اداریہ

اداریہ مارچ ۲۰۲۰

Spread the love

مدثرہ عباسی۔ مدیرہ

کمزور اور ذہین طالب علم

میرے مضمون کے مخاطب ایسے بچے ہیں جو چھوٹی کلاسوں میں تعلیم حاصل کر میرے مضمون کے مخاطب ایسے بچے ہیں جو چھوٹی کلاسوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں طالب علم کلاس میں کمزور ہے تو اس سے عموماً ہم یہ مراد لیتے ہیں کہ اس کا ذہن جو اس کو ورثہ میں ملا ہے نسبتاً کمزور ہے اور دوسروں کے مقابل میں اچھا نہیں ہے۔ اکثر اوقات ہمارا یہ فیصلہ غلط ہوتا ہے۔ بہت سے طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو محض ذہانت کی کمی کی وجہ سے کمزور ہوتے ہیں بلکہ اکثر طالب علم ایسے بھی ہوتے ہیں جو باوجود اعلیٰ ذہانت رکھنے کے کلاس میں کمزور ہوتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جو طالب علم کی کمزوری کا باعث بنتی ہیں اور جن سے اکثر بچے باوجود ذہین ہونے کے تعلیم میں کمزور ہوجاتے ہیں۔ چھوٹی عمر کے بچوں کی صورت میں یہ ذمہ داری ان کے والدین کی ہے اور اس صورت میں والدین کا اپنے فرائض سے کوتاہی کرنا بچے کے مستقبل کے لئے خطرہ مول لینا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین کو کبھی یہ خیال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ وہ بچے کی تعلیمی حالت کے متعلق معلوم کریں۔ وہ اپنے کاروبار اور ملازمت میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ ان کے لئے وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے اور وہ بچے کو اس کے حال پر چھوڑنا پسند کرتے ہیں ۔اس میں شک نہیں کہ اگر والدین اپنے بچے کی کمزوری کو محسوس کرنے کے بعد اس کو دور کرنے کی کوشش کریں تو خاطر خواہ اچھے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

اس ضمن میں مختلف قسم کے مسائل کو سمجھنے کے لئے مختلف ذہن کے بچوں کو مختلف عمروں کی ضرورت ہوگی۔ پھر جاکر ہم ان سے اچھے نتائج کی توقع کرسکتے ہیں۔ اکثر اوقات کم درجہ کے ذہین بچوں کی صورت میں عمر کا وقفہ بڑھا دینے سے اچھے نتائج مل سکتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ بچوں کو جانچتے وقت ان کی ذہانت کی روشنی میں ان کی عمر کو خاص طور پر مدنظر رکھیں۔

سکول میں بعض ایسے مشغلے ہوتے ہیں جو بچوں کی دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں جن میں وہ اپنا وقت ضائع کردیتے ہیں۔ اس طرح ان کی سکول کے کاموں میں دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔ بچوں کو ایسے کاموں سے متنفر کرنا اور علیحدہ کرنا نہایت ضروری ہے مثلاً کبوتر بازی ، پتنگ بازی وغیرہ۔ ایسے مشغلے میں پڑ کر ان کی اگلی زندگی خراب ہوجاتی ہے۔ بعض بچے سکول کی کھیلوں میں کثرت سے حصہ لینے کی وجہ سے کلاس میں کمزور ہوتے ہیں۔ اگر بچے کی صحت اچھی ہے اور وہ کسی کھیل میں اچھا ہے اور استاد بھی اس کی سفارش کرتا ہے تو اس بچے کو کھیل سے دلچسپی لینے سے روکنا نہیں چاہیے کیونکہ ایسے بچوں کے لئے تعلیم کا دلچسپ بنایا جانا نسبتاً زیادہ ضروری ہے۔ اس میں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ اس کو آہستہ آہستہ اس کی تعلیم کی طرف متوجہ کریں۔ اس ضمن میں والدین بچوں کی اس طرح راہنمائی کریں تو وہ صحت مندرہے گا اور اس کا تعلیمی معیار بھی بہتر رہے گا۔ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ سوسائٹی خواہ سکول کے اندر ہو یا باہر ہردو صورتوں میں بچوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ بلاشبہ سوسائٹی بچوں کے کردار پر اور سیرت پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔

سوسائٹی ایک تیز رو ہے جس سے بچے اچھے یا برے ہوسکتے ہیں۔ اگر کسی بری سوسائٹی کا اثر کافی عرصہ تک بدستور رہے گا تو یہ بچوں کے تعلیمی معیار اور مستقبل کے لئے اچھا نہیں۔علاوہ ازیں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تعلیمی حالت دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے یہ معلوم کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ہمارے بچے کلاس میں کیسے ہیں  اور ہم کوئی چارہ نہ کر پاکر اپنا فیصلہ ادھورا ہی چھوڑ دیتے ہیں اس صورت میں یہ باتیں قابل غور ہیں۔ امتحانات کے نتائج ہمارے لئے اس وقت تسلی بخش ہوسکتے ہیں اگر وہ صحیح صحیح ہم تک پہنچتے  ہوں۔ بچے عموماً ان کو مبالغہ آمیز بنا کر والدین تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور بات بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ آیا بچے نے ایمانداری سے یہ نتیجہ حاصل کیا ہے ۔ یہ بات ہمیں شبہ کی طرف لے جاتی ہے کیوں کہ بچوں کا نامناسب ذرائع سے کام لینا بعید از قیاس نہیں ہے اور استاد کے لئے بھی مکمل نگرانی بوقت امتحان مشکل امر ہے۔ اس ضمن میں دوسری بات یہ کہ والدین کو چاہیے کہ بچوں کا ہوم ورک ، اس کی درستی، صفائی اور اپ ٹو ڈیٹ رکھنا اور استاد کے ریمارکس کو چیک کرنا یہ باتیں بچے کی کلاس میں دلچسپی اور تعلیمی حالت کو ظاہر کرتی ہے۔

اگر بچے سکول کا دیا ہوا کام گھر پر آکر نہیں کرتے اور اکثر نہیں کرتے تو آپ کو اس کے کمزور ذہن کی فکر کرنی چاہیے۔ اگر ایسا نہیں تو یقین رکھیں اور فکر نہ کریں آپ کا بچہ ذہین ، ہوشیار قسم کا طالب علم ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *