نظم
کنیز بتول نجمہ
کیا مجھ سے میرے مسیح کی عظمت بیان ہو
مہدی لقب ہے اور شاہِ دین کا غلام ہے
رتبے کو چار چاند ہیں اس وقت لگ گئے
جب مصطفے نے خود انہیں بھیجا سلام ہے
پیشانی انکی سورۂ یٰسین جیسی ہے
اور ان کے نین نقش ہیں اذان کی طرح
ہونٹوں پہ جانثار ہیں کوثر کی آیتیں
لہجہ تو ہو بہو لگے قرآنِ کی طرح
چشمۂ سلسبیل ہیں خطبے حضور کے
ہر بات گویا جام شرابِ طہور ہے
نجمہ تو ان کو دیکھ کے بس اتنا کہہ سکی
پیشانی میں جو دِکھتا ہے خالق کا نور ہے

