اصحاب الرَّسِّ
اصحاب الرس کا ذکر قرآنِ مجید میں دو مقامات پر آیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا۳۹
(سورةالفرقان آیت:39)
اور عاد اور ثمود اور کنویں والوں کو بھی اور بہت سی اُن قوموں کو بھی جو اس (عرصہ) کے درمیان تھیں۔
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ۱۳(سورة قٓ آیت:13)
اُن سے پہلے نوح کی قوم نے بھی جھٹلایاتھا اور معدنیات والوں نے اور ثمود نے بھی
عربی زبان میں ’’رس’’اس کنویں کو کہتے ہیں جس کی منڈیر پتھروں سے بنائی گئی ہو۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ وہ ایک خاص کنواں تھا جس پر قوم ثمود کا ایک قبیلہ رہتا تھا۔ وہی لوگ ’’اصحاب الرس’’کے نام سے مشہور ہوئے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے اس نام کے ساتھ مشہور ہونے کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے نبی کو کنویں میں پھینک دیا تھا۔ بعض مفسریں کا خیال ہے کہ ’’اَصْحٰبُ الرَّسِّ’’اور ’’اَصْحَابُ الْاُخْدُوْد’’(کھدائی والے) ایک ہی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمامہ کے علاقے میں ایک بستی تھی جسے ’’فلج’’کہا جاتا تھا۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ قوم ثمود کے ایک قبیلے کا رہائشی علاقہ تھا۔ ان کے علاوہ بھی مختلف اقوال لکھےگئے ہیں۔
اضافی توضیحات و تشریحات
الرس کے کئی معانی ہیں : کنواں معدن‘ یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا۔ قرآن میں الرس کنویں کے معنی میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ الرس ایک قوم تھی جس نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اسے کنویں میں گھسیڑ دیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ الرس قوم ثمود کے ایک گروہ کی بستی تھی۔ بعض کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے فرمان: وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًامیں الرس آذربائیجان کی وادی ہے۔ آذربائیجان کی حد الرس کے پیچھے سے شروع ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ الرس کے علاقے ’’الران’’میں ایک ہزار شہر آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف موسیٰ نامی ایک نبی مبعوث کیا جو موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے علاوہ کوئی نبی تھا‘ جس نے انہیں اللہ کی توحید کی دعوت دی مگر انہوں نے تکذیب کی اور ان کی دعوت کا انکار کیا۔ نبی نے ان کے لیے بددعا کی جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔ (معجم البلدان: 3/43۔44) آذربائیجان: یہ علاقہ بیرة کیسپن (قزوین)‘ قفقاز (کوہ قاف) آرمینیا‘ ترکی اور ایران کے مابین گھرا ہوا ہے۔ شمالی آذربائیجان ایک آزاد ملک ہے جس نے 1991ء میں روسی تسلط سے آزادی حاصل کی۔ اس کا رقبہ 87 ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی تقریبا75 لاکھ ہے۔ اس کا دارالحکومت با کو ہے جو تیل کی برآمد کا بہت بڑا مرکز ہے۔ یہاں ترک نسل کے مسلمان بستے ہیں۔ یہ علاقہ عہد فاروقی میں ہوا تھا۔ آذربائیجان کے شمال میں مسلم اکثریت کا روسی علاقہ داغستان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہیں کوہ قاف کے پہاڑوں میں در بند کے پاس یاجوج ماجوج کی دیوار ہے۔ آذربائیجان کے مغرب میں کوہ قاف کی مسیحی مملکتیں جارجیا اور آرمینیا واقع ہیں۔ آرمینیا نے ایک دہائی پہلے جنگ کر کے آذربائیجان کے علاقہ نگورنو قره باغ پر قبضہ کر لیا تھا جہاں مسیحی اکثریت میں ہیں۔ الران یہیں واقع ہے۔ شمالی آذربائیجان انیسویں صدی عیسوی میں روسیوں نے ایران سے چھین لیا تھا۔ نخچیوان کا علاقہ بھی آذربائیجان میں شامل ہے جو آرمینیا اور ایران کے درمیان واقع ہے۔
آذربائیجان (ایران): یہ قفقاز ترکی‘ عراق اور بھی قزوین سے گھرا ہوا ایرانی علاقہ ہے اور دو صوبوں میں بٹا ہوا ہے۔ مشرقی آذربائیجان کا دارالحکومت تبریز اور مغربی آذربائیجان کا صدر مقام اورمیہ ہے۔ ایرانی آذربائیجان کا کل رقبہ ایک لاکھ 9ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی تقریبا40لاکھ ہے۔(اَطْلسُ القُرآن صفحہ 220 تا 222)
اصحاب الرّس کا علاقہ: (1)فلج، یمامہ کا علاقہ (2)قوم ثمود کے ایک قبیلے کا علاقہ (3)آذربائیجان یا ارّان (داغستان) کی ایک وادی (4)حضر موت کی ایک بستی
سورة الفرقان آیت 39 کی تفسیر میں حضرت خلیفہ نورالدین فرماتے ہیں:
’’اَصْحٰبُ الرَّسِّ’’میں نے اس کے متعلق بہت تحقیقات کی ہے۔ کوئی کتاب ان کے حالات کی نہیں ملی ہاں قرآن مجید میں تدبّر کرنے سے معلوم ہوا کہ اس سے مراد حضرت یوسفؑ کو کنویں میں ڈالنے والے ہیں۔ (حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 248)
حضرت مصلح الموعود فرماتے ہیں: کنویں والے لوگوں کے متعلق مفسرین نے بہت اختلافات کیا ہے مگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم ثمود کے بعد گزری تھی اور بحرِ محیط نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ کیونکہ اس میں حضرت ابن عباسؓ کا قوم لکھا ہے کہ یہ قوم ثمود کا حصہ تھی۔ چونکہ ثمود کا آخری حصہ تھے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ نسلِ اسماعیل کے عرب میں پھیلنے سے پہلے یہ لوگ گزرے ہیں جب نسل عرب میں پھیل گئی تو یہ لوگ شمال کی طرف فلسطین کی جانب چلے گئے جیسا کہ قدیم آثار سے پتہ لگتا ہے۔
(دیکھو العرب قبل الاسلام مصنّفہ جرجی زیدان)


