درس القرآن ماہ دسمبر ۲۰۱۹
لَوْ لَا جَآءُوْعَلَیْہ بِاَرْبَعَۃِشُھُدَآءُ فِاِذْلَمْ یَاْ تُوْا بِالشُّھُدَآءِ فَاُلٰٓئِکَ عِنْدَاللہِ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ۔ وَلَوْ لَا فَضْلُ اللہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَلَمَسَّکُمْ فِیْ مَا ٓ اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ
(سورۃ النور: 14-15)
ترجمہ
کیوں نہ وہ اس بارہ میں چار گواہ لے آئے ۔ پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو وہی ہیں جو اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں ۔ اوراگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتے تو اس ( فتنہ ) کے نتیجہ میں جس میں تم پڑ گئے تھے ضرور تمہیں ایک بہت بڑا عذاب آلیتا۔
تفسیر
کیوں نہیں لائے اس پر چار گواہ ۔ پس جب نہیں لا سکے گواہ تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔ جو شخص کسی کےمتعلق ایسا کلمہ بولے ۔ اس سے چار گواہ طلب کرنے چاہئیں۔ لیکن اگر وہ اپنی بات کے واسطے چار گواہ پیش نہیں کر سکتا تو وہ جھوٹا اورخودمجرم ہے اورسزا کے لائق ہے ۔
اس سورۃ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے اختلاف کو مٹایا ہے ۔سب سے پہلے زنا کی جڑھ کوکاٹا ہے جو سب سے زیادہ دنیا میں اختلاف کاموجب ہوا کرتاہ ے۔ پھر لوگوں کو بدظنی سے بچنے کے واسطے ہدایت کی ہے اور بے جا تہمت لگانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ جوکوئی کسی پر بے جا تہمت لگاتاہے وہ خوداس میں گرفتار ہوتا ہے۔ امام شعرانی نے لطائف المِنَن میں لکھا ہے کہ مصر میں ایک بزرگ ایک محلہ میں رہتے تھے ۔ چند نوجوان ان کی خدمت میں تھے جن کےمتعلق محلہ والے اس بزرگ پر اتہام باندھتے تھے۔ وہ بزرگ ان کو ہمیشہ نصیحت کرتے مگر وہ باز نہ آتے ۔ آخر تنگ آکر اس بزرگ نے بددعاکی کہ جو جھوٹا ہے وہ وبال پائے۔ اس بد دعا کا یہ نتیجہ ہو ا کہ وہ سارامحلہ کنجروں اور لوطیوں کاہوگیا۔ معاذ اللہ۔
حضرت عائشہ ؓ کی عمر 6 سال کی تھی جب نبی کریم ﷺ سے نکاح ہوا اور9برس کی عمر تھی جب نبی کریم ﷺ اپنے گھر میں لے آئے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم بہت ہی معمولی غذا تنگی سےکھاتے تھے۔ بھلا 9برس کی لڑکی کہاں موٹی تازی ہو گی۔ حضرت عائشہ ؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک جنگ میں گئی تھیں۔ اونٹوں کو چلانے والے لوگ بڑے کج خُلق اورتُند خُو ہوتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ ایک مقام پر ذرا قافلہ سے باہر پاخانہ کی حاجت رفع کرنے کےلئے گئیں۔ وہاں گلے کا ہار ٹوٹ گیا۔اسکے دانے چننے لگیں۔ ذرا دیر ہو گئی ۔نبی کریم ﷺ کے ساتھ کوئی گھنٹہ جرس نہ ہوتا۔ اونٹ والوں نے اونٹ کس لئے اور قافلہ روانہ ہو گیا۔ حضرت عائشہ ؓ واپس آئیں تو دیکھا کہ لو گ چلے گئے تھے۔ آپ ؓ نے سوچا جس وقت نبی کریم ﷺ مقام پر پہنچیں گے اور مجھ کو نہ پائیں گے توکسی کو لینے بھیجیں گے۔
قافلوں میں ایک شخص قافلہ سے پیچھے رہتا ہے۔ وہ آیا۔ توآپؓ اس کے اونٹ پر سوار ہو کر آئیں اور بعض منافقین نے بے ہودہ بکواس شروع کی۔ اللہ تعالیٰ بریّت کر کے ارشاد فرماتا ہے کہ اگر فضل الہٰی سے معافی نہ ہوتی تو حضرت عائشہ ؓ پر اتہام ان سب کو تباہ کردیتا ۔
(حوالہ حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 207-208)
حدیث
رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کے بارے میں فرمایا :
’’فاطمہ ؓ بہشت میں جانے والی عورتوں اور ایمان لانے والی عورتوں کی سردار ہیں‘‘
’’فاطمہ ؓ اس امت کی عورتوں کی سردار ہیں ‘‘
’’فاطمہؓ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں ‘‘
’’فاطمہ ؓ کی رضا سے اللہ راضی ہوتاہے اور آپ کی ناراضگی سے اللہ ناراض ہوتاہے ‘‘
’’جس نے فاطمہ ؓ کو ایذاء دی اس نے رسول ﷺ کو ایذاء دی‘‘
حضرت فاطمہ ؓ حدیث کی روایت میں بہت محتاط تھیں ۔ کتب احادیث میں آپ ؓ سے صرف 18حدیثیں مروی ہیں ۔ آپ ؓ سے روایت کرنے والے حضرت علی ؓ ، حضرت حسن ؓ، حضرت حسین ؓ، حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام سلمہ جیسی جلیل القدر ہستیاں شامل ہیں۔


