غزل
دیا جیم
میں ترے ماتھے پہ اک چاند لگانے آئی
شب کی چادر سے ستاروں کو اٹھانے آئی
مدتوں بعد مرے دل نے جو چھوڑا مجھ کو
مدتوں بعد مری عقل ٹھکانے آئی
کیسا دیوانہ بنایا ہے تری فرقت نے
یاد تیری بھی مجھے تجھ سے بچانے آئی
پہلے ہی درد سے رقصاں ہیں مرے روح و بدن
زخم اک اور تری یاد لگانے آئی
اشک آنکھوں میں تو کشکول لئے ہاتھوں میں
یہ محبت مجھے کیوں اپنا بنانے آئی
کوئی روٹھا ہے مرے پیارکی خوشبو کے سبب
ایک تتلی مجھے کل یہ ہی بتانے آئی
وہ بھی آیا تھا کبوتر کے بہانے چھت پر
میں بھی دیوار پہ کپڑوں کو سکھانے آئی
پوچھنے آئی ہوں کیاحال ہے میرے پیارے
اور کیسی ہوں تجھے آج بتانے آئی
بعد میرے ذرا ہنستے ہو بھلا کیسے تم
بس یہی دیکھنے میں آج دوانے آئی
ہائے اس وقت بھی انکار کرو گے یوں ہی
دل کے بدلے میں اگر اپنا بنانے آئی
تو بھی آیا ہے ناں کچھ لمحوں میں جیون لینے
میں بھی جیون کے ہی کچھ لمحے بتانے آئی
میں نے تو خود کو جلا ڈالا دیا بن کر ہی
کون کہتا ہے کہ میں تم کو جلانے آئی

