//درس القرآن
quran

درس القرآن

.

لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوْءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا ؁ اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا ؁ اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا ؁

(سورة النساء آیت 149 تا 151)

ترجمہ

اللہ سر عام بری بات کہنے کو پسند نہیں کرتا مگر وہ مستثنیٰ ہے جس پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔ اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو یا اسے چھپائے رکھو یا کسی برائی سے چشم پوشی کرو تو یقینا اللہ بہت درگزر کرنے والا (اور) دائمی قدر ت رکھنے والا ہے۔ یقینا وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لائیں گے اور بعض کا انکار کردیں گے اور چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ کی کوئی راہ اختیار کریں۔

تشریح

بلند آواز سے سر عام کسی کو بُرا بھلا کہنا جائز نہیں سوائے اس کے کہ اس نے اس پر ظلم کیا ہو۔ اس آیت میں منکرین حدیث (فرقہ اہل قرآن) کا رد ہے۔ وہ اللہ کے کہے اور رسول کے کہے میں فرق کرتے ہیں اور حدیث نبوی کو نہیں مانتے۔ آیت ۱۵۳ میں اسی مضمون کو مزید پختہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول پر سچا ایمان لاتے ہیں وہ اللہ کے کہے اور رسول کے کہے میں کوئی فرق نہیں کرتے۔

سورة الانعام آیت 125 کی تشریح بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔

1)اللہ تعالیٰ دلوں کی پہچان کا ذکر کرتا ہے۔

2)بعض صحبتیں، مکان، دوست ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے تعلق بدی کی طرف رغبت دلاتا ہے۔

3)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں ستر بار سے زیادہ استغفار فرماتے تھے تا کہ قلب پر رَین (زنگ، میل)تک بھی نہ آئے۔

4)استغفار بہت ضروری ہے ورنہ رین پڑتے پڑتے ختم۔ قفل تک نوبت پہنچتی ہے۔

5)جو لوگ ہدایت پانے کے قابل ہوتے ہیں وہ حق بات کے ماننے کے لئے ہر وقت بشرح صدر تیار ہوتے ہیں جیسے ابراہیمؑ نے اَسْلِمْ کے جواب میں اَسْلَمْتُ (البقرة : ۱۳۲) کہا۔

اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسٰلَتَہٗ : جو شخص خلافت کے لئے منتخب ہوتا ہے اس سے بڑھ کر دوسرا اس منصب کے سزا وار ہرگز نہیں ہوتا۔ کیسی آسان بات تھی کہ خدا تعالیٰ جس کو چاہے مصلح مقرر کردے پھر جن لوگوں نے خدا کے ان مامور کردہ منتخب بندوں سے تعلق پیدا کیا انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کی پاک صحبت میں ایک پاک تبدیلی اندر ہی اندر شروع ہوجاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی آرزو پیدا ہونے لگتی ہے۔

(حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ 182)