//درس القرآن ماہ اکتوبر ۲۰۲۰
quran

درس القرآن ماہ اکتوبر ۲۰۲۰

۔ آیات مع ترجمہ

یا أَیهَا النَّبِی قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِینَ یدْنِینَ عَلَیهِنَّ مِنْ جَلَابِیبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ یعْرَفْنَ فَلَا یؤْذَینَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِیمًا (الأحزاب :60)

اے نبى! تُو اپنى بىوىوں اور اپنى بىٹىوں اور مومنوں کى عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنى چادروں کو اپنے اوپر جھکا دىا کرىں ىہ اس بات کے زىادہ قرىب ہے کہ وہ پہچانى جائىں اور انہىں تکلىف نہ دى جائے اور اللہ بہت بخشنے والا (اور)بار بار رحم کرنے والا ہے ۔

 لَئِنْ لَمْ ینْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِی الْمَدِینَةِ لَنُغْرِینَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یجَاوِرُونَكَ فِیهَا إِلَّا قَلِیلًا(الأحزاب :61)

    اگر منافقىن اور وہ لوگ جن کے دلوں مىں مرض ہے اور وہ لوگ جو مدىنہ مىں جھوٹى خبرىں اڑاتے پھرتے ہىں باز نہىں آئىں گے تو ہم ضرور تجھے (ان کى عقوبت کے لئے) ان کے پىچھے لگا دىں گے پھر وہ اِس (شہر) مىں تىرے پڑوس مىں نہىں رہ سکىں گے مگر تھوڑا۔

تفسیر

اس آیت میں پردے کا جو حکم دیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پردے کےذریعہ غیر مسلم عورتوں کے بالمقابل مسلمان عورتوں کی ایک پہچان رکھی گئی ہے ورنہ یہود شرارتاً کہہ سکتے تھے کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ مسلمان عورت ہے۔اس لیے ہم نے اسے چھیڑا۔

یدْنِینَ عَلَیهِنَّ مِنْ جَلَابِیبِهِنَّ:لٹکا دیں اپنے اوپر اپنی چادروں کو یعنی گھونگٹ کو چہرہ پر بڑھا کر رکھیں۔

(ضمیمہ اخبار بدر قادیان12/اکتوبر1910ء صفحہ 206)

ثُمَّ لَا یجَاوِرُونَكَ فِیهَا: قریب تیرے نہ پھٹکنے پائیں گے۔

یہ آیت کریمہ شیعوں کیلئے قَوِیْ حربہ ہے۔ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ مدینہ سے نہیں نکالے گئے۔ بلکہ بعد الموت بھی نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے حجرے میں دفن کئے گئے۔ گویا حیات و ممات میں آپؐ کی معیت کا شرف حاصل رہا ۔

وَالْمُرْجِفُونَ:کسی کے متعلقین کی نسبت کوئی بَد خبر اُڑا دینے والے۔

ایک آریہ کا اعتراض‘‘عورتیں پردہ کریں مرد کیوں نہ کریں’’کے جواب میں تحریر فرمایا:اوّل: تو مرد عورت میں مساوات کہاں کہ مساوی حقوق دیئے جاویں۔

دوم: عورت کیلئے جو حمل، بچہ جننے، دودھ پلانے کی تکلیف ہوتی ہے اس میں مرد کو کس طرح عورت کے ساتھ مساوات کا حصّہ ہے؟

سوم: عورت کیلئے یہ تکالیف باسباب پَتَرجنم خیال کی جاویں تو بقیہ عدم مساوات کا عُذر وسیع کیوں نہ کیا جاوے ۔ چہارم: یہ آیت جس کا حوالہ سوال میں دیا گیا یہ ہے۔یا أَیهَا النَّبِی قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِینَ… اِلٰی… كَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِیمًا اور اسکے ماقبل یوں ہے:

إِنَّ الَّذِینَ یؤْذُونَ…الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِینًا (الأحزاب آیت58-59)

ترجمہ : اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ کہ بڑی چادریں اوڑھ لیا کریں۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا۔ کہ وہ پہچانی جائیں گی۔ اور ستائی نہ جائیں گی۔ اور اﷲ غفور رحیم ہے۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو خواہ نخواہ بغیر ان کے اکتساب کے ایذا دیتے ہیں وہ بہتان اور بڑی بدکاری کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور اس کے بعد یہ آیت ہے۔

لَئِنْ لَمْ ینْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِی الْمَدِینَةِ لَنُغْرِینَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یجَاوِرُونَكَ فِیهَا إِلَّا قَلِیلًا  (آیت:61)

یعنی اگر یہ منافق اور دل کے بیمار اور مدینہ میں بُری خبریں اُڑانے والے باز نہیں آئیں گے تو ہم تجھے ان کی سزا دہی پر آمادہ کریں گے۔ پھر یہ مدینہ میں تیرے قرب و جوار میں رہنے نہیں پائیں گے۔ ان آیات کا مطلب اور قصّہ یہ ہے کہ مدینہ کے بعض بدمعاش مسلمان عورتوں کو چھیڑتے تھے اور عورتوں کو دُکھ دے کر ان کے متعلق لوگوں کو تکلیف پہنچاتے تھے۔ چونکہ بظاہر مومن ہونے کے مدّعی تھے اس لئے جب پکڑے جاتے تو عذر کر دیتے کہ اس کو ہم نے پہچانا نہیں۔اسی واسطے یہ نشان لگایا گیا۔ غور کرو۔ یہ کلمہ قرآن کریم کا أَنْ یعْرَفْنَ فَلَا یؤْذَینَ َ اورماقبل کی آیت کس قدر صفائی سے بتاتی ہے کہ بڑی چادر ایک نشان تھا اور ان سے واضح ہوتا ہے کہ ایک شرارت کی بندش اسلام نے کی ہے۔ اس لئے اس نشان کے بعد فرمایا کہ اب بھی اگر شریر شرارت سے باز نہ آئے تو ہم ان کو خوفناک سزا دیں گے۔ افسوس ایسے نشانوں اور سچی باتوں پر اعتراض کیا جاتا ہے۔

سنو! اس قسم کے نشان کیسے ہر جگہ موجود ہیں۔ غور کرو۔ منو۔ اودھیائے 2کے شلوک 215۔ ماں بہن لڑکی ان سب کے ساتھ اکیلے مکان میں نہ رہے۔ کیونکہ اندر ی بہت بلوان ہیں۔ پنڈتوں کو بھی بُری راہ پہ کھینچ لاتی ہیں اور 214 میں ہے کام کرودھ۔ سہت پنڈت ہو یا مُورکھ ہو۔ اس کو بُری راہ میں لے جانے کے واسطے استری لوگ سامرتھ رکھتی ہے۔

ستیارتھ کے تیسرے سملاس فقرہ 4 صفحہ42: لڑکوں اور لڑکیوں کی پاٹھ شالا ایک دوسرے سے دو کوس دور ہونی چاہیئے۔ جو معلّمہ یا معلّم یا نوکر چاکر ہوں۔ لڑکیوں کے مدرسوں میں سب عورتیں اور مردانہ مدرسہ میں مرد ہوں۔ زنانہ مدرسہ میں پانچ برس کا لڑکا اور مردانہ پاٹھ شالا میں پانچ برس کی لڑکی بھی نہ جانے پاوے۔

مطلب یہ کہ جب تک وہ برہم چاری یا برہم چارنی رہیں۔ تب تک عورت و مرد کے باہمی دیدار۔ مَس ۔ اکیلا رہنے۔ بات چیت کرنے۔ شہوتی کھانے۔ باہم کھیلنے۔ شہوت کا خیال اور شہوتی صُحبت۔ ان آٹھ قسم کی زناکاری سے الگ رہیں۔سوچو اگر پردہ کی رسم جو اسلام نے قائم کی ہے۔ نہ رہے۔ تو ان آٹھ قسم کے زنا میں دیدار اور شہوت کے خیال کا کیا حال ہوگا۔

لَئِنْ لَمْ ینْتَهِ الْمُنَافِقُونَ …اِلیٰ…أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیلًا: یعنی اگر یہ منافق اور دل کے بیمار اور مدینہ میں بُری خبریں اڑانے والے اب بھی باز نہ آئیں تو ہم تجھے اے پیغمبر انکی سزا دہی پر متوجہ کریں گے۔ پھر یہ لوگ تیرے پڑوس میں نہیں رہنے پائیں گے۔ ہر طرف سے دھکّے دیئے جائیں گے جہاں کہیں پائے جائیں گے۔ پکڑے جائیں گے اور قتل کئے جائیں گے… یہ قتل کے احکام ان بدمعاشوں کے متعلق ہیں۔ جنہوں نے مومن ایماندار مردوں کو اور مومنہ ایماندار عورتوں کو بے وجہ دُکھ دینا اپنا پیشہ بنا رکھا تھا اور پھر با اینکہ ان کو سمجھایا گیا۔ جب بھی فساد اور بغاوت پر تلے رہے۔(حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ420تا422)