غزل
منصورہ من
اس دل کی زمیں کا ویرانہ میں کیسے بھلا آباد کروں
اور اشکوں کی جلتی لو سے ان آنکھوں کو آزاد کروں
مغموم رہوں محزون رہوں کیا یہ ہی محبت ہے جاناں
میں دشت میں تیرے کوچے کی اپنی شامیں برباد کروں
اک لمحے کا تھا عشق مگر مرے جیون کی میراث ہوا
افسانہ کوئی لکھوں اس پر یا زخمِ جگر روداد کروں
اک بار ترے یوں ملنے سے اس دل نے بہت کچھ کھویا ہے
ترے کھونے پر دل کہتا ہے اب اور نہ تجھکو یاد کروں
گر دل میں محبت ہو سایئں وہ خود ہی عیاں ہو جاتی ہے
میں اُس سے محبت کیوں مانگوں کیوں کر اُس سے فریاد کروں
اب نقش کہن کا عکس بھی نہ رہ پائے گا میرے منؔ میں
اک آخری حسرت ہے میری کہ ایسے تجھے ناشاد کروں

