//عشق کی ایسی وبا پھیلی کہ لاکھوں مر گئے
urdu_shairy

عشق کی ایسی وبا پھیلی کہ لاکھوں مر گئے

(بشریٰ وحید پاکستان)


تم ہو خود کھولے ہوئے غم کی پٹاری ہائے ہائے

پھر کرو گے کیا ہماری غمگساری ہائے ہائے

عشق کی ایسی وبا پھیلی کہ لاکھوں مر گئے

سہل ہوجائے گی اب مردم شماری ہائے ہائے

دل تو پہلے سے ہی میرا تھا تصرف میں ترے

لو مگر اب آگئی ہے جاں کی باری ہائے ہائے

ایک مدت تک رہیں گے عشق کے اثرات اب

روح پر اس کی ہوئی ہے تابکاری ہائے ہائے

حسن بھی دولت کے آگے ہاتھ باندھے ہے کھڑا

بڑھ گئی عشق و وفا سے مالداری ہائے ہائے

ہوگئی ہے جا بجا اُس بات کی تشہیر کیوں

جس میں برتی تھی مکمل راز داری ہائے ہائے

خود پہ قابو تھا بہت لیکن تمہی کو دیکھ کر

دل پہ غالب آگئی بے اختیاری ہائے ہائے

کسقدر موسم ہوا تبدیل دیکھو دفعتاً

چل پڑی جاڑے میں ہی بادِ بہاری ہائے ہائے

تُو یقیناََ ہو کے میخانے سے آیا، کہ ابھی

تیری آنکھوں میں عیاں ہے سرخ دھاری ہائے ہائے

ہم کو رکھنا ہے توازن دین و دنیا میں سدا

ناتواں ہیں اوربڑی یہ ذمہ داری ہائے ہائے

اس نے میرے زخمی دل پہ پھاہے رکھے تھے مگر

کم نہیں ہوتی مری یہ آہ و زاری ہائے ہائے

میں نے آخر کیوں دیا دشمن کی گالی کا جواب

مل گئی مٹی میں میری برد باری ہائے ہائے

نہ رفو گر کو بلاؤ میرے زخموں کے لیے

بلکہ نظروں سے کرو پیوند کاری ہائے ہائے

وائے قسمت کب ہمیں تیرا سہارا مل سکا

عمر بھر کرنی پڑی خود انحصاری ہائے ہائے

نخل میری شاعری کا بن گیا ہے اب شجر

اس کی اپنے خون سے کی آبیاری ہائے ہائے

یوں تو انجم ہیں ترے دل میں صنم خانے کئی

اس پہ بخشش کی تجھے امیدواری ہائے ہائے