شعر و شاعری

غزل

Spread the love

حمیرا ناصر

عشق میں ہم کو پڑا یہ بھی نظارہ دیکھنا

دردو غم اپنے لئے اور سکھ تمہارا دیکھنا

کر دیا خود کو حوالے ہم نے جب طوفان کے

کیا پکاریں ناخدا کو,کیا کنارہ دیکھنا

اب نہیں کرتا گریباں چاک دیوانہ کوئی

اب نیاوحشت کا کوئی استعارہ دیکھنا

سہل تجھ پر بھی نہیں تھی یہ جدائی کہہ گیا

تیرا رک کر مڑ کے وہ مجھ کو دوبارہ دیکھنا

جارہے ہو؟ جاؤ لیکن یاد رکھنا یہ ضرور

جان لے لے گا مری جانا تمہارا دیکھنا

آس ٹوٹی ساتھ چھوٹا ,پاؤں میں جنبش نہیں

ڈھونڈنا کیا نقش پا پھر،کیا ستارہ دیکھنا

ظلم کی آواز پر گر اوڑھ لو گےچپ یونہی

جہل کا نسلوں پہ ہو گا پھر اجارہ دیکھنا

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *