//منظوم کلام ماہ اپریل ۲۰۲۰
urdu_shairy

منظوم کلام ماہ اپریل ۲۰۲۰

کورونا

امة الباري ناصر

کيا کہتا ہے ’کورونا‘ محسوس کيا لوگو

اللہ سے غفلت پر ملتي ہے سزا لوگو

کس جُرم پہ حشر اُٹھا ہر سمت مصائب ہيں

غصّے ميں بھرا ہے وہ کچھ غور کيا لوگو

طوفانِ حوادث ہيں منہ پھاڑے ہوئے ہر جا

وہ رحم کا عادي ہے کيا اُس کو ہوا لوگو

اُلٹاتا ہے کيوں مولا بستي ہوئي بستي کو

پکڑي نہيں کيوں عبرت کيا تم کو ہوا لوگو

وہ کون سي لعنت ہے جس کو نہيں اپنايا

بے راہ روي پر وہ ہوتا ہے خفا لوگو

قران ميں جو باعث لکھے ہيں عذابوں کے

سب آج ہوئے يکجا کيا ہم کو ہوا لوگو

اک قوم تبہ کر کے لے آتا ہے وہ دوجي

سوچو تو کسي نے تھا اِنذار کيا لوگو

پہلے وہ جگاتا ہے سو بار جگاتا ہے

پھر بھي نہ اگر جاگيں ديتا ہے سُلا لوگو

ہر سمت فحاشي کا، عرياني کا سونامي

لا ديني کا سونامي ہے در پہ کھڑا لوگو

اب کشتي مسيحا کي طوفاں سے بچائے گي

جب فيصلہ آ جائے پھر کون بچا لوگو

 

حمد باری تعالیٰ

طاہرہ زرتشت ناز

جدھر ديکھتي ہوں ادھر تو ہي تو

افق تا افق ہے فقط تو ہي تو

بہاروں ميں تو ہےخزاؤں ميں تو

توسورج ميں اور چاند تاروں ميں تو

الله الله اللہ ھو

وحدہ لا شریك له

دلوں ميں بھي پنہاں ہے ظاہر بھي تو

ہر اک من کے اندرہے باہر بھي تو

ہےآغاز تو اور انجام تو

ہے اوّل بھي تو اور آخر بھي تو

اللہ اللہ اللہ ھو

وحدہ لا شریك له

ہے سنگيت ميں تو سخن ميں بھي تو

ہر اک دل کي دھڑکن ميں سانسوں ميں تو

ترے عشق ميں ہم بھي سرشار ہيں

ترے رحم کے ہم طلبگار ہيں

اللہ اللہ اللہ ھو

وحدہ لا شریك له

ہوں پر عيب کوئي نہيں ہے ہنر

مگر دل ميں رکھتي ہوں تيري لگن

رگِ جاں ميں الفت تري موجزن

گواہ اس پہ ہےميرا ہر موئے تن

اللہ اللہ اللہ ھو

وحدہ لا شریك له

تو کر فضل اپنا اے موليٰ کريم

رضا تيري ہوجائے ہم کو نصيب

يقيں ہے ہميں بس ہے تو ہي مجيب

نداء دے مجھے کہہ کے اِنّي قريب

غزل

سعديہ تسنيم سحر

روٹھا محبوب مناتے ہوئے مر جاتے ہيں

روز يہ رسم نبھاتے ہوئے مر جاتے ہيں

بن تيرے خواب، غزل، گيت، چمکتے جگنو

گھر کي دہليز پے آتے ہوئے مر جاتے ہيں

سانس لينا ہے ميرا ديد سے تيري مشروط

ہم تيرے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہيں

پہلے پڑھتے تھے بڑے چاوسے نامے تيرے

اب تيري ياد بھلاتے ہوئے مر جاتے ہيں

تجھ پہ اس زيست کا ا ک پل بھي گراں نہ گزرے

يہ دعا کرتے،کراتے ہوئے مر جاتے ہيں

ستانے والے

امتياز بٹ تاج (ہالينڈ)

کسي کے دل کو دکھانے والےکسي کو آنسو رلانے والے

حقيقتوں کو قبول کر ليں نہ ضد کريں اب ستانے والے

کسي چمن کے حسين غنچے جو روند کر تم مَسل گئے ہو

نئي کہاني رقم کريں گے، نئے ہيں قصے سنانے والے

کسي کي چادر کسي کا بھائ کسي کا بيٹا کسي کي عزت

گواہ بن کر اُٹھيں گے جس دن تو کيا کريں گے زمانے والے

کسي کي آہيں کسي کے آنسو پہنچ رہے ہيں حضور اُس کے

گرفت جس کي بہت قوي ہے اے زورِ بازو دکھانے والے

اذيتيں تو ڈَگر ڈَگر ہيں پہ ہمتيں بھي بلند تر ہيں

نئي طرح سے اُبھر رہے ہيں دبا کے ديکھيں دبانے والے

خموش لب اور پيکرِ غم، بنے مجسم سوال ہيں ہم

خدا کا بھي ڈر نہ تجھ کو آيا خدا کا ہي گھر جلانے والے

عجيب منظر ہے کارواں کا نہيں ہے ڈر اب کسي زياں کا

اِدھر سے راہي بھي چل پڑے ہيں اُدھر سے رستہ دکھانے والے

ززز

آج ہو جائے پھر غزل آخر

فہميدہ مسرت(جرمني)

کھوئے کھوئے نراس بيٹھے ہو

پہنے چُپ کا لباس بيٹھے ہو

ہے سمندر تو دسترس ميں مگر

لے کے دامن ميں پياس بيٹھے ہو

چاند پہلو ميں رکھ کے حيرت ہے

کس لئے تم اُداس بيٹھے ہو؟

آج ہو جائے پھر غزل آخر

حرف چہروں کے پاس بيٹھے ہو

شبِ ظُلمت سے دوستي کرلي

اور اب محوِ ياس بيٹھے ہو

کس قدر يے نوازا قدرت نے

حيف ہے ناسپاس بيٹھے ہو

لوگ ايسے ہيں ويسے ہيں ناحق

خود ہي کر کے قياس بيٹھے ہو

دل ميں پيوست ہے مسرتؔ جو

کوئي تو غم ہے راس بيٹھے ہو

ززز

غزل

(حميرا ناصر)

لکھي جو طبيبوں نے دوا اور ہي کچھ ہے

لگتا ہے مجھے عشق بلا اور ہي کچھ ہے

اس دل کے دھڑکنے کي صدا اب بھي ہے آتي

پہلو ميں جو ٹوٹا ہے پڑا اور ہي کچھ ہے

لائے تھے دل وجان کہ اب نذر کريں گے

ليکن تيرے کوچے کي ہوا اور ہي کچھ ہے

اک عمر اناؤں کي صليبوں پہ ہے گزاري

تنہائي کو سہنے کا مزا اور ہي کچھ ہے

ہنستے ہوئے کہتے ہو مري جان ميں خوش ہوں

آنکھوں ميں چھپا ہےجو گلہ اور ہي کچھ ہے

حيران ہوں دنيا کے ميں اس دوہرے چلن پر

مطلب ہے الگ ان کا، کہا اور ہي کچھ ہے

ززز

وقت رخصت جو نہ ان سے کہہ سکے

آصفہ بلال(پاکستان)

ہجر کي اک رات ہے اور ميں ہوں

درد کي سوغات ہے اور ميں ہوں

جبر کا اک سلسلہ در سلسلہ ہے

اک دور پر آفات ہے اور ميں ہوں

اب تو ہے معمول کے ہر موڑ پر

منتظر اک مات ہے اور ميں ہوں

دل جلا ديتي ہے جس کي بوند بوند

پھر وہي برسات ہے اور ميں ہوں

وقت رخصت جو نہ ان سے کہہ سکے

ان کہي اک بات ہے اور ميں ہوں

ززز

دل تو اب خلوتوں کا عادي ہے

بشري وحيد انجم ( پاکستان)

اس نے يادوں کي پھر ہوا دي ہے

موسم گل بڑا فسادي ہے

ميري صورت تو عام ہے ليکن

فکر کي طرز انفرادي ہے

مجھ سے نالاں ہيں اہلِ فن کيونکہ

ميرا انداز انتقادي ہے

رنگ دنيا کے ہيں عجب ديکھو

کل تھا ماتم تو آج شادي ہے

ترک الفت کا خوف کيا کرنا

دل تو اب خلوتوں کا عادي ہے

اک ترے عارضي سہارے سے

ميں نے اپني کمر ٹکا دي ہے

تُو محبت کي جنگ ميں پيارے

کيوں رقيبوں کا اتحادي ہے

رنگ اس ميں نہيں تکلف کا

زندگي اپني سيدھي سادھي ہے

گھر ميں دبکي پڑي ہوئي سيرت

حسن کي چار سُو منادي ہے

کيوں انا کو مٹا نہيں سکتے

مسئلہ کيا يہ اجتہادي ہے

پوٹلي اس کي ذمہ داري کي

ميں نے اپني کمر پہ لادي ہے

ہر گھڑي جو رفيق ہے انجم

يہ مري قوت ارادي ہے

ززز

مسودہ

(مبشرہ ناز)

مِرے چہرے کي جھريوں کے

ورق ورق ميں رقم ہيں

تيرے ہي نام

کے سفر نامے

ہجر و وِصال کے مابين

اشکوں سے لکھے

انگِنَت باب

يونہي پڑے ہيں

مٹے مٹے سے

لبوں کي جنبش

کو ترستي

بہت سي ان کہي سطريں

اور انتساب کي صورت

مِري پيشاني پر دہکتا

ايک اکيلا بوسہ رکھا ہے

نہ جانے کِتنے

ادھ جلے خوابوں کي راکھ

سے لکھا اک آخري ورق

’’ختم شُد‘‘ کے بعد

رائيٹنگ ٹيبل کے آخري دراز ميں

آج بھي

سرورق کے انتظار ميں

نامکمل پڑا ہے

ززز

مٹھو مياں

تحرير زہرا نگاہ

مٹھو مياں چپ رہو

ٹيوں ٹيوں مت کرو

لال مرچ کھاؤ گے

اپني کہے جاؤ گے

ميري بات بھي سنو

کل سبق پڑھايا تھا

آج تم نے دہرايا

ہوم ورک تو کرو

چونچ ميں کيا درد ہے

رنگ يہ کيوں زرد ہے

دال کھانا کم کرو

ٹيوں ٹيوں مت کرو

کتني بار سمجھاؤں

کتني بار دہراؤں

ايک لفظ تو کہو

ٹيوں ٹيوں مت کرو

کيا کہا سنوں ذرا

مني بي بي کہہ ديا

واہ واہ واہ وا

مٹھو مياں خوش رہو

غزل

منصورہ فضل منؔ

درد لازم ہے گر ہوا ہے عشق

سب يہ کہتے ہيں لا دوا ہے عشق

جان سے کيوں لگائے بيٹھا ہے

بھول جا ايک سانحہ ہے عشق

عشق کي ذد ميں جو بھي آجائے

کيوں سمجھتا ہے اک سزا ہے عشق

عشق تو روح کي ضرورت ہے

عشق کعبہ ہے اور خدا ہے عشق

ايسا کلمہ جو دل سے نکلا ہو

رب رحمٰن سے دعا ہے عشق

مجھ پہ جم جم کہ آج برسا ہے

جيسے بارش ہے اور گھٹا ہے عشق

گر خدا سے ہو منؔ وفا سچي

سب وفاؤں کا پھر صلہ ہے عشق

غزل

شوکت سلطانہ احمد

اصلي شبيہ دکھا رہا تھا کب سے آئينہ

يوں ہي مجھے ستا رہا تھا کب سے آئينہ

ٹکڑے مرے ہي عکس کے دکھلا کے ميري ہي

تنہائياں بٹا رہا تھا کب سے آئينہ

شايد طلسم کوئي اس کے ہاتھ آ گيا

بيتے لمحے دکھا رہا تھا کب سے آئينہ

تا اس کي خستگي کو کوئي جان نہ سکے

ديوار کو سجا رہا تھا کب سے آئينہ

چپ ہو گيا نگہ جو اپنے عکس پر پڑي

کوئي مجھے دکھا رہا تھا کب سے آئينہ

حسرت سے ديکھتے ہو کيا جب يہ چٹخ گيا

اب آئے تم ؟ بلا رہا تھا کب سے آئينہ

صورت تمہاري آنکھ ميں ديکھي تو جانا آج

احمق مجھے بنا رہا تھا کب سے آئينہ

کرچي چبھو کے ياد کي اک، آنکھ ميں مري

شوکت لہو رلا رہا تھا کب سے آئينہ

بوڑھا برگد

حميرا نگہت

جسم کے بوڑھے برگد پر

ماضي کي بے چہرہ شکليں

امربيل کے مانند لپٹي

متواتر دم گھونٹ رہي ہيں

اس اجڑے ويران شجر پر

رہتا ہے اب درد کا سايہ

زہر سي تلخي والي بارش

برس رہي ہے قطرہ قطرہ

کڑوے کسيلے پھل لگتے ہيں

نوکيلے کانٹے اگتے ہيں

يہ بھي کبھي سرسبز شجر تھا

کسي پہ سايہ، کسي کا گھر تھا

ہرا بھرا سا رہنے والا

کتنوں کا منظور نظر تھا