//اداریہ ماہ اکتوبر ۲۰۲۰
editorial

اداریہ ماہ اکتوبر ۲۰۲۰

۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ:

یٰٓأَیُّھَاالْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلَی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ :الانشقاق: ۷

اے انسان ! تو اپنے رب کی طرف پورا زور لگاکرجا نے والا ہے (اور)تب جا کر (تیری)اُس سے ملاقات ہوگی۔

 یہ راستہ ہے جو “ سبیل اللہ” ہے جسکو اپنا کر بہت سے لوگوں نے خدا تعالیٰ کو آمنے سامنے دیکھا اور اُس کی ہستی کے ٹھو س دلائل اُن لوگوں کے سامنے رکھے جو عزم و ہمت کے ہتھیا ر سے ناواقف تھے۔

خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنی قدرت کے عجائبات کو پانے کا ایک نہایت اہم نسخہ بتایا ہے جسے اپنا کر انسان نے آج آسمان کی بلندیوں سے سمندروں کی گہرائیوں تک چھپے ہوئے رازوں کو پا لیا ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جارہاہے۔ فی الحقیقت انسان کی ان حیرت انگیز کامیابیوں کے پیچھے اصل طاقت نیک نیتی اور بلند عزم و ہمت ہی تھی، جس کو پا کر آج انسان ساری کا ئنات کو قابلِ تسخیر بناچکا ہے اور روزمرہ کی تمام سہولتوں سے آراستہ ہیں۔

یعنی خدا تعالیٰ کی محبت اور رضا پانے کے لئے ضروری ہے کہ انسان محنت اور عزم کے ساتھ اُس کی قدرتوں کا مطا لعہ کرے اور اسکی تمام تر توجہ کا مرکز صرف وہی ہو اور بے شک یہ ایک ایسا کام ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے فضل اور انسان کی سچی لگن پرہی موقوف ہے۔ آنحضرتﷺ کے عزم و ہمت کی شاندار مثالیں ہمارے لئے با عث فخر اور قابلِ تقلید ہیں۔ طائف کے واقعہ میں جب آپ کو دینِ حق سے جا ہل لو گوں نے سر سے پاؤں تک خون میں نہلا دیا تو خدا تعا لی کے فرشتے نے حاضرہو کر عر ض کی کہ اے اللہ کے رسولﷺ !اگر آپؐ حکم دیں تو اس وادی کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس ڈالوں مگر آپﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا اور کمال عزم و ہمت سے وہاں خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا تے رہے۔ جس کے نتیجہ میں با لآخر وہاں کے لوگ آپﷺ پر اپنی جا نیں نثار کرنے والے بن گئے۔(لباس التقویٰ)

اس بلند ہمتی کو حاصل کرنے کا گُر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان الفاظ میں بیان فرمایا۔

ابتدائی منزل یہی ہے کہ جسم کو اسلام کے تابع کرے۔” جسم ایسی چیز ہے جو ہر طرف لگ سکتاہے۔ بتاؤ زمیندار وں کو کون سکھاتا ہے جو گرمیوں کی سخت دھوپ میں باہر جا کر کام کرتے ہیں اور سر دیوں میں آدھی آدھی رات کو اُ ٹھ کر با ہر جاتے او رہل چلاتے  ہیں۔ پس جسم کو جس طر یق پر لگاؤ اسی طریق پر لگ جا تاہے ہا ں اُس کے لئے ضرورت ہے عزم کی۔‘‘( ملفو ظات جلد ۴ص ۲۴۴)

حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے اِن مبار ک الفاظ سے واضح ہو جاتا ہے کہ کسی بھی نیک مقصد کے حصول میں جسم ر کا وٹ نہیں بن سکتا اگر نیت نیک اور ارادے بلند ہوں اور عزم پختہ ہو تو بلندی اور بظاہرنظر آنیوالی نا ممکن چیز کو بھی حا صل کیا جا سکتاہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر میدان میں استقامت اور بلند عزم وہمت سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے اور کامیابیوں کا حصول آسان ہو۔ آمین

حضرت مسیحِ موعودؑ فرماتے ہیں:

پھر اس کے مینار پر سے دنیا کو حق کی جانب بلائیں گے ہم

کلامِ ربِ رحیم و رحماں ببانگِ بالا سنائیں گے ہم

(حوالہ اخبار الفضل جلد 7۔ 19ستمبر 1920ء)