اداریہ
دلوں کو قابو کرنے والا ہتھیار
مدثرہ عباسی ۔ مدیرہ
جیسا کہ سب جانتے ہیں مسکراہٹ ایک انمول تحفہ ہے جو رحمٰن خدا نے بن مانگے ہمیں دیا ہؤا ہے۔ پیار بھری مسکراہٹ انمول ہوتی ہے۔ یہ کشش کا راز ہے، یہ دلوں کو جوڑنے والا مختصرترین راستہ ہے مسکراہٹ صالح صحت کی علامت ہے۔
پیارے آقا و مولا، سرور کائنات ﷺنے سالہا لال پہلے بتا دیا تھا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ مسلمانوں کو خندہ پیشانی اورمسکراہٹ کے ساتھ پیش آنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ اسی ضمن میں ہمارے پیارے آقاآنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا صدقہ ہے (ترمذی)
کسی بھی بھلائی کو حقیر ہرگز نہ جانو، اگرچہ تمہارا اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا ہی ہو۔ (مسلم )۔
رسول کریم ﷺکا ایک ارشاد یہ بھی ہے کہ تم لوگوں کے دل اپنی دولت سے ہرگز نہیں جیت سکتے، تمہیں لوگوں کے دل جیتنے کیلئے خندہ پیشانی اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
رسول کریم ﷺکا معمول تھا کہ آپ کے چہرہ مبارک پر ہمیشہ بشاشت ہوتی تھی اور مسکراہٹ سجی رہتی تھی۔عبداللہ الحارث بن حزم ؓروایت کرتے ہیں کہ میں نے آپؐ سے زیادہ مسکراتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا(ترمذی)۔
رسول اللہ ﷺکے مذکورہ بالا إرشادات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں مسکراہٹ کے ساتھ ملنا پسندیدہ عمل ہے۔ اگرچہ لوگوں کی نظر میں اس کی کوئی خاص اہمیت نہ ہومگر اخلاقی اعتبار سے باہمی محبت کا مظہر عمل ہے۔کسی سے ملتے وقت چہرے پر مسکراہٹ یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ شخص بااخلاق ہے، اس خوبی کا حامل انسان اپنے دوسرے بھائی کے دل میں خوشی کی لہر پیدا کرتا ہے۔سچی مسکراہٹ چہرے کو رونق اور چمک دمک دیتی ہے جبکہ مصنوعی مسکراہٹ کے پیچھے مکروفریب کی ظلمتیں چھائی ہوتی ہیں۔
موجودہ تحقیق کے مطابق :
ہر انسان کے اندر کچھ کیمیکل مواد ایسے ہیں جنہیں ہمارے جسم کے اعضاء خوف یا غمی یا بے چینی یا پریشانی کے وقت خارج کرتے ہیں۔ ہمیں یہ جان لینا کافی ہے کہ جب انسان مسکراتا ہے تو اس کے چہرے کے 5تا13عضلات حرکت میں آتے ہیں اور جب انسان غصے یا کبیدگی یا پریشانی کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کے چہرے کے 47عضلات متحرک ہوتے ہیں اگر ملنے والا شخص آپ کی طرف مسکراکر دیکھ رہا ہو تو ایسی صورت میں کیمیکل مادے بہت معمولی مقدار میں خارج ہوتے ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایساکیوں ہے؟۔
جواب یہ ہے کہ مسکراہٹ آپ کے ذہن پر طاری کسی بھی خوف یا آنے والے شخص کے حوالے سے جنم لینے والے خدشات کو ختم کردیتی ہے۔ نتیجے کے طور پر آپ کے ذہن میں یہ بات از خود پیوست و جاگزیں ہوجاتی ہے کہ آنیوالا شخص خطرے سے خالی ہے، اس سے پتہ چلا کہ زندگی کو کامیاب بنانے کیلئے مسکراہٹ از بس ضروری ہے۔ مسکراہٹ نے اب ایک علم اور فن کا مقام حاصل کرلیا ہے۔سماجی تعلقات کو بہتر بنانے اور اقتصادی و سفارتی امور کو اجاگر کرنے کیلئے مسکراہٹ کی باقاعدہ تعلیم و تلقین کی جاتی ہے۔
چینی کہاوت ہے: جو شخص عمدہ طریقے سے مسکرانا نہیں جانتا اسے دکان نہیں کھولنی چاہئے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ سچی مسکراہٹ دل کی گہرائی سے اٹھتی ہے، یہ مسکراہٹ جادو جیسا اثر کرتی ہے اور ملنے والے کو اپنی طرف مقناطیس کی طرح کھینچ لیتی ہے۔
مسکراہٹ انسانی ذہن اور دماغ پر جادو جیسا اثر کرتی ہے:
ساؤتھ آسٹریلیا یونیورسٹی کی تحقیق میں اس صدیوں پرانے خیال کی تصدیق کی گئی ہے کہ مسکرانا ذہن کو مثبت بنانے میں مدد دیتا ہے اور اس کے لئے بس چہرے کے مسل کو حرکت دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت جب دنیا میں کووڈ ۱۹ کی وبا کے نتیجے میں ذہنی بے چینی اور ڈپریشن کی شرح میں نمایاں اضافہ ہؤا ہے، یہ نئی دریافت بر وقت ہی کہی جا سکتی ہے۔ جریدے ایکسپیرمنٹل سائیکولوجی میں شائع تحقیق میں چہرے اور جسم پر مسکراہٹ کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، جس کے دوران لوگوں کو دانتوں میں ایک قلم دبا کر اپنے چہرے کو مسل پر دباؤ ڈال کر مسکراہٹ کی حرکت جیسی نقل کا کہا گیا۔ محققین کے مطابق چاہے مسکراہٹ جعلی ہی کیوں نہ ہو، اس سے بھی ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ چہرے کے مسلز کی حرکت نہ صرف چہرے کے تاثرات کو بدلتی ہے بلکہ جسمانی تاثرات میں بھی تبدیلی لاتی ہے، اور مثبت جذبات کو متحرک کرتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج ذہنی صحت کے بارے میں گہرائی میں جاکر سمجھنے کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ کے مسلز کہتے ہیں کہ آپ خوش ہیں، تو آپ اپنے اردگرد کی دنیا کو مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیق میں ہم نے دریافت کیا کہ جب آپ زبردستی مسکراہٹ کی مشق کرتے ہیں تو اس سے دماغ میں جذبات کا amygdalaمتحرک ہوتا ہے، جو ایسے نیورو ٹرانسمیٹرز خارج کرتا ہے جو ذہن کو مثبت رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے حوالے سے اس کے دلچسپ اثرات مرتب ہوتے ہیں، اگر آپ دماغ کو یہ سمجھنے پر مجبور کردیں کہ آپ خوش ہیں، تب آپ اس میکنزم کو ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے بطور معاون استعمال کرسکتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ جب جذباتی عمل متحرک ہوتا ہے کہ ادراک اور موٹر سسٹمز آپس میں مل جاتے ہیں۔
اچھی مسکراہٹ کے فوائد:
اچھی مسکراہٹ صحت بخش ہوتی ہے۔ یہ انسان کی ذہنی، جسمانی اوراعصابی صحت کی حفاظت کرتی ہے۔
صحت بخش مسکراہٹ، بلڈ پریشر کم کرنے میں معاون بنتی ہے۔
مسکراہٹ دوران خون تیز کرتی ہے۔
مسکراہٹ، ذہنی و سماجی دباؤ کیخلاف جسم میں مدافعتی نظام کو تقویت پہنچاتی ہے۔
مسکراہٹ کی بدولت دل، دماغ اور جسم کی کارکردگی پر خوشگوار اثر پڑتے ہیں۔
مسکرانے والے انسان کی نبض متوازن شکل میں چلتی ہے۔
مسکراہٹ، انسان کے لاشعور تک سکون اور اطمینان کی لہر پہنچا دیتی ہے۔
مسکراہٹ، چہرے کو خوبصورت اور پررونق بنا دیتی ہے۔
مسکراہٹ ایک طرح سے عصری امراض سے بچاؤ کا بہترین علاج ہے۔
مسکراہٹ، بے چینی اور ڈپریشن سے تحفظ دیتی ہے۔
مسکراہٹ، مختلف قسم کے درد کا علاج ہے۔
مسکراہٹ، بے خوابی اور بے چینی پر قابوپالیتی ہے۔
مسکراہٹ اور ہنسی میں فرق:
مسکراہٹ دائمی کیفیت کا نام ہے، (اسے ہلکی پھلکی ہنسی کا نام بھی دیا جاسکتا ہے)جبکہ ہنسی عارضی حالت ہوتی ہے۔
مسکراہٹ، خوشی پر فطری ردعمل کا دوسرا نام ہے جبکہ ہنسی بسا اوقات دردناک حادثے پر رد عمل کا بھی نتیجہ ہوتی ہے۔
مسکراہٹ اندرونی خوشی اور سکون کی علامت ہوتی ہے جبکہ ہنسی کسی ہنگامی ناگہانی حالت کا نتیجہ ہوتی ہے۔
مسکراہٹ کا اثر دیر تک باقی رہتا ہے جبکہ ہنسی کا اثر جلد زائل ہوجاتا ہے۔
مسکراہٹ تواضع و انکساری کی دلیل ہے جبکہ ہنسی اگر قہقہے کے ساتھ ہو تو غرور کی نشانی مانی جاتی ہے۔
مسکراہٹ ہنسی سے زیادہ مشکل کام ہے۔مسکراہٹ مختلف قسم کے لوگوں، مختلف طبیعتوں اور مختلف المزاج افراد سے میل ملاپ کے وقت آتی ہے۔ جبکہ ہنسی انتہائی بے تکلف قسم کے لوگوں کے ساتھ ہی نمودار ہوتی ہے۔
مسکراہٹ میں ایک ادب شامل ہوتا ہے جبکہ ہنسی ادب کے دائرے سے خارج بھی ہوجاتی ہے۔
مسکراہٹ دلوں کو قابو کرنے والاہتھیار ہے۔
خوبصورت مسکراہٹ، دل، دماغ اور روح کو اپنے قبضے میں کرنیوالا طاقتور ترین قانون ہے۔
مسکراہٹ سے انسانوں کے دل آپ اپنی مٹھی میں کرسکتے ہیں، ذہنوں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ مسکرانے والے لوگ سب سے زیادہ خوش مزاج ہوتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ذیابیطس، بلڈ پریشر، تناؤ، بے چینی اور بحران پیدا کرنیوالے یومیہ مسائل پر قابو پانے کیلئے مسکراتے رہیں اور اپنے آپ اور اپنے اارد گردموجود لوگوں کو خوشیاں فراہم کرنے والے بنیں اس طرح اپنے پیارے آقا حضرت محمد مصطفٰیﷺ کے فرمان ’’تمہیں لوگوں کے دل جیتنے کیلئے خندہ پیشانی اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے “ کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والے بنیں۔ آمین


