//جوابی چٹھی
letter

جوابی چٹھی

(سعدیہ تسنیم سحرجرمنی)

اماں تیری چٹھی ملی۔۔۔اندیشوں کے سانپ اس میں کلبلا رہے تھے۔۔۔ماں کے دل میں کوئ ایسا  آلہ لگا ہوتا ہے جو بچوں کے دکھ محسوس کر لیتا ہے اتنا حساس آلہ ہے کہ جتنے مرضی پردے ڈال لو اس کا دل ضرور اسے خبر دے دیتا ہے کہ ہو نہ ہو میری اولاد کے ساتھ کہیں کچھ گڑ بڑ ہے اب بھلے پتہ نہ چلے کہ وہ گڑ بڑ کیا ہے لیکن دل کا آلہ سگنل وصول ضرور کر لیتا ہے ۔

اماں تو نے لکھا ہے کہ کیسے تیرے دل کو پنکھے لگے ہوے ہیں کوئ پل تیرا مجھے سوچے بغیر نہیں گزرتا  پوتے پوتیوں سے کھیلتے۔۔۔۔۔۔ اپنی بہووں کے لتے لیتے۔۔۔۔۔۔آہونڈیوں گوانڈیوں سے غیبیتں کرتے۔۔۔۔کسی چیز میں تجھے سواد نہیں آتا۔۔۔۔۔  پھر تو نے لکھا کہ اگر میں چاہوں۔۔۔۔۔تو واپس آ جاؤں   بے چنت ہو کر تو آخری سانس تک میرا ساتھ دے گی۔

اماں لمبا پر درد سفر ہو ہر ہر قدم پر پاؤں کے زخم احتجاج کریں اور پاؤں کی زنجیر بس اتنی لمبی ہو کہ اگلا قدم ڈولتے ڈولتے اٹھایا جائے اور ایسے میں اگر کہیں سے سردیوں کی پر حدت دھوپ میں کسی آرام دہ نشست پر بیٹھنے کا موقع ملے تومہجور نشمین لوگوں کے دل میں کیسے کیسے ارمان سر اٹھاتے ہیں اس کا تجھے کیا پتہ دو قدم سستانے کی خواہش دل کی بستی میں کیا حشر بپا کرتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے بہت مشکل۔۔۔

اماں میں  اپنے ہاتھوں کو بہت غور سے دیکھتی ہوں ان کی لکیروں مین خون نطر اتا ہے رفو کرتے کرتے انگلیان بھی لکیروں کی طرح خونچکاں ہو گئیں ہیں مگر نہ تو زخم  ٹھیک  ہوتے ہیں اور نہ ہی ان پر رفو مکمل ہوتا ہے ہر بار نیا رشتہ نیا زخم پتہ نہیں نہ تو ان کا  زخم لگاتے دل بھرتا ہے اور نہ میرا امیدیں باندھتے مجھے ہر بار لگتا ہے اگر میں نے انہیں سچے دل سے اپنا لیا ہے تو یہ مجھے کیوں ٹھکراتے ہیں سمجھ نہیں آتی

اماں تو نے کہا کہ لونڈی بن جا۔۔۔۔مین بن گئ اتنی اچھی لونڈی کہ کسی قسم کا کوئی احساس زندگی کا جاگتا ہی نہیں تھا میں سن تھی ایک روبوٹ  ایک چابی والی گڑیا جو چابی گھماؤ  تو اٹھ جائے اور چابی گھماؤ  تو سو جائے ہاں سوتے میں بھی اپنی آنکھ  آدھی  کھلی رکھی نجانے مالک کو کب صرورت پڑ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اپنے زندہ رہ جانے پر دکھ ہے۔۔۔۔نہیں دکھ  نہیں ہے شاید حیرت ہے سمجھ نہیں آتی  دکھ زیادہ ہے یا حیرت بھلا ایسے حالات میں کون زندہ رہ سکتا ہے۔۔۔پر میں تو زندہ ہوں۔۔۔۔ہاں اگر سانس لینے کا نام زندگی ہے تو میں زندہ ہوں اور مجھے اسی پر حیرت بھی ہے اور دکھ بھی۔۔۔۔۔۔بیٹی ماں کی راز دار ہوتی ہے ماں کے ان کہے دکھ بھی سمجھ لیتی ہے اور تو نے تو ان کہا نہ رہنے دیا لکھوا ہی دیا کہ بے چنت ہو کر آ جاؤں۔

۔۔۔۔۔۔۔پر کیسے اماں؟

یہ تو نے نہیں بتایا۔۔۔۔۔کیسے آوں۔۔۔۔۔؟پاؤں من من کے ہیں۔۔۔ میں

چوہدری حاکم کی بیٹی  طلاق کا جھومر سجا کر واپس آجاؤں  تو میرے باپ  کی پگڑی کا کیا ہو گا پتہ ہے ناں کہ ابا  کی پگڑی سفید دودھ کی طرح سفید۔۔۔۔۔الگنی پر دھو کر نیل لگا کر ڈالی ہوتو جیسے  آسمان  کی بلندیوں پر نیلاہٹ ہو  ایسی لگتی ہے اور تو مجھے کبھی اٹھا کر اندر نہ لے جانے دیتی کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے پگڑی سنبھالنا کہیں تیرے ہاتھ سے چھوٹ جاے تو داغ لگ جاے گا۔۔۔۔اور اب تو چاہتی ہے کہ جس پگڑی کی حفاظت کا درس تو نے مجھے بچپن میں دیا تھا اس پگڑی پر داغ لگا دوں۔۔۔۔اماں تجھے پتہ ہے ناں کہ مجھے دوپٹے اوڑھنے سے کتنی تکلیف ہوتی تھئ اتنا وزن اٹھانا پڑتا تھا۔۔۔۔اور تو مجھے اوڑھاتی تھی۔۔۔۔میں اسی لیے نہیں اوڑھتی تھی کہ اس کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے لڑکیوں کی گردنیں اس بوجھ سے دب جاتی ہیں وہ سر اٹھا ہی نہیں پاتیں باپ کی پگڑی کا وزن۔۔۔۔ماں کے دوپٹے کا وزن۔۔۔۔بیٹی کیسے ہل پائیگی۔۔۔۔تجھے یاد ہے میرا جہیز بناتے وقت دادی نے کہا تھا کہ ہماری ریت ہے کہ کڑی کا گلا کج کے بھیجتے ہیں اور دادی نے چھ تولے کا ست لڑی ہار اور پنج تولے کا کنٹھا بنوا کر دیا تھا اس کا بوجھ زیادہ ہے مجھے گردن اٹھانے ہی نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔میری ساس کو کیسے تائ نے  منہ کھول کر کہا تھا کہ نتھ پہنانا ہمارا رواج ہے پر وہ منڈے والے لے کے آتے ہیں۔۔۔۔۔تو خود ہی تونے میری لگام انکے ہاتھ پکڑا دی تھی کہ یہ لو یہ تمھاری ہوئی۔۔۔۔چوڑیوں کا شوق تیرا تھا پتہ ہے ناں مجھے تو کانچ کی رنگا رنگ چوڑیاں پسند تھیں۔۔۔جو بھاری تو نہیں تھیں اور یہ تیری پسند کی چوڑیاں اتنی وزنی جیسے ہتھکڑیاں کہ د یکھ لاڈو یہ چوڑیاں نہیں یہ وعدوں کی ہتھکڑیاں ہیں۔۔۔۔۔۔ اب کیا کروں تیرے اندیشوں کا جواب  کیسے دوں۔۔۔۔جب شادیوں بیاہوں پر زیور پہنتی ہوں ناں تو ہر زیور مجھے اپنا آپ گروی رکھے جانے کا احساس دلاتا ہے۔۔۔۔رہن رکھی چیزیں بھی کبھی چھڑائ جا سکتی ہیں۔۔۔اگر چھڑائی  جاسکتی ہوتیں تو انہیں رہن رکھا ہی نہ جاتا۔۔۔۔نہ رو نی ما ئے نہ رو۔ اب تو اس رہن پر اتنا سود چڑھ چکا ہے کہ کسی صورت نہیں اترے گا یہ جو عزت نام کا سود خور بنیہ ہے ناں یہ تو نسلیں کھا جاتا ہے اور ڈکار نہیں لیتا تو نے کیسے سوچ لیا کہ تو یہ قرض اتار پائے گی۔۔۔اماں یہ تو میرا قرض ہے مجھے ہی چکانا ہے زندگی دے کے سانس دے کے کیسے بھی۔۔۔تو فکر نہ کر اماں میں تیری اور ابا کی بیٹی ہوں اور عزت کے قرض بیٹیاں ہی چکاتی  ہیں میں بھی چکاوں گی۔۔۔اب یہ خط صندوق میں رکھ کر ایک اور خط بھی لکھنا ہے جس میں ہمیشہ کی طرح حقیقت سے پیٹھ پھیر کر خوش رنگ خوابوں سے اچھا سا دوشالہ بن کر تجھے بھیجنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ خط جو کبھی پوسٹ نہ ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔