بچپن میں یتیمی کے دوران اپنے جاں نثار چچا کی محبتیں اور شفقتیں یاد تھیں فکر کرنے لگے کہ کس طرح چچا کی مدد کریں اور تنگدستی سے انہیں نجات دیں۔ آخر کار اپنے دوسرے چچا جناب عباس کے پاس گئے اور ان سے کہنے لگے۔

’’آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بھائی تنگدستی میں گذار اوقات کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں اس آڑے وقت میں ان کی مدد کرنی چاہیئے۔ اس کے لیے میری تجویز یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ان کے ایک فرزند کو اپنی سرپرستی میں لے لے۔‘‘

دوونوں جناب ابوطالب کے پاس گئے اور اُن سے کہنے لگے۔

’’ہم چاہتے ہیں کہ آپ کا بوجھ ہلکا کریں اور آپ کے فرزندوں کو اپنی سرپرستی میں لے لیں۔‘‘

جناب ابوطالب اپنے بیٹوں میں سے عقیل کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ کہتے لگے۔

’’عقیل کو میرے پاس رہنے دو اور دوسروں کے بارے میں جو چاہو کرو۔‘‘

چنانچہ آپ نے اپنے چچازاد بھائی علی ابن ابی طالب کو اور عبّاس نے جعفر بن ابی طالب کو اپنی اپنی سرپرستی میں لے لیا۔

علیؓ نے آپؐ کے گھر میں پرورش پائی اور آپ ہی کے زیرِ تربیت رہے۔

(2)

جناب خدیجہؓ سب سے پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنے شوہر پیغمبرِ خدا کی تصدیق کی اور جب کبھی نبی علیہ السلام نماز پڑھتے وہ بھی علیؓ کے ساتھ آپ کے پیچھے کھڑی ہو جاتیں مدتوں یہ تینوں لوگوں کی نظروں سے دور اور تنہائی میں اس انداز میں خدا کی عبادت کرتے رہے۔

(3)

نبی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور علی علیہ السلام مکہ کے پہاڑوں کی طرف گئے ہوئے تھے کہ دنیا کی نظروں سے دور رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ ایک دن وہ عبادت میں مشغول تھے کہ دفعتًا جناب ابوطالب وہاں پہنچ گئے اور ان کو نماز میں مصروف پایا۔ پوچھنے لگے۔

’’اے برادرزاد! یہ کونسا دین ہے جس پر عمل پیرا ہو؟‘‘ آپ نے جواب دیا:

’’یہ دین اللہ، اس کے فرشتوں، اس کے انبیاء ؑ اور ہمارے دادا جناب ابراہیم علیہ السلام کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دین کے ساتھ انسانوں کی طرف بھیجا ہے اور آپ سب سے پہلے شخص ہیں جنہیں یہ دین قبول کرناچاہیئے اور میری دعوت پر لبیک کہنا اور میری مدد کرنا چاہیئے۔‘‘

اس کے بعد جناب ابو طالب نے حضرت علیؓ کی طرف رُخ کیا اور کہا:

’’اور تم؟‘‘ علیؓ نے جواب دیا۔

’’ابا جان۔ میں اللہ کے رسولؐ پر ایمان رکھتا ہوں اور جو کچھ اللہ کے رسولؐ حکم دینگے اس کی تعمیل کروںگا۔ ‘‘

جناب ابوطالب نے کہا: ’’محمدؐ    تمہیں صرف خیر ہی کی طرف لے جائیں گے۔ ہمیشہ ان کے ساتھ رہو۔‘‘

اس طرح سے جناب ابوطالب نے بھی اسلام قبول کر لیا، گو اس کا اعلان نہیں کیا۔

(4)

 نبی علیہ السلام کے چچا عباس بن عبدالمطلب کا تاجر دوست حج کے لیے مکہ آیا ہوا تھا۔ حج کے بعد وہ اپنے دوست عبّاس کے گھر کچھ سامان خریدنے کے لیے گیا۔

بات چیت کے دوران اس کی نظر اچانک ایک شخص پر پڑی جو نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ پھر ایک چھوٹا سا لڑکا آیا اور اس کے پہلو میں آ کر نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اس کے بعد ایک عورت آئی جو ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے لگی۔ پھر اس مرد نے رکوع اور سجدہ کیا اور ان دونوں نے اس کی اقتداء کی۔

تاجر عباس کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگے: ’’یہ کون سا دین ہے؟‘‘ عباس نے کہا۔

’’یہ میرے بھتیجے محمدؐ بن عبد اللہ کا دین ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی بنا کر بھیجا ہے۔ یہ عورت ان کی بیوی اور یہ لڑکا میرے دوسرے بھائی ابوطالب کا بیٹاعلیؓ ہے۔ ‘‘

(5)

نبی علیہ السلام کی دعوت عرب کے طول و عرض میں محروم انسانوں کے کانوں میں پہنچ رہی تھی۔ ابوذر غفاری جو کہ ایک تجربہ کار اور جہاں دیدہ انسان تھے۔ یہ خبر سُن کر بہت خوش ہوئے اور مکہ کی طرف چل دیئے۔ مکہ پہنچ کر اِدھر اُدھر اپنے مقصود کو ڈھونڈتے تھے کہ اچانک حضرت علی علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی اور جب آپؑ کا معلوم ہوا کہ ابوذر غفاری علیہ السلام کی جستجو میں ہیں تو ان کی آمد ک مقصد سمجھ گئے اور بہت خوشی خوشی انہیں حضور علیہ السلام تک پہنچا دیا۔

ابوذر نے بہت محبت و عقیدت کے ساتھ اپنا تعارف کرایا اور آپؐ سے محو گفتگو ہوئے آپ کے گذشتہ واقعات سُنے اور ان تکالیف و صعوبات اور آلام و مصائب کی جو آپ نے تبلیغ دین کی راہ میں برداشت فرمائے تھے بہت تعریف کی اور اسلام قبول کرنے کی خواہش کاا ظہار کیا۔ نبی علیہ السلام نے انہیں توحید و رسالت کی شہادت تعلیم فرمائی اور اللہ تعالیٰ کے حضور نماز کی تلقین فرمائی۔

ابوذر نے ’’اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ و اشھد انک رسول اللّٰہ‘‘کہہ کر آپؐ   کی بیعت کی۔ کہتے ہیں کہ وہ تیسرے یا چوتھے انسان تھے جو اسلام لائے۔

دوسرے دن صبح کے وقت ابوذر نے لوگوں کو خانہ کعبہ کے پاس اپنے گرد جمع کیا اور پوری جرأت و بے باکی سے کہنے لگے۔

’’اے لوگو! میں خدا کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی نبوت کی گواہی دیتا ہوں۔ جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے بنے ہوئے ہیں۔ تمہیں چاہیے کہ ان کو پوجنا چھوڑ دو اور سارے کے سارے اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھام لو اور مکہ کے ظالموں سے تعلق توڑ دو۔ رزق صرف اس ذات رازق سے طلب کرو، قریش کے دولت مندوں کے سرداری کے دعووں کا مقابلہ کرو اور سوائے خدا کے کسی طاقت سے نہ ڈرو۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے ابوذر کو ان کے اپنے قبیلے میں تبلیغ کے لیے بھیجا۔ انہوں نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی اور ان کی تبلیغ کے نتیجے میں ان کے قبیلہ غفار کا سردار مسلمان ہوگیا۔

(6)

مشرکینِ قریش ایک جگہ اکٹھے بیٹھے تھے اور نبی علیہ السلام کے اثر، عیش و عشرت بھری دنیاوی زندگی کے انجام اور اپنی عظمت و برتری جیسے موضوعات پر گفتگو کر رہے تھے۔

ابوسفیان نے ابوجہل کو مخاطب کر کے کہا۔

’’مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہاری کنیز سمیہ کا بیٹا محمدؐ  کی باتوں سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو ہمارے سب خداؤں سے برتر سمجھنے لگا ہے۔ اپنے گھر میں اس نے ایک نماز خانہ بنا رکھا ہے۔ اور ’’زندۂ بیدار‘‘ اپنا لقب رکھ لیا ہے۔ اب مسلمان ہو کر وہ محمدؐ کی پیروی کرنے لگا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ آیا یہ لونڈی کا بیٹا اپنے پہلے خداؤں کو خاطر میں بھی لانا ہے یا نہیں یا کہ ان کو کم مرتبہ جاننے لگا ہے۔ ‘‘

ابوجہل نے کہا: ’’اگر ہمارے غلام عمار نے گھر میں نماز خانہ بنایا ہے تو میرے چچازاد ’’ارقم‘‘ نے بھی صفا میں اپنے گھر کو اسلام خانہ بنا لیا ہے اور یہ وہی جگہ ہے جہاں محمدؐ   کی فعّال تبلیغ سے اسلام دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔‘‘

(7)

ایک رات جناب آمنہ بنت وہب والدہ ماجدہ نبی علیہ السلام کے چچا ’’سعد‘‘ نے خواب میں دیکھا کہ وہ سخت اندھیرے میں چل رہے ہیں اور اردگرد کی کوئی بھی چیز نظر نہیں آرہی۔ اچانک آسمان میں چاند نمودار ہوتا ہے اور سب اندھیرا دور ہو جاتا ہے۔ جب وہ چاند کی طرف دیکھتے ہیں تو اس میں انہیں حضرت علیؓ، زید بن حارثہ اور اپنا ایک دوست بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ سب انہیں اشارے سے اپنے پاس بلا رہے ہیں۔ وہ ان سے پوچھتے ہیں۔ ’’آپ لوگ یہاں کب پہنچے؟‘‘ تو وہ جواب دیتے ہیں۔

’’ابھی ابھی پہنچے ہیں۔‘‘

سعد بیدار ہو کر بڑی دیر تک بستر میں لیٹے اس عجیب خواب پر غور کرتے رہے لیکن کوئی تعبیر اس کی ان کی سمجھ میں نہ آئی۔ صبح کے وقت وہی دوست جسے انہوں نے خواب میں دیکھا تھا ان کے پاس آیا اور کہنے لگا۔

’’محمدؐ پر آسمان سے وحی نازل ہوئی ہے کہ وہ اس امّت کی طرف خدا کے نبی ہیں۔ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں میں خدائے واحد کی عبادت کے لیے تبلیغ کریں۔‘‘ سعد نے پوچھا:

’’کیا وہ لات و عزیٰ کو باطل قرار دیتے ہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا۔

’’وہؐ پوری آزادی کے ساتھ لوگوں کو بتوں کی پوجا سے باز رہنے کی تاکید کرتے ہیں۔ اس تبلیغ کے عوض وہ کسی مال و دولت کے طالب نہیں کیونکہ خدیجہؑ کے سارے اموال اُنؐ کے تصرف و اختیار میں ہیں اور مرتبہ و مقام کے لحاظ سے وہؐ قریش کے درمیان بڑا رتبہ رکھتے ہیں۔‘‘

اُنؐ کا پیام ان گونگے بہرے پتھر کے ٹکڑوں کی بندگی سے پورے طور پر آزاد ہوکر آسمان و زمین، بحر و بر، ستاروں ، چاند، سورج، ہوا، چشموں اور دریاؤں کے پیدا کرنے والے کی بندگی اختیار کرنا ہے۔

یہ ایسی دعوت ہے کہ اللہ کے حضور میں بندہ و آقا کے درمیان سب فرق مٹا دیتی ہے اور صرف عقیدہ و عمل کو انسان کی عظمت و بزرگی کا معیار قرار دیتی ہے۔ اللہ اور بندے کے درمیان سیدھا راستہ کھولتی ہے۔ جس کے ذریعے ہر شخص اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا اور اس سے قریب ذریعے ہو سکتا ہے۔

’’محمدؐ لوگوں کو محبت و دوستی، نیکی اور پرہیزگاری کی طرف بلاتے ہیں۔ اور ظلم و ستم اور لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے سے منع کرتے ہیں۔ اُنؐ کی یہ دعوت دین ودنیا کی نیک بختی اور ابدی سعادت کی ضامن ہے۔‘‘

دوست کی باتوں سے سعد کے دل کے دریچے کھل گئے۔

انہوں نے پوچھا: ’’کون کون انؐ کے دین میں داخل ہو چکا ہے؟‘‘ دوست نے جواب دیا:

’’علیؓ بن ابی طالبؑ۔ میں اور زید بن حارثہ‘‘

’’سعد کو فورًا وہ خواب یاد آ گیا جس میں علیؓ و زید اور اس دوست نے انہیں چاند میں اپنے پاس آنے کی دعوت دی تھی۔‘‘

وہ مطمئن ہو گئے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی ہدایت منظور ہے۔ پوچھنے لگے۔

’’پیغمبرؐ خدا کہاں ہیں؟‘‘ صحابی نے جواب دیا۔

’’شعب اجیاد (مکہ سے باہر ایک جگہ) میں دنیا کی نظروں سے دور خدا کی عبادت میں مصروف ہیں۔‘‘

سعد ان کے ساتھ نبی علیہ السلام کی خدمت میں روانہ ہو گئے تا کہ توحید و رسالت کی گواہی دے کر مسلمانوں میں شامل ہو جائیں۔

بلال کا ایک دوست جو تازہ مسلمان ہوا تھا، ایک رات گھر سے باہر نکلا اور بلال کے گھر جا کر اس نے باہر سے انہیں آواز دی۔

بلال! بلال!!

بلال نے جو کہ حبشی غلام تھے دروازے کے پیچھے آ کر پوچھا: ’’کون ہو؟ کیا واقعہ ہوا کہ رات کے اس وقت میں آئے ہو؟‘‘

ان کے دوست نے جواب دیا: ’’بہت اہم خبر ہے۔‘‘

بلال نے دروازہ کھول دیا اور کہا: ’’وہ اہم خبر کیا ہے؟‘‘ وہ کہنے لگا: ’’اس اُمّت کے نبی نے ظہور کیا ہے؟‘‘ بلال نے پوچھا

’’وہ کون شخص ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’محمد بن عبد اللہ  ؐ‘‘

پھر وہ بلال سے باتیں کرنے لگا اور اس انداز سے اسلام کے اوصاف ان کے سامنے بیان کئے کہ بلال ایمان لے آئے اور ’’اشھد ان لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ و اشھد اَنَّ محمدًا رسولُ اللّٰہ‘‘ کہہ کر مسلمان ہو گئے۔

مدتوں اصحاب رسولؐ پہاڑوں میں جمع ہو کر قرآن پاک سُنتے اور اسلامی آئین کو مکہ والوں کی آنکھوں سے دور رہ کر سیکھتے رہے۔ حتٰی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنی دعوت علانیہ کریں۔

مکہ والوں میں سے جو لوگ ابتدائی سالوں میں مسلمان ہوئے ان کے نام یہ ہیں۔

ابوذر غفاری۔ زید۔ سعد۔ جعفر بن ابی طالب۔ بلال۔ عمار۔ یاسر۔ زوجہ یاسر۔ سمیہ۔ ارقم۔ حباب۔ ابوبکر۔ عمرو بن عنبسہ۔ خالد بن سعید۔ عثمان۔ طلحہ۔ عبدالرحمٰن بن عوف۔ چند سال کے بعد ارقم کا گھر اصحاب نبیؐ کی اجتماع گاہ بن گیا۔ ابتدائی چند سالوں کی تعداد بیس 20 کے قریب پہنچی۔

TAGS: