غزل
حمیرا ناصر
عشق میں ہم کو پڑا یہ بھی نظارہ دیکھنا
دردو غم اپنے لئے اور سکھ تمہارا دیکھنا
کر دیا خود کو حوالے ہم نے جب طوفان کے
کیا پکاریں ناخدا کو,کیا کنارہ دیکھنا
اب نہیں کرتا گریباں چاک دیوانہ کوئی
اب نیاوحشت کا کوئی استعارہ دیکھنا
سہل تجھ پر بھی نہیں تھی یہ جدائی کہہ گیا
تیرا رک کر مڑ کے وہ مجھ کو دوبارہ دیکھنا
جارہے ہو؟ جاؤ لیکن یاد رکھنا یہ ضرور
جان لے لے گا مری جانا تمہارا دیکھنا
آس ٹوٹی ساتھ چھوٹا ,پاؤں میں جنبش نہیں
ڈھونڈنا کیا نقش پا پھر،کیا ستارہ دیکھنا
ظلم کی آواز پر گر اوڑھ لو گےچپ یونہی
جہل کا نسلوں پہ ہو گا پھر اجارہ دیکھنا

