اداریہ

اداریہ ماہ دسمبر ۲۰۱۹

Spread the love

ایک گھر کی سبق آموز کہانی 

مدثرہ عباسی مدیرہ

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے ایک لڑکی جس کا نام تبسم تھا اس کی شادی ہوئی ۔ وہ سسرال میں اپنے شوہر اور ساس کے ساتھ رہتی تھی۔ بہت کم وقت میں ہی تبسم کو یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ اپنی ساس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ ان دونوں کی شخصیت بالکل مختلف تھی۔ اور تبسم اپنی ساس کی بہت ساری عادتوں سے پریشان تھی۔ اس کی ساس ہر وقت تبسم پر طنز کرتی رہتی تھیں جو اسے بہت ناگوار گزرتاتھا۔ آہستہ آہستہ دن اور پھر ہفتے بیت گئے لیکن تبسم اور اس کی ساس کی تکرار ختم نہ ہوئی۔ ان تمام نااتفاقیوں نے گھر کا ماحول بہت خراب کردیا تھا جس کی وجہ سے تبسم کا شوہر بہت پریشان رہتا تھا۔ آخر کار تبسم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ساس کا برا رویہ اور برداشت نہیں کرے گی اور وہ اب ضرور کچھ نہ کچھ کرے گی۔ 

تبسم اپنے پاپا کے ایک بہت اچھے دوست احمد انکل کے پاس گئی جو جڑی بوٹیاں بیچتے تھے۔ تبسم نے انہیں ساری کہانی بتائی اور ان سے کہا کہ وہ اس کو تھوڑا سا زہر دے دیں تا کہ ہمیشہ کے لئے یہ مسئلہ ختم ہوجائے۔ احمد انکل نے تھوڑی دیر کے لئے کچھ سوچا اور پھر کہا کہ تبسم میں اس مسئلے کو حل کرنے میں تمہاری مدد کروں گا لیکن تمہیں ویسا ہی کرنا ہوگا جیسا میں تمہیں کہوں گا۔ تبسم راضی ہوگئی۔

 احمد انکل ایک کمرے میں گئے اور تھوڑی دیر بعد اپنے ہاتھ میں کچھ جڑی بوٹیاں لے کر لوٹے۔ انہوں نے تبسم کو کہا کہ تم اپنی ساس کو مارنے کے لئے فوری زہر استعمال نہیں کر سکتیں کیونکہ اس طرح سب تم پر شک کریں گے۔ اس لئے میں تمہیں یہ جڑی بوٹیاں  دے رہا ہوں یہ آہستہ آہستہ ان کے جسم میں زہر پھیلائیں گی۔ 

ہر روز تم کچھ اچھا پکانا اور پھر انہیں کھانا دیتے وقت اس میں یہ جڑی بوٹیاں ڈال دینا اور ہاں اگر تم چاہتی ہو کہ کوئی تم پر شک نہ کرے کہ تم نے انہیں مارا ہے تو تمہیں یہ خیال رکھنا ہوگا کہ تمہارا رویہ ان کے ساتھ بہت دوستانہ ہو۔ ان سے لڑائی مت کرنا اور ہر بات ماننا اور ان کے ساتھ ایک ملکہ کی طرح برتائو کرنا ۔ تبسم یہ سب سن کر بہت خوش ہوئی ۔ اس نے احمد انکل کا شکریہ ادا کیا اور جلدی سے گھر چلی گئی کیونکہ اب اسے اپنی ساس کو مارنے کا کام شروع کرنا تھا۔ 

ہفتے گزر گئے اور پھر مہینے تبسم ہر روز کچھ اچھا پکا کر اپنی ساس کو خاص طور پر پیش کرتی تھی۔ اسے یاد تھا کہ احمد انکل نے اس سے کیا کہا تھا کہ اسے اپنے غصے پر قابو رکھنا ہے۔ اپنی ساس کی خدمت کرنی ہے اور ان کے ساتھ اپنی ماں جیسا برتائو کرنا ہے۔ چھ مہینے گزر گئے گھر کا نقشہ تقریباً بدل چکا تھا۔ 

تبسم نے کوشش کرکے اپنے غصے پر قابو کرنا سیکھ لیا تھا ۔ اب اکثر وہ اپنی ساس کی باتوں پر ناراض اور غصہ نہ ہوتی۔ چھ ماہ میں ایک بار بھی اس کا اپنی ساس سے جھگڑا نہیں ہوا تھا اور اب اسے وہ بہت اچھی لگنے لگی تھیں اور ان کے ساتھ رہنا بھی آسان لگنے لگا تھا۔ اس کی ساس کا رویہ بھی اس کے ساتھ بہت بدل گیا تھا اور وہ بھی تبسم کو اپنی بیٹیوں کی طرح پیار کرنے لگی تھیں۔ وہ اپنی سب دوستوں کے درمیان تبسم کی تعریفیں کرتی تھیں۔ تبسم اور اس کی ساس دونوں اب ایک دوسرے کو ماں بیٹی کی طرح سمجھنے لگی تھیں۔ تبسم کا شوہر بھی یہ سب دیکھ کر بہت خوش تھا۔ 

ایک دن تبسم پھر احمد انکل کے پاس آئی۔ تبسم نے کہا کہ اب مجھے طریقہ بتائیں کہ کیسے میں اپنی ساس کو اس زہر سے بچائوں  جو میں نے انہیں دیا ہے۔ وہ بہت بدل گئی ہیں۔ میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ اس زہر کی وجہ سے مر جائیں جو میں نے انہیں دیا ہے۔ 

احمد انکل مسکرائے اور کہنے لگے کہ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ میں نے تمہیں زہر نہیں دیا تھا بلکہ جو جڑی بوٹیاں میں نے تمہیں دی تھیں وہ وٹامن کی تھیں تا کہ ان کی صحت بہتر ہوجائے۔ زہر صرف تمہارے دماغ میں اور تمہارے رویے میں تھا لیکن وہ سب تم نے اپنے پیار سے ختم کردیا ہے۔ 

یاد رکھیے ہمارا رویہ ، ہمارے الفاظ اور ہمارا لہجہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ دوسرے ہمارے ساتھ کیا رویہ اپناتے ہیں۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *