اسلامی تعلیمات

حضرت نبی کریم ﷺ کی معجزانہ قبولیت دعا

Spread the love

تحریر:امۃ الباری ناصر امریکہ

اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے پیار کا اظہار اس طرح کرتا کہ آپ کے من کی مرادوں کو الفاظ کا جامہ پہنا کر پیش کرنے سے بھی پہلے سن لیتا کیونکہ وہ تو آپؐ کے دل میں بستا تھا۔ اور آپؐ کا مدعا خدائے تعالیٰ کے مدعا سے الگ نہ ہوتا تھا۔اس عظیم الشان نبی اللہ ؐ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی جلوہ نمائی کا الگ رنگ لئے ہوئے ہے۔ بیشمار واقعات میں سے مختلف مواقع کی چند جھلکیاں پیش ہیں۔

ایک روایت میں آتا ہے مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ جب قریش نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور نافرمانی کی تو آپ ؐنے ان کے خلاف یہ دعا کی۔

اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلَیْھِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ یُوْسُفَ۔

(بخاری کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الدخان باب ربنا اکشف عنا العذاب۔۔۔ حدیث نمبر4822)

آپؐ نے مسلمانوں پر کفار مکہ کے ظلم پر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی

اے اللہ ! میری مشرکین کے مقابلے پر اس طرح سات سالوں کے ذریعہ سے مدد فرما جس طرح تو نے یوسف کی سات سالوں کے ذریعہ سے مدد فرمائی تھی۔ اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا عذاب قحط سالی کی صورت میں نازل ہوا تھا مکہ کو ایک شدید قحط نے آگھیرا یہاں تک کہ ہر چیز تہس نہس ہو گئی لوگ بھوک سے عاجز آکر ہڈیاں اور مردار کھا نے لگے۔ ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دعا کی درخواست کی عرض کی کہ اے محمد ؐ! آپ کی قوم تو ہلاک ہو گئی ہے، اللہ سے دعا کریں وہ ان سے اس عذاب کو ٹال دے۔ آپؐ نے فرمایا تم اس کے بعد پھر نافرمانی اور سرکشی کرنے لگ جاؤ گے عذاب دور ہونے کے باوجود دوبارہ وہی حرکتیں کرو گے۔ تاہم بنی نوع کی ہمدردی کی جو تڑپ آپؐ کے دل میں تھی اس کے تقاضا کے تحت آپؐ نے دشمنوں کے لئے دعا کی کہ عذاب دور ہو جائے۔ دشمن کو بھی آپ کی دعاؤں پر یقین تھا لیکن ضد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے جب عذاب دور کر دیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اور نبیوں کا انکار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

پھر ایک روایت میں آتا ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک دفعہ سخت قحط پڑ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک بدو کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! مال مویشی خشک سالی سے ہلاک ہو گئے، پس اللہ سے ہمارے لئے دعا کریں۔ آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں آسمان پر ایک بھی بادل کا ٹکڑا نظر نہیں آتا تھا، لیکن خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، آپؐ نے ابھی ہاتھ نیچے نہیں کئے تھے کہ بادل پہاڑوں کی مانند امڈ آئے، ابھی آپ منبر سے بھی نہیں اترے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک پر بارش کے قطرات دیکھے، پھر لگاتار اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر وہی بدو کھڑا ہوا اور راوی کہتے ہیں کہ وہ بدو یا کوئی اور شخص، بہرحال جو بھی شخص کھڑا ہوا اس نے کہا اے اللہ کے رسول! اب تو مکانات گرنے لگے ہیں او رمال بہنا شروع ہو گیا ہے، پس آپؐ ہمارے لئے دعا کریں۔ آپؐ نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور دعا کی اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا اے اللہ ان بادلوں کو ہمارے ارد گر د لے جا اور ہم پر نہ برسا۔ آپؐ جس بادل کی ٹکڑی کی طرف بھی اشارہ کرتے تو وہ پھٹ جاتی اور اس بارش سے مدینہ ایک حوض کی مانند ہو گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ وادی کنات ایک مہینے تک بہتی رہی، جو شخص بھی کسی علاقے سے آتا تو اس بارش کا ذکر کرتا تھا۔

(بخاری کتاب الجمعۃ باب الاستسقاء فی الخطبۃیوم الجمعۃ حدیث نمبر933)

قوم پر قحط نازل کرنا

اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے اپنا خاص سلوک دکھانے کے لئے ایسے حالات پیدا فرماتا ہے کہ فہمیدہ لوگوں کو خدائے قادر کا وجود نظر آئے حتّیٰ کہ کم فہم لوگ بھی اعجازی نشانوں کے گواہ ہوں اور ہدایت حاصل کریں

اللہ تعالیٰ قادر ہےچاہے تو قحط ہی نہ پڑے۔

قحط پڑجائے تو صرف نبی اکرم ﷺ کی دعا سے بارش ہو

بارش ہو تو صرف اتنی جس قدر ضرورت ہو

اس وقت تک ہوتی ر ہے جب تک دوبارہ دعا ہو

اور پھر قحط زدہ علاقے میں نہ ہو ارد گرد ہوتی رہے۔

اس طرح اللہ تعالیٰ چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنے نبی کی دعاؤں کی قبولیت کے اعجاز دکھا کر مومنوں کے ایمان مضبوط کرتا ہے۔۔ ابتلا اور امتحان بھی اسی لئے آتے ہیں وہ سمیع اور مجیب خدا بندے کی پکار پر انہیں ٹال کر اپنے جلوے دکھاتا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! اپنے خادم انس کے لئے دعا کریں۔ آپؐ نے دعا کی اے اللہ! اس کے اموال اور اس کی اولاد میں برکت ڈال دے اور جو کچھ تو اسے عطا کرے اس میں برکت ڈال۔

(بخاری کتاب الدعوات باب دعوۃ النبیﷺ لخادمہ بطول العمر و بکثرۃ المال حدیث نمبر6344)

چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ
حضرت انس کا ایک باغ تھا، اس دعا کے بعد سال میں دو دفعہ پھل دیتا تھا۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس کے لئے کثرت مال اور اولاد کی جو دعا مانگی تھی اس کے نتیجہ میں حضرت انس کی زندگی میں 80 کے قریب آپ کے بیٹے اور پوتے اور پوتیاں اور نواسے نواسیاں تھیں اور آپ نے 103 یا بعض روایتوں میں آتا ہے کہ 110سال تک عمر پائی۔

(اسد الغابۃجلد اوّل زیر اسم انس بن مالک بن النضر صفحہ178، مطبع دارالفکر بیروت 1993ء)

ایک اور روایت میں آپؐ کی دشمن کے لئے بددعا اور اس کی قبولیت کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں نماز ادا کر رہے تھے کہ ابو جہل اور قریش کے چند لوگوں نے مشورہ کیا۔ مکہ کے ایک کنارے پر اونٹ ذبح کئے گئے تھے، انہوں نے بھیجا اور وہ اونٹ کی اوجڑی اٹھا لائے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر لا کر رکھ دیا۔ حضرت فاطمہ آئیں اور اسے آپؐ کے اوپر سے اٹھایا۔ اس پر آپ نے فریاد کی اے اللہ! تو قریش کو خود سنبھال، اے اللہ! تو قریش کو خود سنبھال، اے اللہ! تو قریش کو خود سنبھال۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ بددعا ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابو مُعیط وغیرہ کے متعلق تھی۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سب کو بدر کے میدان میں مقتولین میں دیکھا۔

(بخاری کتاب الجہاد و السیر باب الدعاء علی المشرکین بالھزیمۃ والزلزلۃ حدیث نمبر 2934

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *