غزل
شاہینہ خان
یہ اک احساس کہ کوئی ہمیشہ سے ہمارا ہو
نگاہوں سے عیاں ،اپنائیت کا استعارہ ہو
ہمیشہ سنگ ریزے ہی،سدا پر خار کیوں رستے
کبھی تو لہر سے بھیگا کوئ دریا کنارہ ہو
خموشی کی زباں ،احساس کا۔پیغام کیا سمجھے
کہ خود غرضی کا جس نے جام اپنے میں اتارا ہو
انھیں بے تابیاں منزل کی جانب کھینچ لاتی ہیں
جدا کم ظرف سے ہو کر ،سفر تنہا گوارہ ہو
عجب وہ شخص ،جسکا دل محبت بانٹتا جائے
کسی بھی سمت سے اسکو نہ الفت کا اشارہ ہو
انھیں پہ طنز ہوتاہے، وہی تنقید کی ذد میں
شعور و آگہی کے وصف نے جن کو سنوارا۔ہو
اگر اپنے بنیں اپنے ،تو غم کس بات کا کرنا
مروت مٹ گئی ورنہ ،ہر اک رشتہ ستارہ ہو
ارادہ ضبط حزن دل نہیں قائم رہا شینا
تھا چاہا درد کا لفظوں سے نہ کوئی اشارہ ہو

