اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (آخری قسط)
اس دوران نبی اکرمؐ نے اس نازک صورتحال کے بارہ میں اپنے قریبی اصحاب سے مشاورت شروع کی۔جنہوں نےحضرت عائشہؓ کی معصومیت و طہارت کی کھل کر گواہی دی۔حضرت اسامہ بن زیدؓ رسول اللہؐ کے گھرانہ کےفرد کی طرح تھےانہوں نے حضرت عائشہ کے بارہ میں اپنی نہایت عمدہ اور نیک رائے بیان کی۔ پھر حضرت عائشہ کی اپنی خادمہ حضرت بریرہ جن کا حضرت عائشہؓ سے ہر وقت کا ساتھ تھا نے کہا یارسول اللہؐ میں تو اتنا جانتی ہوں کہ حضرت عائشہ آٹا گوندھ کر رکھ دیتی ہیں اور بکری آکرکھاجاتی ہے۔بس اس معمولی تساہل کے سوا آج تک کوئی عیب میں نے ان میں نہیں دیکھا۔سبحان اللہ !اس سے بڑھ کر کسی کی پاکیزگی پر کیا گواہی ہوسکتی ہے۔
خودرسول کریمؐ نے بھری مجلس میں اس واقعہ کے بارہ میں اپنی شہادت یوں بیان کرتے ہوئےفرمایا ’’دوستو!مجھے ایسے لوگوں کے بارہ میں مشورہ دو جنہوں نے میری بیوی پر تہمت لگائی ہے۔اور خدا کی قسم آج تک میرے علم میں اپنی بیوی کی کوئی بُری بات نہیں آئی۔پھر الزام بھی انہوں نے ایسے شخص پر لگایا ہے کہ خدا کی قسم اسکی بھی کوئی برائی کبھی میرے علم میں نہیں آئی۔اور صفوان کبھی میرے گھر نہیں آیا سوائے اسکے کہ میں خود موجود ہوں، اور نہ کبھی میں کسی سفر میں گیا ہوں مگر وہ ہمیشہ میرے ساتھ شریک سفر رہا۔‘‘
حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں اُدھر میرا یہ حال تھا کہ میں اگلے دن تک روتی رہی دو راتیں اوردودن گزرگئے میں تھی کہ مارے غم کے روئے ہی چلی جارہی تھی۔یہاں تک میرے والدین کو یہ فکر لاحق ہوا کہ یہ رو رو کر اپنی جان ہلکان کردے گی۔تیسرے دن نبی اکرمؐ تشریف لائے۔ اور اس سارے عرصہ ابتلاء میں پہلی دفعہ آپؐ نے کھل کر مجھ سےبات کی۔
حضورؐ نے کمال عدل کے ساتھ حضرت عائشہ کے سامنے پوری صورتحال رکھتے ہوئے فرمایا ’’آپ کو پتہ ہے مدینہ کے ماحول میں کیاکیاباتیں ہور ہی ہیں۔ اگر ایسی کو ئی بات ہوئی ہے تو آپ خود صاف صاف بتادیں انسان سے غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ مگر اس کے بعد اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیتا ہے‘‘۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ حضورؐ کےسوال پوچھنے کے بعد میرے آنسو تھم گئے۔ تب میں نے عر ض کیا یا رسول اللہؐ ! آپ لوگوں نے اس الزام تراشی کی باتوں کو اتنا سنا ہے کہ یہ بات آپ کے دلوں میں پختہ ہوچکی ہے اب اگر میں حق گوئی کرتے ہوئے انکار کرتی بھی ہوں تو آپ شاید ماننے کو تیار نہ ہوں۔پس میری مثال حضرت یوسفؑ کے والد جیسی ہے جنہوں نے کہا تھا۔
فَصَبْرٌ جَمِیلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ( یوسف:19)
یعنی میرے پاس سوائے صبرجمیل کے کوئی چارہ نہیں اور اللہ ہی ہے جس سے اس بارہ میں جو آپ بیان کرتے ہیں مدد مانگی جاسکتی ہے۔‘‘ اس وقت آنحضورؐ پر وحی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ اور سردموسم کے باوجود آپ پسینے سے شرابور ہوگئے۔جب یہ کیفیت دور ہوئی تو آنحضرتؐ نےفرمایا ’’عائشہ ! تمہیں مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے تمہاری بریت فرمادی ہے۔‘‘ اس موقع پر سورہ نور کی یہ آیات اتریں جن میں ذکر ہے۔
إِنَّ الَّذِینَ جَاءُوْ بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَیرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِی تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِیمٌ۔ لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَیرًا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِینٌ۔(النور:12،13)
یعنی یقینا وہ لوگ جو جھوٹ گھڑ لائے تم ہی میں سےایک گروہ ہے۔اس(معاملہ)کو اپنے حق میں بُرا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارےلئے بہتر ہے۔ان میں سےہر شخص کیلئے ہےجواس نے گناہ کمایا جبکہ ان میں سے وہ جو اس کے بیشتر کا ذمہ دار ہے اس کیلئے بہت بڑا عذاب (مقدر) ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اُسے سنا تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنوں کے متعلق حُسنِ ظن کرتے اور کہتے کہ یہ کھلا کھلا بہتان ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عائشہؓ کی یہ واضح برأت ظاہر ہوجانے کے بعد رسول اللہؐ نے جھوٹا الزام لگانے والے دو مردوں اور ایک عورت کو حدّ قذف کے طور پرسزا بھی دی۔اوربعض روایات کے مطابق اسّی اسّی کوڑے لگوائے۔
حضرت عائشہفرماتی تھیں کہ اس سارے ابتلاء کے دوران مجھے یہ خیال تو تھا کہ میرا مولیٰ ضرور میری بریت فرمائے گا کیونکہ میں معصوم ہوں لیکن میرا اندازہ تھا کہ حضورؐ کو کوئی خواب یا روٴیا آجائے گی۔ مجھ جیسی حقیر کو یہ گما ن بھی نہ تھا کہ میری بریت کے لئے آسمان سے قرآنی وحی اترے گی جو قیامت تک پڑھی جا ئے گی۔ پھر جب آنحضرتؐ کی طرف سے یہ خوشخبری سنانے پر میری والدہ نے مجھے کہا کہ ’’عائشہ اٹھو اور آنحضرتؐکا شکریہ ادا کرو‘‘ تومیں نے کہا ’’میں تو صرف اپنے اللہ کاہی شکر ادا کروں گی‘‘۔
یہ تھی حضرت عائشہؓ صدیقہ کی سچائی اور معصومیت کی داستان جس سے آپؓ کے مقام ِ صدیقیت پر مہرِ تصدیق ثبت کردی گئی۔
بے تکلّف گھریلو ماحول
میاں بیوی کے انتہائی قربت کے رشتہ میں جہاں ایک دوسرے پر اعتماد کے ساتھ توقعات وابستہ ہوتی ہیں، کبھی شکوے بھی جنم لیتے ہیں۔گھریلو سطح پر ہمہ وقت ایک ساتھ رہتے ہوئے میاں بیوی کے درمیان کسی شکایت کا پیدا ہونا یا کسی خلاف طبع بات پر وقتی ناراضگی یا رنجش ایک طبعی امر ہے۔پھر ایک سے زائد بیویوں کی صورت میں تو یہ بات کہیں بڑھ سکتی ہے۔طبعی غیرت کے جذبات کے ساتھ ان نازک تعلقات کو خوش اسلوبی سے استوار رکھنا بھی ایک اہم اور کٹھن مرحلہ ہوجاتا ہے۔جسے سر کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔
رسول اللہؐ کے حسن خلق کا کمال یہ تھا کہ آپؐ نے اپنے گھر میں کبھی کوئی ناقابل تلافی شکایت یا مستقل جھگڑاپیدا نہیں ہونے دیا۔اور کبھی کوئی ہلکے پھلکے مسائل پیدا ہوئے بھی تو آپؐ خوبصورت انداز میں ان کا بہترین حل نکال لیتے تھے۔ ایک دفعہ نبی اکرمؐ نے فرمایا‘‘ اے عائشہ ! جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو مجھے اس کا پتا چل جاتا ہے‘‘ ۔ انہوں نے پوچھا وہ کیسے؟ فرمایا، ’’جب تم مجھ سے راضی یا خوش ہوتی ہو تو بات کرتے ہوئے کہتی ہو رَبّ ِمُحَمّد۔ مجھے محمدؐ کے رب کی قسم ! بات یوں ہے۔ لیکن جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو وربّ ِابراھیمکہ ابراہیمؐ کے رب کی قسم! با ت یوں ہے۔‘‘
حضرت عائشہ نے کہا ’’یارسول اللہؐ ! بات تو ٹھیک ہے مگر خدا کی قسم! اس ناراضگی کے وقت بھی میں صرف آپ کے نام کو ہی چھوڑتی ہوں۔ دل سے آپ کی محبت نہیں جاتی۔‘‘ یہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمدؐکی شان تھی کہ کس طرح آپ نے حضرت عائشہ کو اپنے اخلاق فاضلہ سے گرویدہ کرلیا تھا۔
ایک دن حضرت عائشہ گھر میں آنحضرتؐ سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ ان کے ابّا حضرت ابو بکر تشریف لائے۔یہ حالت دیکھ کران سے رہا نہ گیا اور اپنی بیٹی کو مارنے کیلئے آگے بڑھے کہ خدا کے رسول کے آگے ایسے بولتی ہو۔ آنحضرتؐ یہ دیکھتے ہی باپ اور بیٹی کے درمیان حائل ہوگئے اور حضرت ابو بکر کی کسی سزا سے حضرت عائشہ کو بچا لیا۔ جب حضرت ابوبکر چلے گئے تورسول کریمؐ حضرت عائشہ سے ازراہ تفنن فرمانے لگے۔ دیکھا آج ہم نے تمہیں تمہارے ابا سے کیسے بچایا؟کچھ دنوں کے بعد حضرت ابو بکر دوبارہ تشریف لائے تو حضرت عائشہ آنحضرتؐ کے ساتھ ہنسی خوشی باتیں کررہی تھیں۔ حضرت ابوبکر کہنے لگے دیکھو بھئی تم نے اپنی لڑائی میں تو مجھے شریک کیا تھا اب خوشی میں بھی شریک کرلو۔
حضرت عائشہ اپنا یہ دلچسپ واقعہ بھی سناتی تھیں کہ ایک دفعہ کسی معاملہ میں رسول کریمؐ کے ساتھ میری کچھ تکرار ہوگئی۔آپؐ فرمانے لگے ’’تم کسی کو ثالث بنالو‘‘۔ کیا عمرؓ بن الخطاب منظور ہیں؟ حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے کہا‘‘ نہیں وہ سخت مزاج ہیں‘‘۔ آپؐ نے فرمایا ’’اچھا اپنے والد کو ثالث بنالو‘‘۔ میں نے کہا ٹھیک ہے تب رسول اللہؐ نے حضرت ابوبکر کو بلوا بھیجا اور بات شروع ہوئی تو میں نے رسول کریمؐ سےکہا آپ اللہ سے ڈریں اور سوائے سچ کے کچھ نہ کہیں۔ اس پر حضرت ابوبکر نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا جس سے میرے ناک سے خون بہنے لگا۔وہ فرمانے لگے ’’تمہاری ماں تمہیں کھوئے۔ تم اور تمہارا باپ سچ بولتے ہو اور خدا کا رسول حق نہیں کہتا‘‘۔ رسول کریمؐ نے فرمایا‘‘ اے ابوبکر!ہم نے تجھے اس لئے تو نہیں بلایا تھا‘‘۔ حضرت ابوبکرنےگھر سےایک کھجور کی چھڑی لیکر مجھے مارناچاہا۔ میں آگے آگے بھاگی اور جاکررسول اللہؐ سے چمٹ گئی۔رسول کریمؐ نے حضرت ابوبکر سے کہا میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ اب آپ چلے جائیں۔ ہم نے آپ کو اس لئے نہیں بلایا تھا۔جب وہ چلے گئے تو میں رسول اللہؐ سے الگ ہوکر ایک طرف جابیٹھی۔آپؐ نے فرمایا عائشہ میرے قریب آجاؤ۔میں نہیں گئی تو مسکراکر فرمانے لگے‘‘ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو تم نے اپنے ابّا سے بچنے کیلئےمیری کمر کو زور سے پکڑ رکھا تھااورخوب مجھ سے چمٹی ہوئی تھیں‘‘۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضورؐ کے اخلاق یہی تھے کہ نہایت نرم خو، نہایت کریم اور معزز، ہمیشہ مسکراتے رہنے والے، زندگی بھر آپ نے اپنے کسی خادم یا اپنی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں گھر میں جو ہمارے ساتھ ایسا بے تکلفی کا رہن سہن تھا کہ ہمارے ساتھ گھل مل جاتے ہماری دلچسپیوں میں شامل ہوجاتے کہ ایک دفعہ ازواج مطہرات کو آپ نے تیرہ عورتوں کی کہانی سنائی۔ جنہوں نے اپنے اپنے خاوندوں کے کچے چٹھے خوب کھول کھول کر سنادئے۔ ہر ایک نے بتایا کہ اس کا خاوند کیسا ہے اور کن خوبیوں کا مالک ہے یا اس میں کیا خامیاں ہیں۔ حضورؐ نے ان تمام عورتوں کا حال بیان کرنے کے بعد ایک جوڑے کاذکر کیا اس شخص کا نام کہانی کے مطابق ابو زرعہ بیوی کا نام امّ زرعہ تھا۔ حضورؐنے فرمایا کہ یہ ابو زرعہ اور اُمّ زرعہ بہت ہی اچھا جوڑا اور مثالی جوڑا تھا۔فرمایاکہ ابو زرعہ جیسا شوہر بہت ہی مشکل سے ملتا ہے جو عورتوں کا اتنا لحاظ کرے، اتنے ان کے ناز اٹھائے او رہر لحاظ سے ان کے لئے سہولتیں پیدا کرے۔ باوجودیکہ ابوزرعہ نے امّ زرعہ کو طلاق دے کر اور شادی کر لی تھی۔ مگر امّ زرعہ نے اپنے خاوند کی جی بھر کر تعریف کی کہ اس نے مجھے ہرقسم کا آرام پہنچایا اور کھانے کے لئے وافر دیا اور کہا خود بھی کھاؤ اور اپنے والدین کو بھی بھجواؤ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں پھر رسول کریمؐ نے فرمایاکہ میری اور عائشہ کی مثا ل ابو زرعہ کی سی ہے۔ تم میری ام زرعہ اور میں تمہارا ابوزرعہ ہوں۔
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک دفعہ اپنے باپ حضرت ابوبکر کے جاہلیت کے مال ودولت پرفخرکرتے ہوئے کہا کہ اُن کے پاس کئی لاکھ درہم تھے۔ رسول کریمؐفرمانے لگے۔ ’’اے عائشہ ! رہنے بھی دو۔ میں تمہارے لئے ایسے ہوں جیسے کہانی میں ابوزرعہ اُمّ زرعہ کے لئے تھا‘‘ اس پر حضرت عائشہ نے عرض کیا ’’نہیں یا رسول اللہؐ! آپ میرے لئے ابوزرعہ سے کہیں بہتر ہیں۔‘‘
پاک زبان
حضرت عائشہ گھریلو ماحول میں ایک نہایت بے تکلف مجلس کی بات بتاتی ہیں۔ ایک دفعہ حضورؐ کے سامنےگھرمیں کسی شخص کی بدسلوکی کا ذکر ہوا جو وہ گھر میں یا اہل خاندان کے ساتھ روا رکھتا تھا اتنے میں وہی شخص ملاقات کے لئے حاضر ہوگیا اور اجازت چاہی تو حضورؐبڑی خندہ پیشانی کے ساتھ اس سے ملے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہؐ! ابھی تو آپؐ اس آدمی کا ذکر کر رہے تھے کہ یہ اپنے خاندان سے بدسلوکی کرتا ہے اس کے باوجود آپؐ اس سے بہت حسن سلوک سے پیش آئے اور اس کا لحاظ کیا۔اس پرآنحضورؐنے کتنا خوبصورت جواب دیا۔ فرمایا یا عائشہ! مَتٰی عَاھَدتَّنِی فَحَّاشاً۔ اے عائشہ ! تم نے مجھے پہلے کبھی دیکھا ہے کہ میں کسی کے ساتھ درشتی سے پیش آیا ہوں گویا وہ اپنی خو نہ بدلیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
رسول اللہؐ کی دعائیں
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مجھے کبھی کبھار غصہ آجاتا تو رسول کریمؐ اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر دعا کرتے۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَھَا ذَنْبَھَا وَاَذْھِبْ غَیْظَ قَلْبِھَا وَاَعِذْھَا مِنَ الْفِتَنِ۔
اے اللہ! عائشہ کے گناہ بخش دے اور اس کے دل کا غصہ دور کردے اور اسے فتنوں سے بچالے۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ کے غصے ہونے پر حضورؐ پیار سےان کی ناک پکڑ کرفرماتے اے عُویش (یعنی پیاری عائشہ) یہ دعاکرو۔
اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّبِیِّ مُحَمَدٍّ اِغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَاَذْھِبْ غَیْظَ قَلْبِیْ وَاَجِرْنِیْ مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ
کہ اے اللہ! نبی محمدؐ کے رب! میرے گناہ مجھے بخش دے اور میرے دل کا غصہ دور کردے اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچالے۔
ایک اور واقعہ حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے ایک دفعہ آنحضرتؐکو جو خوشگوار موڈ میں دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! آپ میرے لئے دعا کریں۔ حضورؐ نے حضرت عائشہ کے لئے اسی وقت دعا کی ‘اے اللہ!حضرت عائشہ کو بخش دے۔ اس کے سارے پہلے گناہ بھی اور اس کے آئندہ کے گناہ بھی اور اس کی جو مخفی خطائیں ہیں وہ بھی اور جو ظاہر ہیں وہ بھی معاف کردے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اتنی خوش ہوئی کہ ہنس ہنس کے اپنا سر حضورؐ کی گود میں ڈال دیا۔ میری ہنسی ازراہ تشکّر تھی کہ آج اتنی بڑی مغفرت کی دعا میں نے حضورؐ سے کروالی۔ حضورؐ نے یہ دیکھ کر فرمایا، ’’اے عائشہ! کیا میری دعا نے تمہیں بہت خوش کیاہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ ! یہ ہے ہی خوش ہونے کی بات ! اتنی بڑی دعا آپ نے میرے لئے کردی ہے۔ آپ نے فرمایا ’’عائشہ !یہ دعا میں ہر روز اپنی امت کے لئے کرتا ہوں‘‘
حضرت عائشہؓ کے فضائل اور رسول اللہؐ کا ان سے تعلق محبت
آنحضرتؐ کے ساتھ حضرت عائشہ کی محبت کا یہی عالم تھا۔ ایک دفعہ حضورؐ سے پوچھنے لگیں، کہ مجھے کسی مثال سے سمجھائیں کہ آپ کی محبت میرے ساتھ کیسی ہے؟ فرمایا! عائشہ ! تمہارے ساتھ میری محبت رسّی کی پختہ گرہ کی طرح ہے۔حضرت عائشہ نے پوچھا کہ یارسول اللہؐ! وہ گرہ کیسی ہے؟ فرمایا وہ گرہ بڑی مضبوط اور پختہ ہے۔ اس میں مرور زمانہ سے کوئی فرق نہیں آیا۔ اور واقعی آنحضرتؐ نے حضرت عائشہ کے ساتھ اسی طرح ایک پختہ گرہ کی طرح عمر بھر وہ تعلق نبھایا ہے۔
ایک دفعہ نبی کریمؐ نےفرمایا کہ میں نےعائشہ کو جنت میں دیکھا اور وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے۔ عائشہ کی ہتھیلیوں کی سفیدی مجھے اب بھی نظر آرہی ہے۔ اس کشفی نظارہ میں یہ اشارہ تھا کہ حضرت عائشہ کو جنت میں بھی آپ کی معیت نصیب ہوگی۔
ایک دفعہ آنحضرتؐ سے پوچھا گیا کہ آپ کو لوگوں میں سے سب سے پیارا اور عزیز کون ہے آپؐ نے فرمایا ابوبکر، پوچھا گیا ان کے بعد کون؟ فرمایا کہ ابوبکر کی بیٹی۔ ایک اور موقع پر بعض ازواج نے آنحضرتؐ سے حضرت عائشہ کے بارے میں سوال کیاکہ حضورؐجس طرح محبت و شفقت کا تعلق حضرت عائشہ سے رکھتے ہیں۔ ایسا ہی سلوک ہمارے ساتھ بھی ہونا چاہئے۔ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ مجھے وحی حضرت عائشہ کے بستر میں ہوجاتی ہے۔ اس میں دراصل پیغام تھاکہ حضرت عائشہ کی نیکی و تقویٰ، ذہانت و فطانت اور خدمات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا بھی ان کے ساتھ ایک نرالا سلوک ہے اور اگر ان کی خدمتوں کی وجہ سے میری دلی کیفیت کا میلان ا س طرف ہے تو اس پرمیرا اختیار نہیں۔
اس زمانہ میں یہود مدینہ کے دستورکے برخلاف رسول کریمؐ بیویوں کے مخصوص ایام میں ان کا اور زیادہ خیال فرماتے تھے۔ان کے ساتھ مل بیٹھتے۔بستر میں ان کے ساتھ آرام فرماتے اور ملاطفت میں کوئی کمی نہ آنے دیتے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایام مخصوصہ میں بھی بسااوقات ایسا ہوتا کہ میرے ساتھ کھانا تناول کرتے ہوئے حضورؐگوشت کی ہڈی یا بوٹی میرے ہاتھ سے لے لیتے اور بڑی محبت کے ساتھ اس جگہ منہ رکھ کر کھاتے جہاں سے میں نے اسے کھایا ہوتا تھا۔میں کئی دفعہ پانی پی کر برتن حضورؐ کو پکڑا دیتی تھی۔حضورؐوہ جگہ ڈھونڈ کر جہاں سے میں نے پانی پیا ہوتا تھا وہیں منہ رکھ کر پانی پیتے تھے۔
بیویوں میں عدل
حضورؐ حضرت عائشہ کی نیکی وتقویٰ،ذہانت و فطانت او ر خدمات کی وجہ سے ان سے خاص التفات رکھتے تھے۔ مگر اس کے باوجود آپؐ کا کما ل عدل تھا جو آپ تمام ازواج کے ساتھ حسن سلوک میں رکھنے کی سعی فرماتے تھے۔
رسول کریمؐ کوشش فرماتے کہ تمام بیویوں کے حقوق کی ادائیگی میں سرمُو فرق نہ آئے۔ جنگوں میں جاتے ہوئے بیویوں میں سے کسی کو ساتھ لے جانے کے لئے قرعہ اندازی فرماتے تھے اور جس کے نام کا قرعہ نکلتا اس کو ہمراہ لے جاتے تھے۔
ہر چند کہ آیت تُرْجِی مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِی إِلَیكَ مَنْ تَشَاءُ (الاحزاب:52)یعنی تُو اُن میں سے جنہیں چاہے چھوڑ دے اور جنہیں چاہے اپنے پاس رکھ۔کے مطابق آپؐ کو ازواج کے بارہ میں مکمل اختیاردیا گیا تھا۔اس کے باوجود آپؐ نے یہ اختیاراس حد تک بھی استعمال نہیں فرمایا کہ بلاوجہ معمول کی باریوں میں بھی کوئی تفریق کی ہو۔ حضرت عائشہ اپنے خاص انداز محبت میں عرض کیا کرتی تھیں کہ ’’
اگر یہ اختیار مجھے ہوتا تو میں تو صرف آپؐ کے حق میں ہی استعمال کرتی‘‘ اور پھرواقعی حضرت عائشہؓ نے اس وقت اپنی وفا کا نمونہ دکھایا جب ان کے لئے آنحضرتؐ یا دنیاوی مال ودولت میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا موقع آیا تو آنحضرتؐنے سورۂ احزاب کی آیت ِتخییر(یعنی سورة الاحزاب:29)کی روشنی میں اپنی بیویوں کو یہ فرمایا کہ اگر تم دنیا وی زندگی اور اس کی زینت کی خواہاں ہو تو آؤ میں تمہیں بہت سا مال و منال دے کر رخصت کردیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور یوم ِ آخرت کی طلبگار ہو تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کی نیکی بجالانے والی بیویوں کیلئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہؐ نے یہ اختیار کا آغاز مجھ سے کیا اور مجھ سے نہایت سنجیدگی سے فرمانے لگے‘‘ اے عائشہؓ!میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھنے والا ہوں۔ تم اس بارے میں جلدی مت کرنا اور اپنے والدین سے مشورہ کرکے مجھے جواب دینا‘‘۔
حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ حضورؐ کو معلوم تھا کہ میرے والدین مجھے حضورؐ سے جدائی کا مشورہ کبھی نہیں دیں گے۔ پھر حضورؐ نے مجھے آیتِ تخییر پڑھ کر سنائی۔میں نے کہا‘‘ آپؐ کیسی بات کررہے ہیں۔میں کس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی،مجھے تو بس اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہئے‘‘ آپؓ فرماتی تھیں کہ باقی سب ازواج نے بھی یہی جواب دیا۔
الغرض ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم جو تقویٰ کے بلند اور روشن مینار پر فائز تھے۔ بسااوقات اس خیال سے کہ دل کے جذبوں اور طبعی میلان پر تو کوئی اختیار نہیں اس لئے اگر سب بیویوں کے برابر حقوق ادا کرنے کے بعد بھی میلان طبع کسی بیوی کی جانب ہوگیا تو کہیں میرا مولیٰ مجھ سے ناراض نہ ہوجائے۔ انتہائی مخلصانہ عدل اور منصفانہ تقسیم کےبعد بھی آپ یہ دعا کرتے تھے کہ‘‘ اے اللہ تو جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ انسانی حد تک جو حصّۂ رسدی تقسیم ہوسکتی تھی وہ تو میں کرتا ہوں اور اپنے اختیار سے بَری الذمہ ہوں۔میرے مولیٰ اب دل پر تو میرا اختیار نہیں اگر قلبی میلان کسی کی خوبی اور جوہر قابل کی طرف ہے تو مجھے معاف فرمانا‘‘
مزاج شناس بیوی
حضورؐکوجو آرام اور سکون حضرت عائشہ کے ہاں حاصل تھااس کا علم تمام ازواج مطہرات کو بخوبی تھا۔ اس حوالے سے آخری بیماری میں آپؐ بار بار بے چین ہوکر پوچھتے تھے کہ عائشہ کی باری کب ہے؟ چنانچہ باقی ازواج مطہرات نے خود ہی آپؐ کو حضرت عائشہؓ کے گھر تیمارداری کی اجازت دے دی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آخری بیماری میں جس دن آپؐ میرے گھرتشریف لائےبالکل پُر سکون ہوگئے دیگر ازواج مطہراتؓ نے جب یہ محسوس کیا کہ بیماری کی حالت میں آپؐ کو حسب منشاء آرام و سکون کی ضرورت ہے اور آپؐ کے دلی راحت وسکون کی خاطر متفقہ فیصلہ کرکے یہ عرض کیا کہ یارسول اللہؐ! ہم پسند کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ کے گھر میں ہی اب آپ کی تیمارداری ہو۔ چنانچہ آخری ایام میں حضرت عائشہ مسلسل حضورؐکی تیمارداری فرماتی رہیں۔ آپؓ فرمایا کرتی تھیں اور بجا طور پر آپؓ کو اس بات کا فخر تھا کہ حضورؐنے میرے گھر میں میرے کمرے میں اس حال میں جان دی کہ میرے سینے کے اوپر آپؐ کا سَر تھا اور آخری لمحوں میں میرا لعاب حضورؐکے لعاب کے ساتھ مل گیا اس واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ آخری بیماری میں حضورؐلیٹے ہوئے تھے۔
حضرت عائشہ کے بھائی حضرت عبدالرحمن آئے، ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آپؐ کومسواک کی خواہش پیدا ہوئی۔ حضرت عائشہ نے آپؐ کی نظروں کا مفہوم بھانپ کر حضرت عبدالرحمن کے ہاتھ سے وہ مسواک لی اس کودھو کرچبا کر نرم کیا اور آنحضرتؐ کی خدمت میں پیش کردیا۔حضورؐ نے وہ مسواک استعمال کی۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ‘‘ میں نے رسول اللہؐ و اس سے اچھی مسواک کرتے پہلے نہیں دیکھا تھا۔‘‘ آپؓ فرماتی تھیں ان آخری لمحوں میں حضورؐ نے میرے سینے پر سَر رکھے ہوئے جان دے د ی اور آپؐ کی زبان پر یہ کلمے جاری تھے کہ ’’اپنے اس اعلیٰ دوست کی طرف جاتا ہوں اپنے اس بڑے اور بلند اور بزرگ و برتر دوست کی طرف میں سفر کرتاہوں‘‘ یہ کہتے ہوئے آپؐ اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہوگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُون۔
علمی مقام
حضرت عائشہؓ علمی مزاج رکھتی تھیں۔اگرچہ ان کے خواندہ ہونے کے بارہ میں اختلاف ہے۔تاہم یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس قرآن کا ایک لکھا ہوا نسخہ موجود تھا۔جس سے انہوں نے ایک عراقی مسلمان کو بعض آیات املاء کروائی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے رخصتانہ کے بعد کچھ لکھنا پڑھنا سیکھ لیاہوگا۔
آنحضرتؐکا عائشہ کے ساتھ شادی کا ایک بڑا مقصدیہ تھا کہ وہ آنحضرتؐ کی پاکیزہ صحبت اور تعلیم وتربیت سے فیضیاب ہوں اور علم سیکھیں اور آگے امت کو سکھانے والی ہوں۔ اور آپؐ کا یہ مقصد بدرجہ اتم پورا ہوا۔ آنحضرتؐ نے حضرت عائشہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ اور آپؐ کے اکتساب ِفیض ہی کی بدولت ہمیشہ کے لئے پھر حضرت عائشہ امّت کی معلّمہ بن گئیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ نصف علم حضرت عائشہ سے سیکھو۔ امام زہری روایت کرتے ہیں آنحضرتؐ نے حضرت عائشہ کے علمی مقام کاذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا اگر اس امت کی عورتوں کا علم جمع کیا جائے توعائشہ کاعلم ان تمام عورتوں سے بڑھ جائے۔ حضرت عروہ، حضرت عائشہ کے بھانجے اور بیٹوں کی طرح تھے کسی نےان سے کہا۔
آپ کو بہت اعلیٰ درجے کے شعر یاد ہیں جو آپ برجستہ پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا مگر اپنی خالہ حضرت عائشہ کے مقابلہ میں میری کچھ بھی حیثیت نہیں جو کسی بھی واقعہ یا معاملہ پر عرب شعراء کےکمال برجستہ اور برمحل شعر پڑھتی ہیں۔ حضرت عروہ نے ایک دفعہ حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ امّ المومنین آپ کے علم ِ فقہ سے تو مجھے اسلئے تعجب نہیں ہوتا کہ آپ آنحضرت کی زوجہ مطہرہ ہیں اور عمر بھر آپ نے ان سے مسائل سیکھے ہیں۔آپ کی شعروادب سے دلچسپی اور اہل ِعرب کی جنگوں کی تاریخ جاننے سے بھی حیرت نہیں ہوتی کہ آپ حضرت ابو بکر کی صاحبزادی ہیں،جنہیں ان علوم پر عبور تھا اور اپنے باپ سے یہ علوم آپ نے سیکھے ہوں گے،مگریہ تو بتائیں علم طبّ میں درک آپؓ نےکہاں سے پایا؟ حضرت عائشہ نےفرمایا:۔ اے میرے بھانجے! آخری عمر میں جب آنحضرتؐ بیمار ہوئے تو اس زمانہ میں مختلف علاقوں سے کثرت سے وفود آتے تھے۔ وہ آنحضرتؐ کیلئے مختلف نسخے تجویز کیا کرتے تھے۔ میں اپنے ہاتھ سےوہ نسخے بنایا کرتی تھی۔ اس زمانے سے مجھے طب میں بھی ایک مہارت اور دلچسپی پیدا ہوگئی۔
حضرت عائشہ کے علمی مقام کے بارے میں حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری بیان کرتے تھے کہ صحابہ ٴ رسول کو جب کسی مسئلہ کے بارے میں کوئی الجھن پیش آتی تو ہم حضرت عائشہ سے دریافت کرتے تھے اورہمیں ان کے پاس سے کوئی نہ کوئی بات لازماً اس مسئلے کے بارہ میں مل جایا کرتی تھی۔یہ بات آپ کے شاندارحافظے پر دلالت کرتی ہے۔ حضرت امیر معاویہ خود ایک بہت بڑے خطیب تھے۔ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے حضرت عائشہ سے زیادہ فصیح و بلیغ مقرر اور آپ سے بڑھ کر کوئی ذہین نہیں دیکھا۔ حضرت عروہ بیان کرتے تھے میں نے حضرت عائشہ سے بڑھ کر علم قرآن رکھنے والا، میراث کا علم جاننے والا، حلال وحرام کا عالم، علمِ فقہ، شعروادب، طبّ کا ماہر، تاریخ عرب اور علم الانساب کا عالم کوئی نہیں دیکھا جو بیک وقت ان تمام علوم پر یکساں قدرت رکھتا ہو۔
حضرت علیؓ سے علمی مناسبت
اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہؓ کو جو غیر معمولی علمی مقام عطا کیا تھا وہ دراصل نوعمری سے رسول کریمؐ کی بابرکت صحبت کےفیض کا نتیجہ تھا۔اس پہلو سے آپؓ کو اہل بیت کے ایک اور وجود حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی خاص علمی مناسبت ہے کہ انہوں نے بھی کم سنی میں رسول اللہؐ سے علمی فیض اور ورثہ پایا اور اس ارشاد رسولؐ کے مصداق ہوئے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اسکا دروازہ ہے۔جب ہے کہ بعض لوگ حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ کی باہمی مناقشت ازراہ تکلّف ظاہر کرنے کی بات توکرتے ہیں۔مگر نامعلوم کیوں اس علمی مناسبت اور موافقات کی طرف توجہ نہیں کرتے۔
کئی اہم مشکل علمی مسائل پر ان دونوں بزرگ حضرات کی عالمانہ آراء ہمارے لئے راہنمائی کا موجب ہیں۔ مثلاً امّت میں ایک اہم مسئلہ ختم نبوت کی تفسیر کے بارہ میں پیدا ہونیوالاتھا۔اسکے بارہ میں حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ دونوں بزرگان کی دور بین نگاہ نےبھانپ کرکیا خوب روشنی ڈالی۔ حضرت علیؓ نے تو اپنے بچّوں کے استاد کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ میرے بچّوں کو خاتم النبیین میں لفظ خاتم تاء کی زیر سے نہیں بلکہ زبر سے پڑھانا۔ کیونکہ خاتَم کے معنی مہر اور انگوٹھی، اور خاتِم کے معنی ختم کرنے والےکے ہیں۔
اسی طرح حضرت عائشہؓ نے بھی رسول اللہؐ سے علم پاکر اس اہم موضوع کی طرف امّت کو یہ توجہ دلائی کہ قُولُوْا خَاتَمَ النَّبِیّین وَلَا تَقُوْلُوْا لَانَبِیَّ بَعدَہٗ یہ تو کہو کہ حضورؐ خاتم النبیین ہیں مگر نہ کہو کہ آپؐ کے بعد نبی نہیں۔
اس کے علاوہ آنحضرتؐ کے ان دونوں مایہ ناز شاگردوں کی علمی موافقت کی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً حضرت علیؓ کی رائے میں آیت
یا أَیهَا النَّبِی قُلْ لِأزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیاةَ الدُّنْیا وَزِینَتَهَا فَتَعَالَینَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا(الاحزاب:29)
سےمراد طلاق نہیں تھی بلکہ دنیا وآخرت میں سے کسی ایک چیز کا اختیارمراد تھا۔بعینہٖ یہی رائے حضرت عائشہؓ کی ہے۔
حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ دونوں نبی کریمؐ کی رات کی عبادت کے بارہ میں اس پر متفق ہیں کہ آپؐ رات کے ہر حصّہ میں مختلف اوقات میں نوافل اداکیا کرتے تھے۔
حضرت عائشہؓ اورحضرت علیؓ دونوں کا بیان ہے کہ رسول اللہؐ جب کسی مریض کی عیادت کو تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے۔
أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ اِنّکَ أَنْتَ الشَّافِى لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا یغَادِرُ سَقَمًا۔
ترجمہ: اے انسانوں کے ربّ !بیماری کو دور کردے تو شفاء عطا فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے،تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں،ایسی شفاء دے جوبیماری کو باقی نہ چھوڑے۔
پھر حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ میں باہم احترام کا تعلق تھا۔حضرت مقدادؓ بن شریح اپنےوالد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ مجھے کسی ایسے شخص کے بارہ میں بتائیں جس سے میں موزوں پر مسَح کے مسئلہ کے بارہ میں پوچھ سکوں۔انہوں نے کہا حضرت علیؓ کے پاس جاؤ کہ انکا رسول اللہؐ کے ساتھ ایسا قریبی تعلق تھا کہ ان کے اکثر اوقات حضورؐ کی صحبت میں گزرتے تھے۔ میں نے حضرت علیؓ سے آکر پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہؐ نے ہمیں سفر میں موزوں پر مسح کا ارشاد فرمایا تھا۔ !
سخاوت اور انفاق فی سبیل اللہ
حضرت عائشہ عالمہ، فاضلہ ہونے کے ساتھ بہت خدا ترس اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کرنیوالی اور اسکی راہ میں کھلا خرچ کرنے والی اور بہت سخی بزرگ تھیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیرنے ایک دفعہ آپکو دو تھیلے اشرفیوں کے بھجوائے جن میں ایک لاکھ اسّی ہزار درھم تھے۔ حضرت عائشہ اس دن روزے سے تھیں آپ ان کو تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئیں اور اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ اٹھیں جب تک کہ سارے درہم تقسیم نہیں ہوگئے۔افطاری کے وقت آپ کی لونڈی کہنے لگیں کہ امّ المومنین ! ایک درہم اپنے لئے بھی رکھ لیا ہوتا، اس سے گوشت خرید کر افطاری ہی کرلیتیں۔ فرمانے لگیں کہ تم یاد دلادیتیں تو رکھ بھی لیتے۔ گویا انہیں اپنی ضرورتوں کا بھی خیال نہیں تھااور سب کچھ خداکی راہ میں لٹادیتی تھیں۔‘‘
حضرت امیر معاویہ نے ایک دفعہ لاکھ درہم مالیت کا ہار آپ کی خدمت میں بھجوایا، آپ نے وہ قبول تو کرلیا لیکن تمام ازواج میں اسے برابر طور پر تقسیم کردیا۔
حضرت عائشہ کوئی چیز آئندہ کے لئے بچاکے نہیں رکھتی تھیں جو آتا سب صدقہ کردیتیں۔ یہ سبق بھی دراصل انہوں نے آنحضرتؐ سے ہی سیکھا تھا۔ جنہوں نے آخری بیماری میں بھی حضرت عائشہ کے گھر میں فرمایاتھاکہ اے عائشہ ! وہ درہم کہاں گئے جو میں نے تمہارے پاس رکھے ہوئے تھے پھر وہ درہم منگواکر یہ آخری پونجی بھی صدقہ کردی۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آنحضرتؐکی وفات کے وقت گھر میں کھانے کے لئے سوائے جَو کے ایک تھیلے کے اور کچھ بھی نہیں تھا۔ پھر خدا تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت ڈالی، ختم ہونے کو ہی نہیں آتے تھے۔ ایک دن مجھے خیال آیا کہ دیکھوں تو سہی کہ کتنے جَو باقی رہ گئے ہیں۔ نکال کر جو ان کو ماپا تو تھوڑے دنوں میں ہی ختم ہوگئے۔ %معلوم ہوتا ہے ان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک برکت عطا ہوئی تھی۔
دعا اور عبادت کا شوق
آنحضرتؐاپنی ازواج کی تربیت کے لئے ہمیشہ مواقع کی تلاش میں رہتے تھے اور ان کے دلوں میں محبت الہٰی پیدا کرنا، ذکر الہٰی او رعبادت کے شوق پیدا کرنا آپؐ کا مقصد ہوتا، ایک ایسے ہی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرتؐ فرمانے لگے کہ اے عائشہ ! مجھے اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی صفت کا علم ہے کہ جس کا نام لے کر اگر دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ وہ دعا ضرور قبول کرتا ہے، حضرت عائشہ نے وفور شوق سے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ وہ صفت آپ مجھے ضرور بتائیں، حضورؐ نے فرمایا اے عائشہ ! میرے خیال میں اس صفت کا بتانا اس لئے مناسب نہیں ہے، کہ تم اس کے ذریعے سے کوئی دنیا کی چیز نہ مانگ رہی ہو۔ حضرت عائشہروٹھ کر ایک طرف ہوکر کونے میں بیٹھ رہیں۔ جب آنحضورؐ نے کچھ دیر تک توجہ نہیں فرمائی تو خود ہی اٹھیں اور آکر آنحضرتؐ کی پیشانی کا بوسہ لیا۔جیسے منّت کررہی ہوں اور عرض کیا یا رسول اللہؐ ! دیکھیں ناں !آپؐ مجھے وہ صفت ضرور بتادیں تو آنحضرتؐ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! میں نے تمہیں کہا ہے کہ میں مناسب نہیں سمجھتا کہ آپ اس کے ذریعے کچھ دینا کی چیز چاہو یامانگو، اس لئے میں تمہیں بتانا نہیں چاہتا۔ حضرت عائشہ، پھر ناراض سی ہوکر ایک طرف جابیٹھیں کہ اچھا نہیں بتاتے تو نہ سہی پھر انہوں نے وضو کیا، مصلّیٰ بچھایا اور نماز پڑھ کر حضورؐ کو سنا سناکردعا کرنے لگیں کہ اے اللہ! تجھے اپنے سارے ناموں اور ساری صفتوں کا واسطہ، ان صفتوں کابھی جو مجھے معلوم ہیں اور ان کا بھی جن کو میں نہیں جانتی کہ اپنی اس بندی کے ساتھ عفو کا معاملہ کرنا۔ آنحضرتؐ ایک طرف بیٹھے حضرت عائشہ کی اس دعا کو سن رہےتھے اور آپؐ نے خوش ہوکرفرمایا‘‘ اے عائشہ وہ صفت انہیں صفات میں سے ایک ہے جو تم نے ابھی شمارکردیں اور گن ڈالی ہیں۔‘‘
روحانی مقام
حضرت عائشہ کا روحانی مقام اس بات سے بھی ظاہر ہوتاہےکہ فرشتوں کی آمدورفت آپ کے گھر میں رہتی تھی۔ حضرت عائشہ نےحضرت جبریلؐ کو دیکھااور انہوں نے حضرت عائشہ کو سلام پہنچایا۔
حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ میں نے آنحضرتؐ کو گھوڑے پر سوار دیکھا اور ایک اورآدمی بھی ساتھ گھوڑے پر سوار تھا۔ اس نے گھوڑے کی گردن کے بالوں پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اور اس کی شکل حضرت دحیہ الکلبیؓ سے ملتی تھی جو بہت خوش شکل صحابی تھے۔ حضورؐ ان سے گفتگو فرمارہے تھے۔ میں نے اس واقعہ کا رسول اللہؐسے ذکر کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ الکلبی سے باتیں کرتے دیکھا تھا۔آپؐ نے فرمایا کہ اے عائشہ !وہ جبریلؐ تھے او ر آپ کو سلام کہہ رہے تھے۔ حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ !اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے آپ میری طرف سے بھی ان کو سلام کہیں۔(حضرت عائشہ ایک اور واقعہ یوں بیان کرتی ہیں کہ آنحضرتؐ نماز پڑھ رہے تھے۔میں نے دیکھا کہ باہر سفید کپڑوں میں ملبوس ایک آدمی کھڑا ہے۔ میں نے حضورؐ سے عرض کیا تو آپؐ باہر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ وہ جبریلؐ تھے۔کسی مصلحت سے اندر نہیں آئے انہوں نے آنحضرتؐ کےذریعے حضرت عائشہکو سلام بھجوایا۔ یہ تھا حضرت عائشہ کا وہ بابرکت گھرانہ جہاں آنحضرتؐ کے طفیل فرشتے نازل ہوا کرتے تھے اور فرشتوں سے ملاقاتیں ہوتی تھیں اور آپؐ ان کی طرف سے حضرت عائشہ کو سلامتی کا پیغام پہنچایا کرتے تھے۔)
تواضع وانکساری
اس مقام اور مرتبہ کے باوجود حضرت عائشہ کے تواضع اور انکسار کی کیفیت بھی عجیب تر تھی جس کا سبق انہوں نے آنحضرتؐ سے ہی سیکھا تھا۔ان کی آخری بیماری میں حضرت عبداللہ بن عباس نے عیادت کے لئے حاضر ہونا چاہا۔ حضرت عائشہ کو اجازت دینے میں تامّل ہوا کہ وہ آئیں گے تو تعریف کریں گے اور یہ بات آپ کو ناگوار تھی لیکن جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے بلالیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے آتے ہی آپ کی تسلی اور دلداری کے لئے کچھ باتیں کیں پھر کہنے لگے کہ اب رسول اللہؐ اور دیگر پیاروں سے ملاقات میں صرف روح اور جسم کی جدائی کا معاملہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ اور آپ تو رسول اللہؐ کی سب سے عزیز بیوی تھیں۔ اور اس میں کیا شک ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند نہایت اعلیٰ درجے کی تھی اس لئے آپ کے لئے فکر کی کیا بات ہے؟ آپ کہنے لگیں اور کوئی بات؟ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے کتنی برکتیں عطا کیں۔ تیمّم کا حکم آپ کے ہار گم ہونے پر ہمیں عطا ہوا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کا ذکر کیا اور ان کی برأت کےبارے میں سورة النور میں کئی آیات اتریں۔ یہ تمام باتیں سن کر حضرت عائشہ نے کمال عجز و انکسار سے کہا اے عبداللہ بن عباس ! رہنے بھی دیں ان باتوں کو۔آپ میری پاکیزگی اور نیکی کی یہ باتیں چھوڑیں۔ خدا کی قسم میں تو یہ چاہتی ہوں کہ میں بھولی بسری ہوجاتی اور میرا کوئی نام و نشان نہ ہوتا بس میں نابود ہوجاتی۔
اخلاق رسولؐ
حضرت عائشہ نے بہت ہی باریک بینی سے آنحضرت کے اخلاق کا، آپ کی زندگی کا مطالعہ کرکے اسکا حاصل یہ بیان کیا کہ آپؐ کے اخلاق قرآن تھے۔پھر انہوں نے بڑی تفصیل سے سنّت رسول اللہؐاور اسوہ نبیؐ کے بارہ میں ہمارے لئے ایک ذخیرہ فراہم کیا۔آپؓ سے دو ہزار دو سو احادیث مروی ہیں۔
حضرت عائشہ جس بات کو سب سے زیادہ بیان کرتیں اور جس سے وہ متاثر تھیں وہ آنحضرتؐ کا عبادت الہٰی کے لئے شوق اور جذبہ تھا۔ انہوں نے بار ہا بیان کیا کہ آنحضرتؐ گھر میں عام لوگوں کی طرح رہتے تھے۔ اور گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ مگر جب نماز کا بلاواآتا تو آنحضرتؐ کو نماز کے ساتھ ایسی کشش ہوتی تھی کہ نماز کا نام سنتے ہی لپک کر اٹھتے اور تمام کام کاج چھوڑ کے فوراً نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔,
حضرت عائشہ نے رسول اللہؐ کی رات کی عبادات کا بھی تذکر ہ کیا ہے۔ رمضان ہو یا غیر رمضان حضورؐ گیارہ رکعات اداکرتے اور لمبی نماز پڑھتے تھے۔ فرماتی ہیں نہایت حسین اور خوبصورت وہ نماز ہواکرتی۔ میں نے بسا اوقات یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! آپؐ کے پاوٴں سوج جاتے ہیں اتنی محنت اور مشقت کیوں اٹھاتے ہیں۔ آپؐ فرماتے تھے کہ اے عائشہ! جس خدا نے مجھ پر اتنے فضل کئے کیا اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
یہ تو اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کا ذکر تھا۔ دوسری طرف اہل خانہ کے حقوق کا بھی اسی طرح خیال رکھتے۔
جیسا کہ ذکر ہوا حضر ت عائشہ سے جب حضورؐ کے اخلاق کے بار ہ میں سوال کیا گیا تو فرمانے لگیں کہ آپؐ کے اخلاق تو قرآن تھے یعنی قرآن شریف میں جو احکام یا اخلاق بیان ہوئے ہیں وہ تمام کے تمام بدرجہ اتم آنحضرتؐمیں موجود تھے۔ گویا آپ چلتے پھرتے قرآن تھے۔جب پوچھا گیا کہ گھر میں حضورؐ کی کیا مصروفیات ہوتی تھیں تو حضرت عائشہ نے بیان کیا کہ آپ کا عام انسانوں کی طرح رہن سہن تھا کوئی اظہار تکبر یا کسی بڑائی کے خیال کا تصور ہی نہیں تھا۔ گھر میں رہتے ہوئے آپ اپنے ذاتی کام خود کرلیا کرتے تھے، کپڑے کو پیوند خود لگا لیتے تھے، بکری کا دودھ خود دوھ لیتے تھے، اسے چارہ خود ڈال دیتے تھے، جوتے مرمت فرمالیتے تھے، گھر کا ڈول مرمت فرمالیتے، دینی کاموں یا مجالس سے رات کو جب گھر تشریف لایا کرتے تو اہلِ خانہ کو جگا کر بے آرام نہیں کرتے تھے بلکہ خود ہی دودھ یا کوئی کھانے پینے کی چیز لے لی اور سوگئے۔ گھر والوں کے آرام کا لحاظ رکھتے تھے۔.حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں رات جب نماز کے لئے اٹھتے تھے تو بہت دیر عبادت کرنے کے بعد جب کچھ وقت طلوع فجر میں باقی رہ جاتا تھاتو پھر ہمیں بھی بیدار کرتے تاکہ ہم بھی کچھ نوافل وغیرہ ادا کرلیں۔
تعدّد ازدواج
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سےحضرت خدیجہؓ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انکی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری شادی نہیں کی۔ان کے بعد حضرت سودہؓ سے شادی ہوئی اور پھر حضرت عائشہؓ سے۔
حضرت عائشہؓ وہ تنہا پہلی کنواری خاتون ہیں جو رسول اللہؐ کے عقد میں آئیں۔دیگر ازواج سے بیوگی یا طلاق کے بعد آپؐ کا نکاح ہوا،سوائے حضرت ماریہؓ کے۔تاہم حضرت عائشہؓ کے نکاح سے تعدد ازدواج کا سلسلہ شروع ہوا۔اس لئے یہاں اس بارہ میں مختصروضاحت مناسب ہوگی۔
اسلام میں تعدد ازدواج کا انتظام یا سہولت کسی حکم یاقاعدہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک استثناء ہے۔جس کی اجازت نکاح کے اغراض کے حصول اور نسل انسانی کی جائز ضروریات پورا کرنے کیلئے خاص حالات میں دی گئی ہےاور اسے اس شرط کے ساتھ مشروط کر دیا گیاہےکہ اگر انسان عدل کرنے کے قابل ہو تبھی وہ تعدّدِ ازدواج کرے۔ورنہ ایک بیوی پر اکتفاء کرے اور پھر اسلام کی طرف سے یہ رخصت ان حالات میں دی گئی جبکہ عربوں میں تعدد ازدواج کی کوئی حد بندی نہیں تھی۔ہر شخص جتنی مرضی بیویاں رکھ سکتا تھا۔اسلام نے اس کو ضرورت کی بنیاد پر اور عدل کی شرط کے ساتھ صرف چار تک محدود کر دیا۔
جہاں تک آنحضرتؐ کے تعدد ازدواج کا تعلق ہے بطور ایک مذہبی راہنما اور لیڈر ان کے اغراض اور مقاصد خالصتا ًدینی تھے۔مثلاً یہ کہ آپ کے عملی نمونہ کے ذریعے عربوں کی جاہل رسومات کاخاتمہ ہو۔اسی طرح حضرت زینبؓ بنت جحش سے نکاح کے ذریعے متبنٰی کی رسم کا خاتمہ ہوا۔ایک بڑا مقصد مسلمان عورتوں کی تعلیم و تربیت بھی تھا۔کیونکہ آنحضرتؐ کے ذریعے ایک نئے قانون اور تہذیب وتمدن کی بنیاد پڑنی تھی۔
اگر نبی کریمؐ کی شادیاں نفسانی اغراض کی خاطر ہوتیں تو آنحضرتؐ ادھیڑ عمر، بیوہ اور مطلقہ عورتوں سے نکاح نہ کرتے۔جیسےحضرت امّ سلمہؓ نےخود شادی کےوقت عمر رسیدگی کا عذر بھی کیا۔
پھر جس کنواری خاتون سے شادی ہوئی اور جس کی باری نویں دن آتی تھی اسکا بیان کردہ یہ واقعہ سن کر غور کیجئے کہ کیا یہ شادی محض نفس پرستی کیلئے شمار ہوسکتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ رسول کریمؐ کی کوئی بہت پیاری اور خوبصورت سی بات سنائیں۔ حضرت عائشہ نے فرمایا ان کی تو ہر ادا ہی پیاری تھی۔ایک رات میرے ہاں باری تھی۔ آپ تشریف لائے اور میرے ساتھ بستر میں داخل ہوئے۔ آپ کا بدن میرے بدن سے چھونے لگا۔پھر فرمانے لگے اے عائشہ ! کیا آج کی رات مجھے اپنے رب کی عبادت میں گزارنے کی اجازت دو گی۔میں نے کہا مجھے توآپ کی خواہش عزیز ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں پھر آپ اٹھے، مشکیزہ سے وضو کیا، اورنماز میں کھڑے ہوکر قرآن پڑھنے لگے۔پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ کا دامن آنسوؤں سے تر ہوگیا۔ پھر آپ نے دائیں پہلو سے ٹیک لگائی۔ دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر کچھ توقّف کیا۔ پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے فرشِ زمین بھیگ گیا۔صبح دَم بلال نماز کی اطلاع کرنے آئے تو آپ کو روتے پایا اور عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ!آپؐ بھی روتے ہیں؟ حالانکہ اللہ نے آپ کو بخش دیا۔فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
پھر فرمانے لگے میں کیوں نہ روؤں جبکہ آج رات مجھ پر یہ آیات اتری ہیں اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ والْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ۔آپؐ نے آل عمران کے آخری رکوع کی یہ آیات پڑھیں اور فرمایا ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جس نے یہ آیات پڑھیں اور ان پر غور نہ کیا۔
یہ وہ حقائق ہیں جنکو محقق مستشرقین کیلئے بھی قبول کرنے کےسوا چارہ نہیں۔چنانچہ مسٹر مارگو لیتھ بھی جن کی آنکھ عموماً ہر سیدھی بات کو الٹا دیکھنے کی عادی ہے آنحضرتؐ کے تعدد ازدواج کے بارہ میں حقیقت کے اعتراف پر مجبور ہوتے ہیں۔جیسا کہ اس کتاب کے شروع میں تعدّد ازدواج کے نوٹ میں واضح کیا جاچکا ہے مثلاً یہ کہ: ’’محمدؐ کی بہت سی شادیاں قومی اور سیاسی اغراض کے ماتحت تھیں کیونکہ محمدؐیہ چاہتے تھے کہ اپنے خاص خاص صحابیوں کو شادیوں کے ذریعے سے اپنی ذات کے ساتھ محبت کے تعلقات میں زیادہ پیوست کرلیں۔ ابوبکر وعمر کی لڑکیوں کی شادیاں یقیناً اسی خیال کے ماتحت کی گئی تھیں۔اسی طرح سربر آوردہ دشمنوں اور مفتوح رئیسوں کی لڑکیوں کے ساتھ بھی محمدؐکی شادیاں سیاسی اغراض کے ماتحت وقوع میں آئی تھیں۔‘‘
پروفیسرڈاکٹر ویگلیری لاراویسیا لکھتی ہیں:’’سوائے حضرت عائشہ (اور حضرت ماریہؓ :ناقل) کے آپؐ نے ایسی عورتوں سے نکاح کیا جو نہ تو کنواری تھیں نہ جوان اور نہ ہی غیر معمولی خوبصورت۔ کیا یہی عیاشی ہوتی ہے ؟‘‘
وفات
حضرت عائشہ کی وفات 17/رمضان58ہجری میں آنحضرتؐ کی وفات سے قریباً نصف صدی بعد ہوئی۔ حضرت ابو ہریرہ، مروان کی طرف سے اس وقت مدینہ میں امیر تھے۔ انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔ جہا ں آپ نے تدفین کے لئے وصیت فرمائی تھی۔ دراصل آپ نے اپنے اس حجرے میں جس میں آنحضرتؐ اور حضرت ابو بکر مدفون ہیں، اپنے لئے جگہ رکھی ہوئی تھی، جب حضرت عمر پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ انہوں نے پیغام بھجوایا کہ اے امّ المومنین! اگر مجھے میرے ساتھیوں کے ساتھ تدفین کے لئے جگہ کی اجازت مل جائے تو کیاخوب ہو۔ حضرت عائشہ نے فرمایایہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی ہوئی تھی مگر اب میں اپنے اوپر آپ کو ترجیح دیتی ہوں۔ اپنی وفات سے پہلے آپ نے وصیت فرمائی کہ میں یہ پسند نہیں کرتی کہ باقی بیویوں پر مجھے کچھ ترجیح ہو۔ اس لئے باقی ازواج مطہرات کے ساتھ مجھے بھی جنت البقیع میں دفن کردینا۔ اور یوں حضرت عائشہ اپنے پیاروں کے پاس اپنے محبوب وجو د حضرت محمدؐ کے قدموں میں پہنچ گئیں۔
(بحوالہ اہل بیعت رسول ﷺاز حافظ مظفر احمد صاحب)


