غزل
آصفہ بلال
یوں نظر سے سوال کرنے میں
خوب ہو تم کمال کرنے میں
ایک جگنو ہی بہت ہے لوگو
روشنی کو بحال کرنے میں
اس کو اک روز تو بچھڑنا تھا
کیا ہے رکھا ملال کرنے میں
کیا ضروری ہے طور پر جایئں
بندگی کو مثال کرنے میں
تیری یادیں ہی بہت ہیں اب تو
زندگی کو محال کرنے میں
ہم نے اک عمر کاٹ دی تنہا
ہجر کو پھر وصال کرنے میں

