//اداریہ ماہ اپریل ۲۰۲۰

اداریہ ماہ اپریل ۲۰۲۰

۔ مدثرہ عباسی

علم سیکھنا تعلیم حاصل کرنا فرض ہے

عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ وَّ مُسْلِمَۃٍ  (ابن ماجہ)

ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔

تعلیم حاصل کرنا، علم سیکھنا ہر مرد اور عورت کے لئے ضروری ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ جو اس سے بہرہ ور ہیں۔ کوئی ملک، کوئی قوم اور کوئی خاندان اس وقت تک ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتا جب تک اس کے مرد اور عورتیں تعلیم یافتہ نہ ہوں۔ جب تک کسی قوم کے افراد اعلیٰ قابلیت اور اعلیٰ تمدن کے مالک نہ ہوں قوم کے شمار میں نہیں آسکتے۔ کوئی قوم روشن خیال، دانشمند اور نیک صفات نہیں رکھتی جب تک تعلیم یافتہ نہ ہو۔ وہی بچے قوم کی ترقی کا باعث ہوسکتے ہیں جن کی تعلیم و تربیت اعلیٰ پیمانہ پر ہوئی ہو۔ ان کی اعلیٰ تعلیم و تربیت تب ہی ممکن ہے جب کہ ماں اعلیٰ تعلیم و تربیت سے آشنا ہو۔ اس لئے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ویسے ہی ضروری ہے جیسے مرد کے لئے۔ عورت اور مرد زندگی کی گاڑی کے گویا دو پہیے ہیں اور گاڑی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی جب تک دونوں پہیے صحیح و سلامت اور منزل سے واقف نہ ہوں۔ عورت گھر کی مالک، خاوند کی رازدار اور مشیر ہے۔ جس گھر کا مالک رازدار اور مشیر جاہل ہو اس گھر کا محض خدا ہی حافظ ہے۔ عورت کے اعضا کمزور اور نازک ہوتے ہیں مرد کے اعضا مضبوط اور توانا ہوتے ہیں۔ مرد کی دماغی قوت طاقتور ہوتی ہے۔ عورت کے دلی جذبات قوی ہوتے ہیں۔ لہٰذادونوں کو اعتدال پر رکھنے کے لئے علم اور تعلیم کی ضرورت ہے۔

عورت حسن و خوبصورتی کا مجسمہ ہے، لباس و پوشاک کی جان ہے لیکن اگر چینی کی مورتی کی مثال ہو تو مردہ ہے۔ اسی طرح اگر علم اور تعلیم نہ ہو تو جسم بے روح کی مثال ہے اور اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ خانگی خدمات میں بھی عورت کا حصہ زیادہ ہے خواہ بچوں کی پرورش ہو یا بیماری کی نگرانی، گھر کی حفاظت ہو یا برادری کے تعلقات شادی کی رسوم ہوں یا موت و حیات کی کشمکش ہر ایک میں عورت کی ضرورت بہ نسبت مرد کے مقدم ہے۔ اسلام میں علم کے حصول کے لئے انتہائی تاکید کی گئی ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو علم کے حصول کی تاکید فرمائی ہے اور اس ہدایت پر آپ کو اتنا اصرار تھا کہ ایک دوسری حدیث میں آپؐ فرماتے ہیں کہ ’’علم سیکھو خواہ اس کے لئے تمہیں چین تک جانا پڑے۔‘‘ اور یاد رہے کہ اس زمانے کے حالات کے لحاظ سے چین کا ملک نہ صرف عرب سے ایک دور ترین ملک تھا بلکہ اس کے رستے بھی ایسے مخدوش تھے کہ وہاں تک پہنچنا غیر معمولی اخراجات اور غیر معمولی کوفت اور غیر معمولی خطرے کا موجب تھا۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چین کے ملک کو مثال کے طور پر بیان فرما کر دراصل اشارہ یہ کیا ہے کہ خواہ تمہیں علم حاصل کرنے کے لئے کتنی ہی دور جانا پڑے اور کیسی ہی تکلیف کا سامان ہو۔ علم وہ چیز ہے کہ اس کے لئے مومن کو ہر تکلیف اٹھا کر اس کے حصول کا دروازہ کھولنا چاہیے۔

تاریخ سے ثابت ہے کہ بعض اوقات ابتدائی مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک حدیث سننے کے لئے سینکڑوں میل دور کا سفر اور غیر معمولی اخراجات برداشت کرکے صحابہ کی تلاش میں پہنچتے تھے۔ چنانچہ جب ایک شخص مدینہ سے سینکڑوں میل کا سفر اختیار کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو درداء کے پاس ایک حدیث سننے کی غرض سے دمشق آیا تو ابو درداء نے اسے وہ حدیث بھی سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخض علم حاصل کرنے کی غرض سے کسی رستہ کا سفر اختیار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے لئے اس علم کے علاوہ جنت کا رستہ بھی کھول دیتا ہے اور ایک دوسری حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک انسان کا درجہ ایک ایسے عابد انسان کے مقابلہ پر جو اپنی عبادت کے باوجود علم سے خالی ہے ایسا ہے کہ جیسے عام ستاروں کے مقابلہ پر چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے۔

الغرض اسلام میں علم کے حصول کی انتہائی تاکید کی گئی ہے اور سچے علم کا وہ مقام تسلیم کیا گیا ہے جو ایمان کے بعد کسی دوسری چیز کو حاصل نہیں اورپھر علم کو ایک غیر محدود چیز قرار دے کر ہدایت کی گئی ہے کہ خواہ تمہیں کتنا ہی علم حاصل ہوجائے پھر بھی مزید علم کے حصول کی کوشش کرتے رہو۔ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ قرآن شریف میں یہ دعا سکھاتا ہے کہ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا یعنی اے رسول تم ہمیشہ یہ دعا مانگتے رہو کہ خدایا ! میرے علم میں بیش از بیش ترقی عطا کر اور پھر جیسا کہ حدیث زیر نظر میں صراحت کی گئی ہے۔ آنحضرتؐ نے علم کے حصول کو صرف مردوں تک محدود نہیں کیا بلکہ عورتوں کو بھی اسی طرح تاکید فرمائی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ان تاکیدوں کے باوجود آج کل مسلمان مردوں اور عورتوں کا علمی معیار دوسری قوموں کے مقابلہ پر اعلیٰ ہونا تو درکنار کافی ادنیٰ اور پست ہے۔ دنیا کے عالم ترین مصلح کی امت کا یہ نمونہ یقینا بے حد قابل افسوس ہے اور وقت ہے کہ مسلمان اپنے فرض کو پہچان کر دین و دنیا کے علم میں نہ صرف اوّل نمبر حاصل کرنے کی کوشش کریں بلکہ اس مقام کو پہنچیں جس کی گرد کو بھی کوئی دوسری قوم نہ پاسکے۔