//شعر و شاعری ماہ مارچ ۲۰۲۰
urdu_shairy

شعر و شاعری ماہ مارچ ۲۰۲۰

’’تمہاري بے بسي پر آج بھي حيران ہوتے ہيں‘‘

27 فروري Surpriseday کے حوالے سے

کلام ديا جيم

ہواؤں ميں فضاؤں ميں کسے تو نے پکارا تھا

زميں کي گود ميں گھس کر يہ کس نے تجھ کو مارا تھا

تجھے تو ياد ہو گا چائے کا وہ آخري کپ بھي

زمينِ پاک پر جو چسکياں لے کر گزارا تھا

تو بھولا تھا کہ سرحد جاگتي ہے جاگتے ہيں ہم

مرے شيروں کے کاندھوں پر چمکتا چاند تارہ تھا

جھپک کر اور لپک کر لے اڑا شاہين پنجوں ميں

بتايا آنکھ نے تجھ کو کہاں تيرا کنارہ تھا

جھکي گردن تھي ساري قوم کے آگے، نہتے تھے

تري نادانيوں نے وائے ديکھا کيا نظارہ تھا

ہمارا حوصلہ ديکھو کہ دشمن ہاتھ ميں آيا

ادب آداب سے دشنامِ ننگ اس کا سنوارا تھا

تمہاري بے بسي پر آج بھي حيران ہوتے ہيں

ديا کوئي نہ کوئي چاند اور تارا تمہارا تھا

ززز

’’زندگي کتني خوبصورت ہے‘‘

فرحت ضياء راٹھور ہمبرگ

ميلے کپڑے اُتار کر ديکھو

خود کو اک دِن سنوار کر ديکھو

زندگي کتني خوبصورت ہے

اس کو ايک دِن پکار کر ديکھو

مہرباں ہے رحم و رحماں ہے

اس پہ ہر چيز وار کر ديکھو

روشني پل ميں جگمگائے گي

گرد ماضي کي جھاڑ کر ديکھو

سارے رشتے حسين رشتے ہيں

ميلي عينک اُتار کر ديکھو

نفس امارہ پھر نہ اُٹھے گا

اس کو اِک دِن بچھاڑ کر ديکھو

دل سے نکلي ہر آہ سنتا رہے

رب کو اِک دن پکار کر ديکھو

چاہتے ہو اگر وہ لوٹ آئے

سارے جذبے نثار کر ديکھو

دين و دُنيا سنورتے جائيں گے

آخرت کو سنوار کر ديکھو

کتنے بت يونہي پال رکھے ضياء

اِن کو دِل سے اُتار کر ديکھو

ززز

’’رُخ ہزار چہرے ہيں زاويوں کي صورت ميں‘‘

امة القدوس سحرؔ

رُخ ہزار چہرے ہيں زاويوں کي صورت ميں

اپني اپني دُنيا ہے دائروں کي صورت ميں

غرض کے تعلق ميں الفتيں پرائي ہيں

ہر خوشي بکھرتي ہے موسمِ کدورت ميں

آجکل بھروسہ بھي حيرتوں ميں ڈوبا ہے

ہمسفر نہيں رہتے سائے بھي ضرورت ميں

کون، کب، کہاں، کيسے، حال ميںہيں،جيتے ہے ؟

کون جان سکتا ہے فاصلوں کي صورت ميں

چوٹ ايسي کھائي ہے سنگدل زمانے سے

بٹ گئے ہيں ٹکڑوں ميں آئينوں کي صورت ميں

ديکھ کر لہو اپنا سوچتے رہے دُکھ سے

کس کو دشمني سوجھي دوستوں کي صورت ميں

ديکھتے فلک پہ گر ٹوٹتا کوئي تارا

مانگتے تمہيں ہم بھي لمحۂ مہورت ميں

کيا عجب سحرؔ ہے يہ عشق لامکاني بھي

جان ڈال ديتا ہے پتھروں کي مورت ميں

ززز

’’تُو ہي تُو ہے اے مري جان ! جدھر بھي ديکھا‘‘

طاہرہ زرتشت نازؔ

سرمئي شام نے اک آگ لگائي دل ميں

کيا قيامت تھي جو يادوں نے اٹھائي دل ميں

رقص کرنے لگے گزرے ہو ئے لمحوں کے چراغ

ہجر کے درد نے وہ دھوني رمائي دل ميں

خود چلے آئے وہ آزردہ دلوں کي خاطر

جب بھي اشکوں سے کوئي بزم سجائي دل نے

اپني حالت کو جو ديکھا تو ہميں آئي حيا

اپني کوئي بھي ادا ہم کو نہ بھائي دل ميں

جو کہا اس نے سنا ہم نے، اور مانا بھي

اس کے ہر لفظ کي تاثير بٹھائي دل ميں

وہ صحيفہ جو عطا ہم کو کيا رحمت سے

اس کے انوار شمعيں ہيں جلائي دل ميں

ساري دنيا کو فراموش کيا تيرے لئے

تيري چاہت کي ہي لَو ہم نے لگائي دل ميں

تُو ہي تُو ہے اے مري جان ! جدھر بھي ديکھا

کسي بت کي کوئي تصوير نہ پائي دل ميں

ززز

سعديہ تسنيم سحر(جرمني)

سر قلم اور ہوئے ہاتھ بريدہ، صاحب

پھر بھي لکھا نہيں شاہوں کا قصيدہ، صاحب

عشق الہام کي صورت ہے،سنا تو ہو گا

ان کو ہوتا ہے جو ہوتے ہيں چنيدہ، صاحب

وہ جو تم رکھتے ہو کچھ غير کي باتوں کو عزيز

اس ليے ہوتے ہيں حالات کشيدہ، صاحب

وصل آخر پہ جدائي کي قبا اوڑھتا ہے

يہ ہے بستي کے بزرگوں سے شنيدہ،صاحب

وہ کہ جس ميں مري يہ تجھ سے محبت ہو رقم

وقت لکھے گا کبھي ايسا جريدہ، صاحب

بستياں لوٹ ليں باشندے سلامت رکھے

جسم محفوظ مگر روح دريدہ، صاحب

آج کرتے ہو مرے حال پہ نکتہ چيني

سحر کو لکھو گے کل تم ہي حميدہ، صاحب

ززز

منظوم کلام

شوکت سلطانہ احمد(جرمني)

گر ہجر کا زہر اس ميں انڈيلا نہيں ہوتا

يہ رنگِ محبت کبھي نيلا نہيں ہوتا

لازم تو نہيں آنکھ ميں اس کي ہو بصيرت

ہر ديکھنے والا بھي تو بينا نہيں ہوتا

ميں جا کے گلوں کو دوں نمو تيرے چمن ميں؟

مجھ سے تو ہرا دل کا ہي پودا نہيں ہوتا

حالات بناتے ہيں اسے نيک بھي بد بھي

انسان بدي کوکھ سے سيکھا نہيں ہوتا

ہو نٹوں پہ ہيں گو تالے مگر يہ نہ سمجھنا

يہ دل بھي مرا درد سے چيخا نہيں ہوتا

جب سے ہے تري ياد سے دل ميرا منور

عالم ہي کبھي تيرہ شبي کا نہيں ہوتا

يہ نفس کا گھوڑا تو ہميشہ سے ہے سرکش

گر ڈالو لگام اس کو تو فتنہ نہيں ہوتا

کن بھول بھليوں ميں ہو کھونے لگي شوکت

يہ فکر کا رستہ کبھي سيدھا نہيں ہوتا

ززز

(شازيہ افروز جرمني)

دکھ زمانے کا ہر اک مجھ کو گوارا ہوتا

بس مرے ہاتھ ميں گر ہاتھ تمہارا ہوتا

غم کي آندھي ميں کبھي يوں نہ ديا سا بجھتا

کسي ہمدم کا اگر دل کو سہارا ہوتا

کس سے ہم شکوہ بے دادِ محبت کرتے

ہجر ميں کو ئي تو غمخوار ہمارا ہو تا

آنکھ سے گر کے نہ يوں خاک ميں ملتا ہرگز

اشک اپنا جو کسي آنکھ کا تارا ہوتا

زخمِ دل ميں نے ہي تجھ سے نہ فراغت چاہي

کس مسيحا سے مرے درد کا چارہ ہوتا

ززز

امکان

حميرا نگہت

سرمئي شام ہے دريا کا کنارا اور ہم

محو ہيں رنگ بدلتے ہوئے نظاروں ميں

سنگ سورج کے کہيں ڈوب رہا ہےمنظر

بدلياں سرخ، سياہ پوش ہوئي جاتي ہيں

بڑھ رہے ہيں جو يہ سناٹے تو اب لگتا ہے

دھڑکنيں دل ميں بہت صاف سنائي دي ہيں

اور شدت سے يہ احساس تبھي جاگا ہے

ہم تو خود کو بھي نہيں ديکھ سکے ہيں دن ميں

رات آئے گي تو کچھ صاف نظر آئے گا

دل کے آنگن ميں کئي لوگ چلے آئيں گے

اور پھر خود سے ملاقات کا امکان بھي ہے

ززز

 (آصفہ بلال پاکستان)

متاعِ جان وہ ماہِ تمام رہتا ہے

کہ سب سے منفرد اس کا مقام رہتا ہے

مثال گرد بھٹکتا ہوں تيري راہوں ميں

يوں تيرے شہر ميں ميرا قيام رہتا ہے

نہ ميرے ضبط کو رسوا کرو زمانے ميں

وفا کے شہر ميں اپنا بھي نام رہتا ہے

وقت کي دھوپ تو جھلسانے پہ آمادہ ہے

ماں کا سايہ ہے جو سر پر مدام رہتا ہے

ثبوت اور کيا دوں اپني اعليٰ ظرفي کا

عدو کے شہر ميں اپنا قيام رہتا ہے

نہ بام و در ہے نہ ديوار ہے کوئي جس کي

عشقِ زنداں ميں تيرا اک غلام رہتا ہے

يہاں پہ کيڑے کو ملتي ہے پتھروں ميں نمو

نظام ميں بھي چھپا اک نظام رہتا ہے

پے زخم زخم سراپا ميرا وجود مگر

لبوں پہ پھر بھي تبسم مدام رہتا ہے

ہر اک مقام سے اونچا مقام ہے اس کا

ميرے نبي پہ خدا کا سلام رہتا ہے

ہم تو ہيں اہلِ جنوں اس پہ کہاں چلتے ہيں

ہجوم شہر ميں رستہ جو عام رہتا ہے

دل کے بت خانہ ميں بت تيرا سجا رکھا ہے

نماز عشق کا يوں اہتمام رہتا ہے

ادھر دکھائي دئيے اور ادھر ہوئے اوجھل

نظام زيست ميں کس کو دوام رہتا ہے

ززز

منصورہ فضل منؔ انڈيا

ہجر کي تنہا رات کا نوحا جانے کون

اشکوں کي بارات کا نوحا جانے کون

ساون کي بارش ميں جنگل جھوم اُٹھے

بے موسم برسات کا نوحا جانے کون

چھن سے ٹوٹے کانچ کا شور سنا سب نے

ايک شکستہ ذات کا نوحا جانے کون

آگاہي سے بہتر تھا انجان رہوں

اس بے درد حيات کا نوحا جانے کون

گرچہ ہے پُر لطف مري گفتار بہت

دل ميں چُبھي اِک بات کا نوحا جانے کون

يوں تو ہار کسي کو راس نہيں آتي

خود سے خود کي مات کا نوحا جانے کون

غيروں نے اسکے در سے جھولي بھر لي

منؔ کے خالي ہاتھ کا نوحا جانے کون

ززز

امة الباري ناصر

غم جو بھاري ہوں پہاڑوں سے وہ سہہ جاتا ہے دل

ايک وقت آتا ہے پھر آنکھوں سے بہہ جاتا ہے دل

ياد جب بچھڑے ہوئے آئيں تو ہوک اٹھتي ہے

پھر جو اشکوں کي جھڑي لگتي ہے ڈھ جاتا ہے دل

چاٹ کےجسم کو کرديتي ہے اک خاک کا ڈھير

غم کي ديمک اسے لگ جائے تو ڈھ جاتا ہے دل

ذکر اپنا ہو کہيں پر تو حيا آتي ہے

آگے بڑھتا ہي نہيں پيچھے ہي رہ جاتا ہے دل

راز رہتا ہي نہيں چاہيں بھي تو عشق و جنوں

ہونٹ سي ليں بھي تو سب آنکھوں سے کہہ جاتا ہے دل

 دن کو پردوں ميں چھپا رکھتي ہوں روداد الم

شب کو سجدے ميں سب اللہ سے کہہ جاتا ہے دل

اب تو جينے کي دعا ؤں سے ميں ہنس ديتي ہوں

اتنا ٹوٹا ہو تو کس کام کا رہ جاتا ہے دل

ززز